ٹیگ کے محفوظات: زر

ہوتے نہ یوں ہمارے جواں دربدر خراب

کرتے نہ ہم جو اہلِ وطن اپنا گھر خراب
ہوتے نہ یوں ہمارے جواں دربدر خراب
اعمال کو پرکھتی ہے دنیا مآل سے
اچھا نہ ہو ثمر تو ہے گویا شجر خراب
اک بار جو اتر گیا پٹٹری سے دوستو
دیکھا یہی کہ پھر وہ ہوا عمر بھر خراب
منزل تو اک طرف رہی اتنا ضرور ہے
اک دوسرے کا ہم نے کیا ہے سفر خراب
ہوتی نہیں وہ پوری طرح پھر کبھی بھی ٹھیک
ہو جائے ایک بار کوئی چیز گر خراب
اے دل مجھے پتہ ہے کہ لایا ہے تو کہاں
چل خود بھی اب خراب ہو مجھ کو بھی کر خراب
اِس کاروبارِ عشق میں ایسی ہے کیا کشش
پہلے پدر خراب ہوا پھر پسر خراب
اک دن بھی آشیاں میں نہ گزرا سکون سے
کرتے رہے ہیں مجھ کو مرے بال و پر خراب
رہ رہ کے یاد آتی ہے استاد کی یہ بات
کرتی ہے آرزوئے کمالِ ہنر خراب
اِس تیرہ خاکداں کے لیے کیا بِلا سبب
صدیوں سے ہو رہے ہیں یہ شمس و قمر خراب
لگتا ہے اِن کو زنگ کسی اور رنگ کا
کس نے کہا کہ ہوتے نہیں سیم و زر خراب
اک قدر داں ملا تو یہ سوچا کہ آج تک
ہوتے رہے کہاں مرے لعل و گہر خراب
خاموش اور اداس ہو باصرؔ جو صبح سے
آئی ہے آج پھر کوئی گھرسے خبر خراب
باصر کاظمی

ٹھکانہ تھا جہاں اب وُہ شجر ،اچّھا نہیں لگتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
مری صورت ہے جو بے بال و پر ، اچّھا نہیں لگتا
ٹھکانہ تھا جہاں اب وُہ شجر ،اچّھا نہیں لگتا
ذرا سا بھی جو چہرے کو تکدّر آشنا کردے
اُنہیں ہم سا کوئی شوریدہ سر اچّھا نہیں لگتا
بہت کم گھر نفاذِ جبر پر چُپ تھے، سو اچّھے تھے
مگر یوں ہے کہ اب سارا نگر اچّھا نہیں لگتا
قدم بے سمت ہیں اور رہنما منصب سے بیگانہ
ہمیں درپیش ہے جو وُہ سفر اچّھا نہیں لگتا
مثالِ کودکاں بہلائے رکھنا بالغوں تک کو
ہنر اچُھا ہے لیکن یہ ہنر اچّھا نہیں لگتا
چہکنا شام کو چڑیوں کا ماتم ہے گئے دن کا
مگر ماتم یہ ہنگامِ سحر اچّھا نہیں لگتا
گلوں نے جن رُتوں سے ہیئتِ پیغام بدلی ہے
غضب یہ ہے ہَوا سا نامہ بر اچّھا نہیں لگتا
کہیں کیونکر نہ ماجِد زر سے ہی جب سُرخیٔ خوں ہے
نہیں لگتا ہمیں فقدانِ زر، اچّھا نہیں لگتا
ماجد صدیقی

یعنی مرگ و فنا کا نامہ بر ٹھہروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
سُوکھا پتّا یا میں اُڑتا پر ٹھہروں
یعنی مرگ و فنا کا نامہ بر ٹھہروں
اپنے آپ میں رہنا ہی کیا ٹھیک نہیں
آسمان کا میں کیوں کر ہمسر ٹھہروں
کُوچۂ حرص میں اپنی خیر منانے کو
خیر کا مدِمقابل ٹھہروں، شر ٹھہروں
خبر خبر ہیں چَوکھٹے نت نت ماتم کے
سوچتا ہوں کس کس کا نوحہ گر ٹھہروں
مثلِ صبا اپنا جی بھی بس چاہے یہی
غنچہ غنچہ چٹکوں، پیغمبر ٹھہروں
کسے خبر کل نطق کے ناطے نگر نگر
میں بے قیمت بھی گنجینۂ زر ٹھہروں
ماجد صدیقی

دیس سے ہٹ کر کون ٹھکانہ گھر سا ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
جس کا اندر جنّت کے اندر سا ہو
دیس سے ہٹ کر کون ٹھکانہ گھر سا ہو
بیشک دِل اُس میں اُلجھے پر فتنہ وُہ
زن سا اور زمیں اور نہ زر سا ہو
رحمتِ یزداں تک سے بھی وہ ڈر جائے
جس کھیتی پر بادل ٹوٹ کے برسا ہو
اُس خطّے میں اچّھے دن کم کم آئیں
تخت جہاں کا بھی حقدار کو ترسا ہو
گُنی بہت اور اپنی آن کا رکھوالا
جس کا بیٹا ہو میرے یاور سا ہو
اپنے یہاں گھر بار کے سب دکھ سہنے کو
حوصلہ ہو تو ماجِد وُہ ساگر سا ہو
ماجد صدیقی

