ٹیگ کے محفوظات: زردار

دل اٹھا لائے سرِ بازار ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
کیا دکھاتے اور حالِ زار ہم
دل اٹھا لائے سرِ بازار ہم
ہر سفر ہے اب تو ہجرت کا سفر
تھے کبھی اِس شہر میں انصار ہم
دل سے دل کو راہ اب ہوتی نہیں
بھولتے جاتے ہیں سب اقدار ہم
حرف و معنی بیچنے پر آ گئے
یوں بھی اب ہونے لگے زردار ہم
منتقل کر لائے اک اک سانس میں
جس میں الجھے تھے وہی منجدھار ہم
ڈھل چکی جب چودھویں کی رات بھی
کیوں نہ ہوں ماجدؔ، زوال آثار ہم
ماجد صدیقی

صورتِ اشجار ہیں زردار ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 103
جان پر سہہ کر خزاں کے وار ہم
صورتِ اشجار ہیں زردار ہم
وُہ بھی دِن تھے جب کسی کی دید سے
دمبدم تھے مطلعٔ انوار ہم
سامنے اُس کے سبک سر کیا ہوئے
لے کے پلٹے اور اک آزار ہم
ہر سفر ہے اَب تو ہجرت کا سفر
تھے کبھی اِس شہر میں انصار ہم
دل سے دل کو راہ اَب ہوتی نہیں
بھُولتے جاتے ہیں سب اقدار ہم
حال کیا جانے ہو ماجدؔ! باغ کا
دیکھتے ہیں اور ہی آثار ہم
ماجد صدیقی

جو صحن خانہ میں تو ہو در و دیوار عاشق ہو

دیوان چہارم غزل 1470
عجب گر تیری صورت کا نہ کوئی یار عاشق ہو
جو صحن خانہ میں تو ہو در و دیوار عاشق ہو
تجھے اک بار اگر دیکھے کوئی بے جا ہو دل اس کا
خرام ناز پر تیرے لٹا گھر بار عاشق ہو
تری چھاتی سے لگنا ہار کا اچھا نہیں لگتا
مباد اس وجہ سے گل رو گلے کا ہار عاشق ہو
ہوا ہے مخترع بے رحم خوں ریزی بھی کرنے میں
نہ مارے جان سے جب تک نہ منت دار عاشق ہو
سزا ہے عشق میں زرد و زبون و زار ہی ہونا
نہ عاشق کہیے ان رنگوں نہ جو بیمار عاشق ہو
پڑے سایہ کسو کا تیرے بستر پر تو تو چونکے
وہی لے کام تجھ سے جو کوئی پرکار عاشق ہو
نہیں بازار گرمی ایک دو خواہندہ پر اس کی
اگر وہ رشک یوسف آوے تو بازار عاشق ہو
غریبوں کی تو پگڑی جامے تک لے ہے اتروا تو
تجھے اے سیم بر لے بر میں جو زردار عاشق ہو
لگو ہو زار باراں رونے چلتے بات چاہت کی
کہیں ان روزوں تم بھی میر صاحب زار عاشق ہو
میر تقی میر

اب ہو گئے ہیں آخر بیمار تیری خاطر

دیوان دوم غزل 803
کیا کیا نہ ہم نے کھینچے آزار تیری خاطر
اب ہو گئے ہیں آخر بیمار تیری خاطر
غیروں کی بے دماغی بیتابی چھاتی داغی
یہ سب ستم اٹھائے اے یار تیری خاطر
کیا جانیے کہ ہے تو کیا جنس بیش قیمت
جاتے ہیں پگڑی جامے بازار تیری خاطر
اک بار تونے آکر خاطر نہ رکھی میری
میں جی سے اپنے گذرا سو بار تیری خاطر
میں کیا کہ آہ کافر دیں کے اکابروں نے
قشقے لگائے پہنے زنار تیری خاطر
گو دل دھسک ہی جاوے آنکھیں ابل ہی آویں
سب اونچ نیچ کی ہے ہموار تیری خاطر
ایک آن تیرے ابرو ایدھر جھکے نہ پائے
سو سو میں میں نے کھینچی تلوار تیری خاطر
کیا چیز ہے تو پیارے مفلس ہیں داغ تیرے
پیسے لیے پھرے ہیں زردار تیری خاطر
تجھ سے دوچار ہونا پھر آہ بن نہ آیا
دی جان میر جی نے ناچار تیری خاطر
میر تقی میر