ٹیگ کے محفوظات: زبوں

کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 127
سو صلیبیں تھیں ہر اک حرف جنوں سے پہلے
کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے
اس کو فرصت ہی نہیں دوسرے لوگوں کی طرح
جس کو نسبت تھی مرے حال زبوں سے پہلے
کوئی اسم ایسا کہ اس شخص کا جادو اترے
کوئی اعجاز مگر اس کے فسوں سے پہلے
بے طلب اس کی عنایت ہے تو حیران ہوں میں
ہاتھ مانوس نہ تھے شاخ نگوں سے پہلے
حرف دل آیا کہ آیا میرے ہونٹوں پہ اب
بڑھ گئی بات بہت سوز دروں سے پہلے
تشنگی نے نگہ یار کی شرمندہ کیا
دل کی اوقات نہ تھی قطرۂ خوں سے پہلے
خوش ہو آشوب محبت سے کہ زندہ ہو فراز
ورنہ کچھ بھی تو نہیں دل کے سکوں سے پہلے
احمد فراز

خیمۂِ گل کے پاس ہی دجلۂِ خوں بھی چاہیئے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 59
موجِ صبا رواں ہوئی، رقصِ جنوں بھی چاہیئے
خیمۂِ گل کے پاس ہی دجلۂِ خوں بھی چاہیئے
کشمکشِ حیات ہے ، سادہ دلوں کی بات ہے
خواہشِ مرگ بھی نہیں، زہرِ سکوں بھی چاہیئے
ضربِ خیال سے کہاں ٹوٹ سکیں گی بیڑیاں
فکرِ چمن کے ہم رکاب جوشِ جنوں بھی چاہیئے
نغمۂِ شوق خوب تھا، ایک کمی ہے مطربہ
شعلۂِ لب کی خیر ہو، سوزِ دروں بھی چاہیئے
اتنا کرم تو کیجیے ، بجھتا کنول نہ دیجیے
زخمِ جگر کے ساتھ ہی دردِ فزوں بھی چاہیئے
دیکھیے ہم کو غور سے ، پوچھیے اہلِ جور سے
روحِ جمیل کے لیے حالِ زبوں بھی چاہیئے
شکیب جلالی

ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 67
کچھ کہوں، کچھ سنوں، ذرا ٹھہرو
ابھی زندوں میں ہوں، ذرا ٹھہرو
منظرِ جشنِ قتلِ عام کو میں
جھانک کر دیکھ لوں، ذرا ٹھہرو
مت نکلنا کہ ڈوب جاؤ گے
خوں ہے بس، خوں ہی خوں، ذرا ٹھہرو
صورتِ حال اپنے باہر کی
ہے ابھی تک زبوں، ذرا ٹھہرو
ہوتھ سے اپنے لکھ کے نام اپنا
میں تمہیں سونپ دوں، ذرا ٹھہرو
میرا دروازہ توڑنے والو
میں کہیں چھپ رہوں، ذرا ٹھہرو
جون ایلیا

سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 199
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سے
تکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی
خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشے
مرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی
نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
کہ ہو گا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی
نہ اتنا بُرّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤ
مرے دریائے بیتابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھی
مئے عشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجے
لیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی
مرے دل میں ہے غالب شوقِ وصل و شکوۂ ہجراں
خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی
مرزا اسد اللہ خان غالب

وہ دل کہ جس پہ اپنا بھروسا تھا خوں ہوا

دیوان سوم غزل 1073
اب کے جو گل کی فصل میں ہم کو جنوں ہوا
وہ دل کہ جس پہ اپنا بھروسا تھا خوں ہوا
ٹھہرا گیا ہو ٹک بھی تو تم سے بیاں کروں
آتے ہی اس کے رفتن صبر و سکوں ہوا
تھا شوق طوف تربت مجنوں مجھے بہت
اک گردباد دشت مرا رہنموں ہوا
سیلاب آگے آیا چلا جاتے دشت میں
بے اختیار رونے کا میرے شگوں ہوا
جان اس کی تیغ تیز سے رکھ کر دریغ میر
صید حرم ندان شکار زبوں ہوا
میر تقی میر

اب کے مجھے بہار سے آگے جنوں ہوا

دیوان دوم غزل 759
اندوہ و غم کے جوش سے دل رک کے خوں ہوا
اب کے مجھے بہار سے آگے جنوں ہوا
اچھا نہیں ہے رفتن رنگیں بھی اس قدر
سنیو کہ اس کی چال پر اک آدھ خوں ہوا
جی میں تھا خوب جاکے خرابے میں رویئے
سیلاب آیا آ کے چلا کیا شگوں ہوا
نخچیرگاہ عشق میں افراط صید سے
روح الامیں کا نام شکار زبوں ہوا
ہوں داغ نازکی کہ کیا تھا خیال بوس
گلبرگ سا وہ ہونٹ جو تھا نیلگوں ہوا
میں دور ہوں اگرچہ برابر ہوں خاک سے
اس رہ میں نقش پا ہی مرا رہ نموں ہوا
میر ان نے سرگذشت سنی ساری رات کو
افسانہ عاشقی کا ہماری فسوں ہوا
میر تقی میر

جب یہ کہتا ہوں تو کہتا ہے کہ ہوں ہوجائے گا

دیوان اول غزل 141
کام میرا بھی ترے غم میں کہوں ہوجائے گا
جب یہ کہتا ہوں تو کہتا ہے کہ ہوں ہوجائے گا
خون کم کر اب کہ کشتوں کے تو پشتے لگ گئے
قتل کرتے کرتے تیرے تیں جنوں ہوجائے گا
اس شکار انداز خونیں کا نہیں آیا مزاج
ورنہ آہوے حرم صید زبوں ہوجائے گا
بزم عشرت میں ملا مت ہم نگوں بختوں کے تیں
جوں حباب بادہ ساغر سرنگوں ہوجائے گا
تاکجا غنچہ صفت رکنا چمن میں دہر کے
کب گرفتہ دل مرے سینے میں خوں ہوجائے گا
کیا کہوں میں میر اس عاشق ستم محبوب کو
طور پر اس کے کسو دن کوئی خوں ہوجائے گا
میر تقی میر