وُہ کہ اوروں کو میّسرہے،مجھے کیونکر نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
اب خُدا سے بھی مجھے کہنے میں یہ، کُچھ ڈر نہیں
وُہ کہ اوروں کو میّسرہے،مجھے کیونکر نہیں
نیّتیں بھی جب نہیں ہیں صاف، نظریں بھی علیل
کب یہ مانیں ہم کہ خرمن میں کوئی اخگر نہیں
جانے کیا ہے جو بھی رُت بدلے رہے رنگ ایک سا
حال جو پہلے تھا،اُس سے اب بھی کُچھ بہتر نہیں
بس فقط اُلٹا ہے تختہ اور کُچھ جانیں گئیں
بہرِ غاصب،فرق یُوں ہونے میں ذرّہ بھر نہیں
بچپنے سے رگ بہ رگ تھا جو رچاؤ لُطف کا
دیس کے اندر بہت ہے،دیس سے باہر نہیں
آخرش ایسا ہی ماجِد ہر کہیں ہو گا رقم
تُم نے اپنا نام کب لکّھا بہ آبِ زر نہیں
ماجد صدیقی

ختم ہونے ہی نہیں پاتا شجر کا انتظار

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
رگ بہ رگ پیہم لئے برگ و ثمر کا انتظار
ختم ہونے ہی نہیں پاتا شجر کا انتظار
کوئی منزل ہو ٹھہرتی ہے وہ کیوں مل کر سراب
ہر مسافر کو ہے کیوں تازہ سفر کا انتظار
رزق تک بھی روٹھنے کو جیسے ہم ایسوں سے ہے
جو بھی ہے کھلیان اُس کو ہے شرر کا انتظار
کاوشِ اظہارِ حق سے کب بہم ہو گا اِنہیں
اہلِفن کو جانے کیوں ہے سیم و زر کا انتظار
تشنہ لب خوشوں کی آنکھیں بوندیوں پر ہیں لگی
بحر کو بہرِ تموّج ہے قمر کا انتظار
اک سے اک بے جان سُورج اپنے پہلو میں لیے
ہر سحر سونپے ہمیں، اگلی سحر کا انتظار
کرب کے آنسو طرب کے آنسوؤں میں کب ڈھلیں
آنکھ کو ماجدؔ ہے کیوں پھر بھی گہر کا انتظار
ماجد صدیقی

آنکھوں کی سیپیوں میں گہر ڈھونڈنے پڑے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
موتی پئے جمال ہنر ڈھونڈنے پڑے
آنکھوں کی سیپیوں میں گہر ڈھونڈنے پڑے
جنگل میں طائروں کی چہک، آہوؤں کا رم
کیا کیا نہ ہمرہانِ سفر ڈھونڈنے پڑے
آئے گا کل کے بعد جو دن، اُس کو پاٹنے
کیا کیا جتن نہ شام و سحر ڈھونڈنے پڑے
اپنے ہی جسم و جان کی پیہم کرید سے
ماجد ہمیں خزائنِ زر ڈھونڈنے پڑے
ماجد صدیقی

اِک نظر اے کاش مڑ کر دیکھتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
ہم تمہیں مہ کے برابر دیکھتے
اِک نظر اے کاش مڑ کر دیکھتے
جھانکتے اِک بار گر تم بام سے
دل میں برپا ہم بھی محشر دیکھتے
ہاں تمہارا لمس گر ہوتا بہم
سرسراتی ہاتھ میں زر دیکھتے
موج جیسے سبزۂ ساحل پہ ہو
تم ہمیں خود پر نچھاور دیکھتے
ماجد صدیقی

کھِل اُٹھا ہے حاصلِ شر دیکھ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
وُہ مرے ٹُوٹے ہوئے پر دیکھ کر
کھِل اُٹھا ہے حاصلِ شر دیکھ کر
حرفِ حق پر ہے گماں کُچھ اور ہی
ہاتھ میں بچّوں کے پتھر دیکھ کر
کیا کہوں کھٹکا تھا کس اِنکار کا
کیوں پلٹ آیا ہُوں وُہ در دیکھ کر
آنکھ میں رقصاں ہے کیا سیندھور سا
آ رہا ہوں کس کا پیکر دیکھ کر
بال آنے پر جُڑے شیشہ کہاں
کہہ رہا ہے آئنہ گر، دیکھ کر
یاد آتا ہے وُہ کم آمیز کیوں
جیب میں مزدور کی زر دیکھ کر
دیکھنا ماجدؔ، دیا بن باس کیا
موج کو دریا نے خود سر دیکھ کر
ماجد صدیقی

چمن سے شور اُٹھا ’’الحذر‘‘ کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
ہوا نے یُوں بدن نوچا شجر کا
چمن سے شور اُٹھا ’’الحذر‘‘ کا
اترنا اشک کا نوکِ مژہ پر
سرِ میزان تُلنا ہے گہر کا
ہم ایسوں سے سلوک اُس کا ہے جیسے
تعلق مفلسوں سے اہلِ زر کا
نشیمن ہی نہیں اِک نُچنے والا
لگا ہے اب تو کھٹکا بال و پر کا
ہمیں احوال سن کر کارواں کا
ہُوا ماجدؔ نہ یارا ہی سفر کا
ماجد صدیقی

