ٹیگ کے محفوظات: زرد

پھر پُھوٹتی ہے سرخ کلی شاخِ زرد سے

میں وہ نہیں جو ہار گیا موجِ درد سے
پھر پُھوٹتی ہے سرخ کلی شاخِ زرد سے
لوگوں کو تھا گمان کہ جاتا ہے قافلہ
رہ رَو تو نکلا ایک ہی دیوارِ گرد سے
جھپٹے نہ میرے بعد کسی بھی چراغ پر
یہ سوچ کر میں لڑتا رہا بادِ سرد سے
دھاگے میں کیا پروئیے ذرّوں کو ریت کے
یوں بھی جُدا رہے گا یہاں فرد فرد سے
واقف کسی سے کون، جہاں ہم طرح ہوں سب
بستی کا حال پوچھیے صحرا نورد سے
پتھر کے بند باندھ کے بیٹھے ہیں کب جری
کرتا ہے چھیڑ موجہِ طوفاں بھی مرد سے
دل میں کُھلا ہے روشنی کا بادباں شکیبؔ
آگے ملوں گا اب میں ستاروں کی گرد سے
شکیب جلالی

عشقِ نبرد پیشہ طلبگارِ مرد تھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 96
دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا
عشقِ نبرد پیشہ طلبگارِ مرد تھا
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا
تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا
دل تاجگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب
اس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھا
جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی !
دل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھا
احباب چارہ سازئ وحشت نہ کر سکے
زنداں میں بھی خیال، بیاباں نورد تھا
یہ لاشِ بے کفن اسدؔ خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

چاہ نے بدلے رنگ کئی اب جسم سراسر زرد ہوا

دیوان ششم غزل 1792
تھا اندوہ گرہ مدت سے دل میں خوں ہو درد ہوا
چاہ نے بدلے رنگ کئی اب جسم سراسر زرد ہوا
وعدہ خلافی اس ظالم کی کھا گئی میری جان غمیں
گرمی کرے وہ مجھ سے جب تک تب تک میں ہی سرد ہوا
گرد و غبار و دشت و وادی گریے سے میرے یک سو ہیں
رونے کے آگے ان کے تو دریا بھی میر اب گرد ہوا
میر تقی میر

اب وہ دل میں تاب نہیں جو لب تک آہ سرد کھنچے

دیوان پنجم غزل 1749
ظلم سہے ہیں داغ ہوئے ہیں رنج اٹھے ہیں درد کھنچے
اب وہ دل میں تاب نہیں جو لب تک آہ سرد کھنچے
جیتے جی میت کے رنگوں عشق میں اس کے ہو بیٹھا
بعد مرے نقاش سے شاید صورت میری زرد کھنچے
خاک ہوئی تھی سرکشی اپنی جوں کی توں اپنی طبیعت میں
میر عجب کیا ہے اس کا تا گردوں جو یہ گرد کھنچے
میر تقی میر

دیکھ آنکھیں وہ سرمہ گیں میں پھردنبالہ گرد ہوا

دیوان پنجم غزل 1553
پھرتے پھرتے اس کے لیے میں آخر دشت نورد ہوا
دیکھ آنکھیں وہ سرمہ گیں میں پھردنبالہ گرد ہوا
جیتے جی میت کے رنگوں لوگ مجھے اب پاتے ہیں
جوش بہار عشق میں یعنی سرتا پا میں زرد ہوا
گرم مزاج رہا نہیں اپنا ویسے اس کے ہجراں میں
ہوتے ہوتے افسردہ دیکھوگے اک دن سرد ہوا
میر نہ اپنے درد دل کو مجھ سے کہا کر روز وشب
صبح جو گوش دل سے سنا تھا دل میں میرے درد ہوا
میر تقی میر

ہوا کاغذ نمط گو رنگ تیرا زرد کیا حاصل

دیوان چہارم غزل 1426
غم مضموں نہ خاطر میں نہ دل میں درد کیا حاصل
ہوا کاغذ نمط گو رنگ تیرا زرد کیا حاصل
ہوئے صید زبوں ہم منتظر ہی خاک جی دے کر
سواری سے کسو کی گو اٹھی اب گرد کیا حاصل
بلا ہے سوزسینہ میر لوں ہوجائے گی جل کر
اگر دل سے اٹھی تیرے یہ آہ سرد کیا حاصل
میر تقی میر

