ٹیگ کے محفوظات: زدن

رہتی ہے مری بات بہت عرصہ دہن میں

مِلتا ہے عجب لطف مجھے ضبطِ سخن میں
رہتی ہے مری بات بہت عرصہ دہن میں
اُبھرے وہ کہاں جھیل سی آنکھوں میں جو ڈوبے
نکلے نہ کبھی گِر گئے جو چاہِ ذقن میں
لے جانے لگی پستی کی جانب ہمیں اب زیست
ہونے لگی محسوس کشش دار و رسن میں
کیا جانیے کس لمحے چلا جائے تہِ خاک
انسان تو جیتا بھی ہے گویا کہ کفن میں
نامے کی ضرورت ہے نہ محتاجیِ قاصد
تُو یاد تو کر آؤں گا میں چشم زدن میں
اب موسمِ گُل آپ نمٹ لے گا خزاں سے
ہم چین سے بیٹھیں گے کسی کُنجِ چمن میں
تم قدر تو کرتے نہیں اربابِ ہُنر کی
کیوں جان کھپائے بھلا کوئی کسی فن میں
اورں کی زمیں راس نہیں آئے گی باصرؔ
آرام ملے گا تمہیں اپنے ہی وطن میں
باصر کاظمی

اس کی سی بو نہ آئی گل و یاسمن کے بیچ

دیوان سوم غزل 1123
کل لے گئے تھے یار ہمیں بھی چمن کے بیچ
اس کی سی بو نہ آئی گل و یاسمن کے بیچ
کشتہ ہوں میں تو شیریں زبانی یار کا
اے کاش وہ زبان ہو میرے دہن کے بیچ
اس بحر میں رہا مجھے چکر بھنور کے طور
سر گشتگی میں عمر گئی سب وطن کے بیچ
گر دل جلا بھنا یہی ہم ساتھ لے گئے
تو آگ لگ اٹھے گی ہمارے کفن کے بیچ
تنگی جامہ ظلم ہے اے باعث حیات
پاتے ہیں لطف جان کا ہم تیرے تن کے بیچ
نازک بہت ہے تو کہیں افسردگی نہ آئے
چسپانی لباس سے پیارے بدن کے بیچ
ہے قہر وہ جو دیکھے نظر بھر کے جن نے میر
برہم کیا جہاں مژہ برہم زدن کے بیچ
میر تقی میر