کہ بے قصور نہ بستی میں کوئی گھر دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
وہ فردِ جرم کا غلبہ ہے دربہ در دیکھا
کہ بے قصور نہ بستی میں کوئی گھر دیکھا
بدن میں خوف سے پائی سکت نہ جنبش کی
یہ انکسار بھی باوصفِ بال و پر دیکھا
بس اِتنا یاد ہے قصہ گرانیٔ شب کا
کوئی گلاب نہ کِھلتا دم سحر دیکھا
لہو کی آنچ لیے جو بھی تا بہ لب آیا
وہ حرف بعد میں لکھا بہ آبِ زر دیکھا
ہُوا ہو برق کی مانند سامنا جس سے
جدا نہ ذہن سے ہوتا ہوا وہ ڈر دیکھا
چمن کا حال وہ ماجدؔ! کہے گا کیا جس نے
ہر ایک شاخ کے پہلو میں ہو تبر دیکھا
ماجد صدیقی

تیر کھانے ہیں پھر جگر پہ ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 64
سر جھکانا ہے اُس کے در پہ ہمیں
تیر کھانے ہیں پھر جگر پہ ہمیں
بھیج کر اُس نے کب خبر لی ہے
زندگانی کے اِس سفر پہ ہمیں
تتلیوں سی لگے نہ ہاتھ لگے
اعتبار اب نہیں سحر پہ ہمیں
آنکھ اٹھنے نہ دے کسی جانب
زہر کا سا گماں ہے زر پہ ہمیں
ہم سے کہہ کر وہ اپنے آنے کی
ٹانک دیتا ہے بام و در پہ ہمیں
جانے کیونکر گماں صحیفوں کا
ہونے لگتا ہے چشمِ تر پہ ہمیں
جانے کس خوف کی لگے ماجدؔ
چھاپ سی اک نگر نگر پہ ہمیں
ماجد صدیقی

ہر ایک رت کو رہا دعوئے ہنر کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
دئے جو روند نکھارے بھی ہیں شجر کیا کیا
ہر ایک رت کو رہا دعوئے ہنر کیا کیا
تھے کتنے خواب جو تعبیر کو ترستے رہے
قریبِ موسم گل کٹ گئے شجر کیا کیا
نہ اب وہ آنکھ میں جنبش نہ ابروؤں میں وہ خم
ترے بغیر ہیں سنسان بام و در کیا کیا
ہوا زمیں سے تمازت فلک سے درپے تھی
چلے ہیں اب کے برس شاخ پر تبر کیا کیا
ملی پناہ بھی آخر تو دستِ گلچیں میں
گلوں کو نرغۂِ صر صر سے تھا مفر کیا کیا
یہ آنسوؤں کے گہر بالیاں یہ آہوں کی
ملی ہمیں بھی ہے ورثے میں سیم و زر کیا کیا
ماجد صدیقی

بچھڑنے والوں میں اک میرا ہمسفر ہی نہ تھا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 26
تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھا
بچھڑنے والوں میں اک میرا ہمسفر ہی نہ تھا
برہنہ شاخوں کا جنگل گڑا تھا آنکھوں میں
وہ رات تھی کہ کہیں چاند کا گزر ہی نہ تھا
تمھارے شہر کی ہر چھاؤں مہرباں تھی مگر
جہاں پہ دھوپ کھڑی تھی وہاں شجر ہی نہ تھا
سمیٹ لیتی شکستہ گلاب کی خوشبو
ہوا کے ہاتھ میں ایسا کوئی ہنر ہی نہ تھا
میں اتنے سانپوں کو رستے میں دیکھ آئی تھی
کہ ترے شہر میں پہنچی تو کوئی ڈر ہی نہ تھا
کہاں سے آتی کرن زندگی کے زنداں میں
وہ گھر ملا تھا مجھے جس میں کوئی در ہی نہ تھا
بدن میں پھیل گیا شرخ بیل کی مانند
وہ زخم سوکھتا کیا، جس کا چارہ گر ہی نہ تھا
ہوا کے لائے ہوئے بیج پھر ہوا میں گئے
کھلے تھے پھول کچھ ایسے کہ جن میں زر ہی نہ تھا
قدم تو ریت پہ ساحل نے بھی رکھنے دیا
بدن کو جکڑے ہوئے صرف اک بھنور ہی نہ تھا
پروین شاکر

زردی رنگ و چشم تر ہے شرط

دیوان پنجم غزل 1642
عشق کو جرأت و جگر ہے شرط
زردی رنگ و چشم تر ہے شرط
بے خبر حال سے نہ رہ میرے
میں کہے رکھتا ہوں خبر ہے شرط
حج کو جاوے تو شیخ کو لے جا
کعبے جانے کو یہ بھی خر ہے شرط
پیسوں پر ریجھتے ہیں یہ لڑکے
عشق سیمیں تناں کو زر ہے شرط
خام رہتا ہے آدمی گھر میں
پختہ کاری کے تیں سفر ہے شرط
خبث یاروں کا کر فسانوں میں
عیب کرنے کو بھی ہنر ہے شرط
لعل پارے ہیں میر لخت جگر
دیکھ کر خون رو نظر ہے شرط
میر تقی میر

