ٹیگ کے محفوظات: زحمت

مُسکراتے ہوئے رخصت کرنا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 17
دل پہ اِک طرفہ قیامت کرنا
مُسکراتے ہوئے رخصت کرنا
اچھی آنکھیں جو ملی ہیں اُس کو
کچھ تو لازم ہُوا وحشت کرنا
جُرم کس کا تھا سزا کِس کو مِلی
کیا گئی بات پہ حُجت کرنا
کون چاہے گا تمھیں میری طرح
اب کِسی سے نہ محبت کرنا
گھر کا دروازہ کھلا رکھا ہے
وقت مِل جائے تو زحمت کرنا
پروین شاکر

ایسے ابنائے زمانہ سے مجھے وحشت ہو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 93
وقت کے ساتھ بدلنے کی جنہیں عادت ہو
ایسے ابنائے زمانہ سے مجھے وحشت ہو
جیسے دیوار میں در وقفۂ آزادی ہے
کیا خبر جبر و ارادہ میں وہی نسبت ہو
روزمرہ کے مضافات میں ہم گھوم آئیں
اتنی فرصت ہو، مگر اتنی کسے فرصت ہو
آدمی روز کی روٹی پہ ہی ٹل جاتا ہے
اور بیچارے پہ کیا اِس سے بڑی تہمت ہو
ایک رفتار میں یوں وقفہ بہ وقفہ چلنا
کیا عجب، وقت کو چلنے میں کوئی دقّت ہو
سرخ منقار کا میں سبز پرندہ تو نہیں
کیوں نہ تکرار کی خُو میرے لئے زحمت ہو
آفتاب اقبال شمیم

آخری معرکۂ صبر ہے عجلت کی جائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 250
ختم ہو جنگ خرابے پہ حکومت کی جائے
آخری معرکۂ صبر ہے عجلت کی جائے
ہم نہ زنجیر کے قابل ہیں نہ جاگیر کے اہل
ہم سے انکار کیا جائے نہ بیعت کی جائے
مملکت اور کوئی بعد میں ارزانی ہو
پہلے میری ہی زمیں مجھ کو عنایت کی جائے
یا کیا جائے مجھے خوش نظری سے آزاد
یا اسی دشت میں پیدا کوئی صورت کی جائے
ہم عبث دیکھتے ہیں غرفۂ خالی کی طرف
یہ بھی کیا کوئی تماشا ہے کہ حیرت کی جائے
گھر بھی رہیے تو چلے آتے ہیں ملنے کو غزال
کاہے کو بادیہ پیمائی کی زحمت کی جائے
اپنی تحریر تو جو کچھ ہے سو آئینہ ہے
رمز تحریر مگر کیسے حکایت کی جائے
عرفان صدیقی