ٹیگ کے محفوظات: زدہ

سخی! محبت زدہ عقیدہ تری محبت

مرا تصوّف، مرا عقیدہ، تری محبت
سخی! محبت زدہ عقیدہ تری محبت
نمازِ مغرب قضا ہوئی تو ضمیر بولا!
کہ ہائے غافل! ترا عقیدہ، تری محبت
مری عقیدت سبھی عقیدوں سے ایک جیسی
مگر ہے سب سے جُدا عقیدہ تری محبت
تری قسم دے کے کہہ رہا ہوں مرے لئے تو
فنا صدی کا بقا عقیدہ، تری محبت
تری عطا پہ میں خوش ہوں میرے کریم مولا!
ہے لا اِلٰہ جڑا عقیدہ تری محبت
ذلیل دنیا نے ساتھ چھوڑا تو کام آئے
قدم، قدم پر ترا عقیدہ تری محبت
افتخار فلک

یہ ترا واہمہ نہیں، میں ہوں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 31
رفتگاں کی صدا نہیں، میں ہوں
یہ ترا واہمہ نہیں، میں ہوں
تیرے ماضی کے ساتھ دفن کہیں
میرا اک واقعہ نہیں، میں ہوں
کیا ملا انتہا پسندی سے؟
کیا میں تیرے سوا نہیں، میں ہوں
ایک مدت میں جا کے مجھ پہ کھلا
چاند حسرت زدہ نہیں، میں ہوں
اس نے مجھ کو محال جان لیا
میں یہ کہتا رہا نہیں، میں ہوں
میں ہی عجلت میں آ گیا تھا ادھر
یہ زمانہ نیا نہیں، میں ہوں
میری وحشت سے ڈر گئے شاید
یار بادِ فنا نہیں، میں ہوں
میں ترے ساتھ رہ گیا ہوں کہیں
وقت ٹھہرا ہوا نہیں، میں ہوں
گاہے گاہے سخن ضروری ہے
سامنے آئنہ نہیں، میں ہوں
سرسری کیوں گزارتا ہے مجھے
یہ مرا ماجرا نہیں، میں ہوں
اس نے پوچھا کہاں گیا وہ شخص
کیا بتاتا کہ تھا نہیں، میں ہوں
یہ کسے دیکھتا ہے مجھ سے اُدھر
تیرے آگے خلا نہیں، میں ہوں
عرفان ستار