کعبہ و دیر کے ایوانوں کے گرے پڑے ہیں در کے در

دیوان پنجم غزل 1610
عشق خدائی خراب ہے ایسا جس سے گئے ہیں گھر کے گھر
کعبہ و دیر کے ایوانوں کے گرے پڑے ہیں در کے در
حج سے جو کوئی آدمی ہو تو سارا عالم حج ہی کرے
مکے سے آئے شیخ جی لیکن وے تو وہی ہیں خر کے خر
رنج و تعب میں مرتے دیکھے ہم نے ممسک دولت مند
جی کے جی بھی عبث جاتے ہیں ان لوگوں کے زر کے زر
مسلم و کافر کے جھگڑے میں جنگ و جدل سے رہائی نہیں
لوتھوں پہ لوتھیں گرتی رہیں گی کٹتے رہیں گے سر کے سر
سخت مصیبت عشق میں یہ ہے جانیں چلی جاتی ہیں لیک
ہاتھ سروں پر ماریں گے تو بند رہیں گے گھر کے گھر
کب سے گرمی عشق نے میرے چشمۂ چشم کو خشک کیا
کپڑے گلے سب تن کے لیکن وے ہیں اب تک ترکے تر
نکلے اب کے قفس میں شاید کوئی کلی تو نکلے میر
سارے طیر شگفتہ چمن کے ٹوٹے گئے وے پر کے پر
میر تقی میر

کہ وے نرگسی زن تھے گلہاے تر پر

دیوان پنجم غزل 1608
کئی داغ ایسے جلائے جگر پر
کہ وے نرگسی زن تھے گلہاے تر پر
گیا میری وادی سے سیلاب بچ کر
نظر یاں جو کی عشق کے شیرنر پر
سر رہ سے اس کے موئے ہی اٹھیں گے
یہ جی جا رہا ہے اسی رہگذر پر
سر اس آستاں پر رگڑتے گئے ہیں
ہوئے خون یاروں کے اس خاک در پر
ہم آتا اسے سن کے جیتوں میں آئے
بنا زندگانی کی ہے اب خبر پر
اسے لطف اس کا ہی لاوے تو لاوے
نہیں وصل موقوف کچھ زور و زر پر
سرکتے نہیں شوق کشتوں کے سر بن
قیامت سا ہنگامہ ہے اس کے در پر
اتر جو گیا دل سے روکش ہو اس کا
چڑھا پھر نہ خورشید میری نظر پر
بھری تھی مگر آگ دل میں دروں میں
ہوئے اشک سوزش سے اس کی شرر پر
گیا پی جو ان آنسوئوں کے تئیں میں
سراسر ہیں اب داغ سطح جگر پر
سرعجز ہر شام تھا خاک پر ہی
تہ دل تھی کیسی ہی آہ سحر پر
پلک اٹھے آثار اچھے نہ دیکھے
پڑی آنکھ ہرگز نہ روے اثر پر
طرف شاخ گل کی لچک کے نہ دیکھا
نظر میر کی تھی کسو کی کمر پر
غزل در غزل صاحبو یہ بھی دیکھو
نہیں عیب کرنا نظر اک ہنر پر
میر تقی میر

پردے میں چشم ڈھکنے دیوار و در بنے ہے

دیوان دوم غزل 1054
عبرت سے دیکھ جس جا یاں کوئی گھر بنے ہے
پردے میں چشم ڈھکنے دیوار و در بنے ہے
ہیں دل گداز جن کے کچھ چیز مال وے ہیں
ہوتے ہیں ملتفت تو پھر خاک زر بنے ہے
شب جوش غم سے جس دم لگتا ہے دل تڑپنے
ہر زخم سینہ اس دم یک چشم تر بنے ہے
یاں ہر گھڑی ہماری صورت بگڑتی ہے گی
چہرہ ہی واں انھوں کا دو دو پہر بنے ہے
ٹک رک کے صاف طینت نکلے ہے اور کچھ ہو
پانی گرہ جو ہووے تو پھر گہر بنے ہے
ہے شعبدے کے فن میں کیا دست مے کشوں کو
زاہد انھوں میں جاکر آدم سے خر بنے ہے
نکلے ہے صبح بھی یاں صندل ملے جبیں کو
عالم میں کام کس کا بے درد سر بنے ہے
سارے دکھوں کی اے دل ہوجائے گی تلافی
صحبت ہماری اس کی ٹک بھی اگر بنے ہے
ہر اک سے ڈھب جدا ہے سارے زمانے کا بھی
بنتی ہے جس کسو کی یک طور پر بنے ہے
برسوں لگی رہے ہیں جب مہر و مہ کی آنکھیں
تب کوئی ہم سا صاحب صاحب نظر بنے ہے
یاران دیر و کعبہ دونوں بلا رہے ہیں
اب دیکھیں میر اپنا جانا کدھر بنے ہے
میر تقی میر