ہاتھ لگتے دل کے ہوجاتا ہوں کچھ میں زرد زرد

دیوان چہارم غزل 1381
تن کو جس جاگہ سے چھیڑوں ہوں وہاں ہے درد درد
ہاتھ لگتے دل کے ہوجاتا ہوں کچھ میں زرد زرد
اب تو وہ حسرت سے آہ و نالہ کرنا بھی گیا
کوئی دم ہونٹوں تک آجاتا ہے گاہے سرد سرد
میر تقی میر

رنگ بدن میت کے رنگوں جیتے جی ہی پہ زرد ہوا

دیوان چہارم غزل 1333
عشق کی ہے بیماری ہم کو دل اپنا سب درد ہوا
رنگ بدن میت کے رنگوں جیتے جی ہی پہ زرد ہوا
تب بھی نہ سر کھینچا تھا ہم نے آخر مر کر خاک ہوئے
اب جو غبارضعیف اٹھا تھا پامالی میں گرد ہوا
میر تقی میر

اٹھے گی مری خاک سے گرد زرد

دیوان سوم غزل 1129
بہت ہے تن درد پرورد زرد
اٹھے گی مری خاک سے گرد زرد
وہ بیمار گو تو نہ جانے مجھے
مرا نامہ لکھنے کو ہو فرد زرد
گذرتی ہے کیا میر دل پر ترے
تو ہوتا ہے ہر لحظہ کچھ زرد زرد
میر تقی میر

پھول میری خاک سے نکلیں گے بھی تو زرد زرد

دیوان سوم غزل 1128
عشق لوہو پی گیا سب تن میں ہے سو درد درد
پھول میری خاک سے نکلیں گے بھی تو زرد زرد
کب مری شب کو سحر ہے ایک بدحالی کے بیچ
جانتا ہوں صبح ہے ہوتا ہوں جب میں سرد سرد
کارواں در کارواں یاں سے چلے جاتے ہیں لوگ
ہر طرف اس خاکداں میں دیکھتے ہیں گرد گرد
مرد و زن سب ہیں نہ پیر دیر و دخت تاک سے
یہ غلط فہمی ہے ہر زن زن ہے یا ہر مرد مرد
دفتر اعمال میرا بھول جاویں میر کاش
ہے قیامت اس جریدے کو جو دیکھیں فرد فرد
میر تقی میر

آنکھیں اگر یہی ہیں تو دریا بھی گرد ہے

دیوان دوم غزل 1033
گرمی سے میری ابر کا ہنگامہ سرد ہے
آنکھیں اگر یہی ہیں تو دریا بھی گرد ہے
مجنوں کو مجھ سے کیا ہے جنوں میں مناسبت
میں شہر بند ہوں وہ بیاباں نورد ہے
کیا جانیے کہ عشق میں خوں ہو گیا کہ داغ
چھاتی میں اب تو دل کی جگہ ایک درد ہے
واصل بحق ہوئے نہ جو ہم جان سے گئے
غیرت ہو کچھ مزاج میں جس کے وہ مرد ہے
ممکن نہیں کہ وصف علیؓ کوئی کر سکے
تفرید کے جریدے میں وہ پہلی فرد ہے
ٹھہرے نہ چرخ نیلی پہ انجم کی چشم شوخ
اس قصر میں لگا جو ہے کیا لاجورد ہے
کس سے جدا ہوئے ہیں کہ ایسے ہیں دردمند
منھ میر جی کا آج نہایت ہی زرد ہے
میر تقی میر

نہ ہو گلچین باغ حسن ظالم زرد ہو گا تو

دیوان دوم غزل 910
نہ مائل آرسی کا رہ سراپا درد ہو گا تو
نہ ہو گلچین باغ حسن ظالم زرد ہو گا تو
یہ پیشہ عشق کا ہے خاک چھنوائے گا صحرا کی
ہزار اے بے وفا جوں گل چمن پرورد ہو گا تو
غبار اٹھنے لگے گا تیری اس نازک طبیعت سے
بسان گردباد آخر بیاباں گرد ہو گا تو
علاقہ دل کا لکھوائے گا دفتر ہاتھ سے تیرے
تجرد کے جریدوں میں قلم سا فرد ہو گا تو
نہ یک دم صبح تک بھی آنکھ لگنے دے گا دل جلنا
یہی پھر میر سا سرگرم آہ سرد ہو گا تو
میر تقی میر

