ٹیگ کے محفوظات: زرخریدہ

الفت گزیدہ مردم کلفت کشیدہ مردم

دیوان ششم غزل 1840
وے ہم ہیں جن کو کہیے آزار دیدہ مردم
الفت گزیدہ مردم کلفت کشیدہ مردم
ہے حال اپنا درہم تس پر ہے عشق کا غم
رہتے ہیں دم بخود ہم آفت رسیدہ مردم
وہ دیکھے ہم کو آکر جن نے نہ دیکھے ہوویں
آزردہ دل شکستہ خاطر کبیدہ مردم
جو ہے سو لوہو مائل بے طور اور جاہل
اہل جہاں ہیں سارے صحبت نہ دیدہ مردم
جاتے ہیں اس کی جانب مانند تیر سیدھے
مثل کمان حلقہ قامت خمیدہ مردم
اوباش بھی ہمارا کتنا ہے ٹیڑھا بانکا
دیکھ اس کو ہو گئے ہیں کیا کیا کشیدہ مردم
مت خاک عاشقاں پر پھر آب زندگی سا
جاگیں کہیں نہ سوتے یہ آرمیدہ مردم
لے لے کے منھ میں تنکا ملتے ہیں عاجزانہ
مغرور سے ہمارے برخویش چیدہ مردم
تھے دست بستہ حاضر خدمت میں میر گویا
سیمیں تنوں کے عاشق ہیں زرخریدہ مردم
میر تقی میر

ہے تو کس آفریدہ کے مانند

دیوان اول غزل 201
اے گل نو دمیدہ کے مانند
ہے تو کس آفریدہ کے مانند
ہم امید وفا پہ تیری ہوئے
غنچۂ دیر چیدہ کے مانند
خاک کو میری سیر کرکے پھرا
وہ غزال رمیدہ کے مانند
سر اٹھاتے ہی ہو گئے پامال
سبزئہ نو دمیدہ کے مانند
نہ کٹے رات ہجر کی جو نہ ہو
نالہ تیغ کشیدہ کے مانند
ہم گرفتار حال ہیں اپنے
طائر پر بریدہ کے مانند
دل تڑپتا ہے اشک خونیں میں
صید درخوں طپیدہ کے مانند
تجھ سے یوسف کو کیونکے نسبت دیں
کب شنیدہ ہو دیدہ کے مانند
میر صاحب بھی اس کے ہاں تھے لیک
بندئہ زرخریدہ کے مانند
میر تقی میر