کیا کہوں میں آہ مجھ کو کام کس پتھر سے ہے

دیوان دوم غزل 1051
ربط دل کو اس بت بے مہر کینہ ور سے ہے
کیا کہوں میں آہ مجھ کو کام کس پتھر سے ہے
کس کو کہتے ہیں نہیں میں جانتا اسلام و کفر
دیر ہو یا کعبہ مطلب مجھ کو تیرے در سے ہے
کیوں نہ اے سید پسر دل کھینچے یہ موے دراز
اصل زلفوں کی تری گیسوے پیغمبرؐ سے ہے
کاغذ ابری پہ درد دل اسے لکھ بھیجیے
وہ بھی تو جانے کہ یاں آشوب چشم تر سے ہے
کیا کہیں دل کچھ کھنچے جاتے ہیں اودھر ہر گھڑی
کام ہم بے طاقتوں کو عشق زورآور سے ہے
رحم بھی دینا تھا تھوڑا ہائے اس خوبی کے ساتھ
تجھ سے کیا کل گفتگو یہ داورمحشر سے ہے
کیا کروں گا اب کے میں بے پر ہوس گلزار کی
لطف گل گشت اے نسیم صبح بال و پر سے ہے
مرنے کے اسباب پڑتے ہیں بہت عالم میں لیک
رشک اس پر ہے کہ جس کی موت اس خنجر سے ہے
ناز و خشم و بے دماغی اس طرف سے سب ہیں یہ
کچھ کسو بھی طور کی رنجش بھلا ایدھر سے ہے
دیکھ گل کو ٹک کہ ہر یک سر چڑھا لیتا ہے یاں
اس سے پیدا ہے کہ عزت اس چمن میں زر سے ہے
کانپتا ہوں میں تو تیرے ابروئوں کے خم ہوئے
قشعریرہ کیا مجھے تلوار کے کچھ ڈر سے ہے
اشک پے درپے چلے آتے تھے چشم زار سے
ہر نگہ کا تار مانا رشتۂ گوہر سے ہے
بادیے ہی میں پڑا پاتے ہیں جب تب تجھ کو میر
کیا خفا اے خانماں آباد کچھ تو گھر سے ہے
میر تقی میر

بے خود ہیں اس کی آنکھیں ان کو خبر کہاں ہے

دیوان دوم غزل 1038
مستی میں جا و بے جا مدنظر کہاں ہے
بے خود ہیں اس کی آنکھیں ان کو خبر کہاں ہے
شب چند روز سے میں دیکھا نہیں وہ چہرہ
کچھ سوچ کر منجم بارے قمر کہاں ہے
سیمیں تنوں کا ملنا چاہے ہے کچھ تمول
شاہدپرستیوں کا ہم پاس زر کہاں ہے
جوں آرسی کرے ہے منھ دیکھنے کی باتیں
دل کی توجہ اس کی ہمدم ادھر کہاں ہے
پانی ہو بہ گئے سب اجزا بدن کے لیکن
یوں بھی کہا نہ ان نے وہ چشم تر کہاں ہے
خضر و مسیح سب کو جیتے ہی موت آئی
اور اس مرض کا کوئی اب چارہ گر کہاں ہے
لے اس سرے سے یارو اجڑی ہے اس سرے تک
اقلیم عاشقی میں آباد گھر کہاں ہے
اٹھنے کی اک ہوس ہے ہم کو قفس سے ورنہ
شائستۂ پریدن بازو میں پر کہاں ہے
پیرانہ سر چلے ہیں اٹھ کر گلی سے اس کی
کیا پیش آوے دیکھیں وقت سفر کہاں ہے
جاتا نہیں اگر وہ مسجد سے میکدے کو
پھر میر جمعہ کی شب دو دو پہر کہاں ہے
میر تقی میر

گاڑ دیویں کاش مجھ کو بیچ میں در کے ترے

دیوان دوم غزل 971
آہ روکوں جانے والے کس طرح گھر کے ترے
گاڑ دیویں کاش مجھ کو بیچ میں در کے ترے
لالہ و گل کیوں نہ پھیکے اپنی آنکھوں میں لگیں
دیکھنے والے ہیں ہم تو رنگ احمر کے ترے
بے پرو بالی سے اب کے گوکہ بلبل تو ہے چپ
یاد ہیں سب کے تئیں وے چہچہے پر کے ترے
آج کا آیا تجھے کیا پاوے ہم حیران ہیں
ڈھونڈنے والے جو ہیں اے شوخ اکثر کے ترے
دیکھ اس کو حیف کھا کر سب مجھے کہنے لگے
واے تو گر ہیں یہی اطوار دلبر کے ترے
تازہ تر ہوتے ہیں نوگل سے بھی اے نازک نہال
صبح اٹھتے ہیں بچھے جو پھول بستر کے ترے
مشک عنبر طبلہ طبلہ کیوں نہ ہو کیا کام ہے
ہم دماغ آشفتہ ہیں زلف معنبر کے ترے
جی میں وہ طاقت کہاں جو ہجر میں سنبھلے رہیں
اب ٹھہرتے ہی نہیں ہیں پائوں ٹک سر کے ترے
داغ پیسے سے جو ہیں بلبل کے دل پر کس کے ہیں
یوں تو اے گل ہیں ہزاروں آشنا زر کے ترے
کوئی آب زندگی پیتا ہے یہ زہراب چھوڑ
خضر کو ہنستے ہیں سب مجروح خنجر کے ترے
نوح کا طوفاں ہمارے کب نظر چڑھتا ہے میر
جوش ہم دیکھے ہیں کیا کیا دیدئہ تر کے ترے
میر تقی میر