دل پر رکھا تھا ہاتھ سو منھ زرد ہو گیا

دیوان دوم غزل 744
سینے میں شوق میر کے سب درد ہو گیا
دل پر رکھا تھا ہاتھ سو منھ زرد ہو گیا
نکلا تھا آج صبح بہت گرم ہو ولے
خورشید اس کو دیکھتے ہی سرد ہو گیا
بے پردہ اس کی شوخی قیامت ہے دیکھیو
یاں خاک سی اڑا دی فلک گرد ہو گیا
کشتی ہر اک فقیر کی بھردی شراب سے
اس دور میں کلال عجب مرد ہو گیا
دفتر لکھے ہیں میر نے دل کے الم کے یہ
یاں اپنے طور و طرز میں وہ فرد ہو گیا
میر تقی میر

مشتاق منھ مرا ہے اسی رنگ زرد کا

دیوان اول غزل 159
تھا زعفراں پہ ہنسنے کو دل جس کی گرد کا
مشتاق منھ مرا ہے اسی رنگ زرد کا
کیا ڈر اسے ہے گرمی خورشید حشر سے
سایہ پڑا ہے جس پہ مری آہ سرد کا
میر تقی میر

سو ہو چلا ہوں پیشتر از صبح سرد سا

دیوان اول غزل 136
کس شام سے اٹھا تھا مرے دل میں درد سا
سو ہو چلا ہوں پیشتر از صبح سرد سا
بیٹھا ہوں جوں غبار ضعیف اب وگرنہ میں
پھرتا رہا ہوں گلیوں میں آوارہ گرد سا
قصد طریق عشق کیا سب نے بعد قیس
لیکن ہوا نہ ایک بھی اس رہ نورد سا
حاضر یراق بے مزگی کس گھڑی نہیں
معشوق کچھ ہمارا ہے عاشق نبرد سا
کیا میر ہے یہی جو ترے در پہ تھا کھڑا
نمناک چشم و خشک لب و رنگ زرد سا
میر تقی میر

اب جس جگہ کہ داغ ہے یاں آگے درد تھا

دیوان اول غزل 126
دل عشق کا ہمیشہ حریف نبرد تھا
اب جس جگہ کہ داغ ہے یاں آگے درد تھا
اک گرد راہ تھا پئے محمل تمام راہ
کس کا غبار تھا کہ یہ دنبالہ گرد تھا
دل کی شکستگی نے ڈرائے رکھا ہمیں
واں چیں جبیں پر آئی کہ یاں رنگ زرد تھا
مانند حرف صفحۂ ہستی سے اٹھ گیا
دل بھی مرا جریدئہ عالم میں فرد تھا
تھا پشتہ ریگ بادیہ اک وقت کارواں
یہ گردباد کوئی بیاباں نورد تھا
گذری مدام اس کی جوانان مست میں
پیر مغاں بھی طرفہ کوئی پیر مرد تھا
عاشق ہیں ہم تو میر کے بھی ضبط عشق کے
دل جل گیا تھا اور نفس لب پہ سرد تھا
میر تقی میر

ہے کفِ باد میں جو، موسمِ افسوس کی گرد

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 24
آخرِکار سمیٹیں گے اسے اہلِ نبرد
ہے کفِ باد میں جو، موسمِ افسوس کی گرد
ایک ہی جور پہ انداز دگر برپا ہے
مژدہ کیا لائے کہیں سے بھی ترا شہر نورد
موسموں کا یہ بدلنا بھی مقدر ٹھہرا
زرد سے سبز کبھی اور کبھی سبز سے زرد
جان دینے سے بھی آگے کا کوئی معرکہ ہو
طے کرے جو میرے اس مثبت و منفی کی نبرد
آفتاب اقبال شمیم