سر بھی اس کا کھپ گیا آخر کو یاں افسر سمیت

دیوان دوم غزل 785
ہے زباں زد جو سکندر ہو چکا لشکر سمیت
سر بھی اس کا کھپ گیا آخر کو یاں افسر سمیت
چشمے آب شور کے نکلا کریں گے واں جہاں
رکھیں گے مجھ تلخ کام غم کو چشم تر سمیت
ہم اٹھے روتے تو لی گردوں نے پھر راہ گریز
بیٹھ جاوے گا یہ ماتم خانہ بام و در سمیت
مستی میں شرم گنہ سے میں جو رویا ڈاڑھ مار
گر پڑا بے خود ہو واعظ جمعہ کو منبر سمیت
بعث اپنا خاک سے ہو گا گر اس شورش کے ساتھ
عرش کو سر پر اٹھالیوں گے ہم محشر سمیت
کب تلک یوں لوہو پیتے ہاتھ اٹھا کر جان سے
وہ کمر کولی میں بھرلی ہم نے کل خنجر سمیت
گنج قاروں کا سا یاں کس کے کنے تھا سو تو میر
خاک میں ملتا ہے اب تک اپنے مال و زر سمیت
میر تقی میر

ہوکر فقیر صبر مری گور پر گیا

دیوان اول غزل 161
بیتابیوں کے جور سے میں جب کہ مر گیا
ہوکر فقیر صبر مری گور پر گیا
اے آہ سرد عرصۂ محشر میں یخ جما
جلتا ہوں میں سنوں کہ جہنم ٹھٹھر گیا
کاکل میں نہیّں خط میں نہیں زلف میں نہیں
روز سیہ کے ساتھ مرا دل کدھر گیا
مفلس سو مر گیا نہ ہوا وصل یار کا
ہجراں میں اس کے جی بھی گیا اور زر گیا
تیری ہی رہگذر میں یہ جی جارہا ہے شوخ
سنیو کہ میر آج ہی کل میں گذر گیا
میر تقی میر

کچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا

دیوان اول غزل 107
دل جو زیرغبار اکثر تھا
کچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا
اس پہ تکیہ کیا تو تھا لیکن
رات دن ہم تھے اور بستر تھا
سرسری تم جہان سے گذرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا
دل کی کچھ قدر کرتے رہیو تم
یہ ہمارا بھی ناز پرور تھا
بعد یک عمر جو ہوا معلوم
دل اس آئینہ رو کا پتھر تھا
بارے سجدہ ادا کیا تہ تیغ
کب سے یہ بوجھ میرے سر پر تھا
کیوں نہ ابر سیہ سفید ہوا
جب تلک عہد دیدئہ تر تھا
اب خرابہ ہوا جہان آباد
ورنہ ہر اک قدم پہ یاں گھر تھا
بے زری کا نہ کر گلہ غافل
رہ تسلی کہ یوں مقدر تھا
اتنے منعم جہان میں گذرے
وقت رحلت کے کس کنے زر تھا
صاحب جاہ و شوکت و اقبال
اک ازاں جملہ اب سکندر تھا
تھی یہ سب کائنات زیر نگیں
ساتھ مور و ملخ سا لشکر تھا
لعل و یاقوت ہم زر و گوہر
چاہیے جس قدر میسر تھا
آخر کار جب جہاں سے گیا
ہاتھ خالی کفن سے باہر تھا
عیب طول کلام مت کریو
کیا کروں میں سخن سے خوگر تھا
خوش رہا جب تلک رہا جیتا
میر معلوم ہے قلندر تھا
میر تقی میر

زرِ تہذیب کے بدلے اسے تہذیبِ زر دیں گے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 107
وہ شہرِ بے انا کو کثرتِ اشیا سے بھر دیں گے
زرِ تہذیب کے بدلے اسے تہذیبِ زر دیں گے
کبھی تعبیر سے انکی کھلا تھا باغ دنیا کا
اگر یہ خواب سچے ہیں تو دوبارہ ثمر دیں گے
ترا پیغام برحق ہے، مگر تعمیل مشکل ہے
زیادہ سے زیادہ ہم تجھے دادِ ہنر دیں گے
کرشمے دیکھتے جاؤ خداوندانِ مغرب کے
کہ وہ انسان کو آخر میں نا انسان کر دیں گے
شکوہِ سبزِ بے موسم صلہ ہے سخت جانی کا
تمہیں اس کی گواہی برف زاروں کے شجر دیں گے
آفتاب اقبال شمیم

کہ میرے کیسۂِ خواہش میں زر زیادہ نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 80
فقیر ہوں مجھے لٹنے کا ڈر زیادہ نہیں
کہ میرے کیسۂِ خواہش میں زر زیادہ نہیں
کرن کی قید میں ہے آئینے کی بینائی
میں اس کو دیکھ تو سکتا ہوں پر زیادہ نہیں
ہمارے دور میں تو واقعہ بھی کرتب ہے
یہ ہم جو دیکھتے ہیں، معتبر زیادہ نہیں
اور ان میں ایک درِ مے کدہ بھی شامل ہے
غمعں سے بچ کے نکلنے کے در زیادہ نہیں
میں اس کی شکل بناتا ہوں، پر نہیں بنتی
قلم کی نوک میں تابِ ہنر زیادہ نہیں
میں اہلِ دل کی ثنا خوانیوں میں رہتا ہوں
بلا سے، نام مرا مشتہر زیادہ نہیں
آفتاب اقبال شمیم

وُہ نغمہ زار اس آواز کے بنجر سے آگے ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 76
خیالوں کا نگر، اُجڑے ہوئے منظر سے آگے ہے
وُہ نغمہ زار اس آواز کے بنجر سے آگے ہے
نفس ۔ اک موجِ کم آواز ہے لیکن روانی میں
لہو کی ٹہنیوں کو کاٹتی حر حر سے آگے ہے
کبھی بیگانگی کا فاصلہ طے ہو نہیں پایا
ہمارے ساتھ کا گھر بھی ہمارے گھر سے آگے ہے
وہ خواب افروز منظر چشم و دل کی سیر گاہوں کا
ابھی آگے ہے اِس اقلیمِ زور و زر سے آگے ہے
کبھی حیرت، فصیل لفظ توڑے تو خبر آئے
کہ معنی کا جہاں الفاظ کی کشور سے آگے ہے
ابھی یہ ریزہ ریزہ روشنی مٹی میں گرنے دے
نمو کا مرحلہ آنکھوں کی خاکستر سے آگے ہے
آفتاب اقبال شمیم

نکلا نہیں دیوار کے اندر کا اندھیرا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 20
ویسے تو بہت دھویا گیا گھر کا اندھیرا
نکلا نہیں دیوار کے اندر کا اندھیرا
کچھ روشنیِٔ طبع ضروری ہے وگرنہ
ہاتھوں میں اُتر آتا ہے یہ سر کا اندھیرا
وُہ حکم کہ ہے عقل و عقیدہ پہ مقدّم
چھٹنے ہی نہیں دیتا مقدر کا اندھیرا
کیا کیا نہ ابوالہول تراشے گئے اس سے
جیسے یہ اندھیرا بھی ہو پتھر کا اندھیرا
دیتی ہے یہی وقت کی توریت گواہی
زر کا جو اجالا ہے وُہ ہے زر کا اندھیرا
ہر آنکھ لگی ہے اُفق دار کی جانب
سورج سے کرن مانگتا ہے ڈر کا اندھیرا
آفتاب اقبال شمیم

ان خرابوں سے تو اچھا تھا وہ گھر جیسا بھی تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 56
تھا کہیں اک حاصلِ رنجِ سفر جیسا بھی تھا
ان خرابوں سے تو اچھا تھا وہ گھر جیسا بھی تھا
اب تو یہ پرچھائیاں پہچان میں آتیں نہیں
ان میں اک چہرہ چراغِ بام و در جیسا بھی تھا
دل کی بے رنگی سے بہتر تھی لہو کی ایک بوند
وہ بھی اک سرمایہ تھا اے چشمِ تر جیسا بھی تھا
خاک تھا اپنا بدن آخر بکھرنا تھا اسے
ہاں مگر اس خاک میں کچھ گنجِ زر جیسا بھی تھا
کچھ ہواؤں کا بھی اندازہ نہ تھا پہلے ہمیں
اور کچھ سر میں غرورِ بال و پر جیسا بھی تھا
کون مانے گا کہ اس ترکِ طلب کے باوجود
پہلے ہم لوگوں میں کچھ سودائے سر جیسا بھی تھا
عرفان صدیقی

آنکھ کیا لگنا کہ اِک سودائے سر کا جاگنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 20
خواب میں بھی میری زنجیرِ سفر کا جاگنا
آنکھ کیا لگنا کہ اِک سودائے سر کا جاگنا
اَگلے دِن کیا ہونے والا تھا کہ اَب تک یاد ہے
انتظارِ صبح میں وہ سارے گھر کا جاگنا
بستیوں سے شب نوردوں کا چلا جانا مگر
رات بھر اَب بھی چراغِ رہ گزر کا جاگنا
آخری اُمید کا مہتاب جل بجھنے کے بعد
میرا سو جانا مرے دیوار و دَر کا جاگنا
پھر ہواؤں سے کسی امکان کی ملنا نوید
پھر لہو میں آرزوئے تازہ تر کا جاگنا
ایک دِن اُس لمس کے اَسرار کھلنا جسم پر
ایک شب اِس خاک میں برق و شرر کا جاگنا
اُس کا حرفِ مختصر بیداریوں کا سلسلہ
لفظ میں معنی کا، معنی میں اثر کا جاگنا
بے نوا پتّے بھی آیاتِ نمو پڑھتے ہوئے
تم نے دیکھا ہے کبھی شاخِ شجر کا جاگنا
یک بیک ہر روشنی کا ڈوب جانا اور پھر
آسماں پر اک طلسمِ سیم و زر کا جاگنا
عرفان صدیقی

عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 292
آئینہ کون ہے کچھ اپنی خبر ہو تو کہوں
عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں
اُس تجلی پہ کوئی نظم کوئی تازہ غزل
مہرباں قوسِ قزح بار دگر ہو تو کہوں
درد کے طے یہ مراحل تو ہوئے ہیں لیکن
قطرہ پہ گزری ہے کیا، قطرہ گہر ہو تو کہوں
ہمسفر میرا پتہ پوچھتے کیا ہو مجھ سے
کوئی بستی، کوئی چوکھٹ، کوئی در ہو تو کہوں
کوئی شہ نامہء شب، کوئی قصیدئہ ستم
معتبر کوئی کہیں صاحبِ زر ہو تو کہوں
قیس صحرا میں مجھے ساتھ تو لے جائے گا
آتشِ غم کا کوئی زادِ سفر ہو تو کہوں
کیسے لگتی ہے مجھے چلتی ہوئی بادِ سحر
کبھی برفائی ہوئی رات بسر ہو تو کہوں
یہ پرندے تو ہیں گل پوش رتوں کے ساتھی
موسمِ زرد میں آباد شجر ہو تو کہوں
کون بے چہرگیِ وقت پہ تنقید کرے
سر بریدہ ہے یہ دنیا، مرا سر ہو تو کہوں
رات آوارہ مزاجی کا سبب پوچھتی ہے
کیا کروں کوئی ٹھکانہ کوئی گھر ہو تو کہوں
کشتیاں کیوں بھری آتی ہیں بجھے گیتوں سے
کیا ہے اس پار مجھے کوئی خبر ہو تو کہوں
ایک ہی پیڑ بہت ہے ترے صحرا میں مجھے
کوئی سایہ سا، کوئی شاخِ ثمر ہو تو کہوں
دہر پھولوں بھری وادی میں بدل سکتا ہے
بامِ تہذیب پہ امکانِ سحر ہو تو کہوں
زندگی رنگ ہے خوشبو ہے لطافت بھی ہے
زندہ رہنے کا مرے پاس ہنر ہو تو کہوں
میں تماشا ہوں تماشائی نہیں ہو سکتا
آئینہ خانہ سے کوئی مجھے ڈر ہو تو کہوں
سچ کے کہنے سے زباں آبلہ لب ہوتی ہے
سینہء درد میں پتھر کا جگر ہو تو کہوں
میری افسردہ مزاجی بھی بدل سکتی ہے
دل بہاروں سے کبھی شیر و شکر ہو تو کہوں
تُو بجھا سکتی ہے بس میرے چراغوں کو ہو ا
کوئی مہتاب ترے پیشِ نظر ہو تو کہوں
رائیگانی کا کوئی لمحہ میرے پاس نہیں
رابطہ ہجر کا بھی زندگی بھر ہو تو کہوں
پھر بلایا ہے کسی نیلے سمندر نے مجھے
کوئی گرداب کہیں کوئی بھنور ہو تو کہوں
پھر تعلق کی عمارت کو بنا سکتا ہوں
کوئی بنیاد کہیں کوئی کھنڈر ہو تو کہوں
عید کا چاند لے آیا ہے ستم کے سائے
یہ بلائیں ہیں اگر ماہِ صفر ہو تو کہوں
اس پہ بھی ترکِ مراسم کی قیامت گزری
کوئی سسکاری کوئی دیدئہ تر ہو تو کہوں
ایک مفروضہ جسے لوگ فنا کہتے ہیں
"یہ تو وقفہ ہے کوئی ، ان کو خبر ہو تو کہوں
کتنے جانکاہ مراحل سے گزر آئی ہے
نرم و نازک کوئی کونپل جو ثمر ہو تو کہوں
یہ محبت ہے بھری رہتی ہے بھونچالوں سے
جو اُدھر ہے وہی تخریب اِدھر ہو تو کہوں
مجھ کو تاریخ کی وادی میں سدا رہنا ہے
موت کے راستے سے کوئی مفر ہو تو کہوں
آسماں زیرِ قدم آ گئے میرے لیکن
قریہء وقت کبھی زیر و زبر ہو تو کہوں
ختم نقطے کا ابھی دشت نہیں کر پایا
خود کو شاعر کبھی تکمیلِ ہنر ہو تو کہوں
اہل دانش کو ملا دیس نکالا منصور
حاکمِ شہر کوئی شہر بدر ہو تو کہوں
زندگی ایسے گزر سکتی نہیں ہے منصور
میری باتوں کا کوئی اس پہ اثر ہو تو کہوں
پوچھتے کیا ہو ازل اور ابد کا منصور
ان زمانوں سے کبھی میرا گزر ہو تو کہوں
منصور آفاق

نہ وہ دیوار کی صورت ہے، نہ گھر کی صورت

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 37
اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے، نہ گھر کی صورت
کس سے پیمان وفا باندھ رہی ہے بلبل
کل نہ پہچان سکے گی گل تر کی صورت
اپنی جیبوں سے رہیں سارے نمازی ہشیار
اک بزرگ آتے ہیں مسجد میں خضر کی صورت
دیکھئے شیخ مصور سے کھچے یا نہ کھچے
صورت اور آپ سے بے عیب بشر کی صورت
واعظو آتش دوزخ سے جہان کو تم نے
یہ ڈرایا ہے کہ خود بن گئے ڈر کی صورت
کیا خبر زاہد قانع کو کہ کیا چیز ہے حرص
اس نے دیکھی ہی نہیں کیسۂ زر کی صورت
حملہ اپنے پہ بھی اک بعد ہزیمت ہے ضرور
رہ گئی ہے یہی اک فتح و ظفر کی صورت
ان کو حالیؔ بھی بلاتے ہیں گھر اپنے مہماں
دیکھنا آپ کو اور آپ کے گھر کی صورت
الطاف حسین حالی