ٹیگ کے محفوظات: زبان

کوئی زباں دراز کوئی بے زبان ہے

لاکھوں میں کوئی کوئی یہاں خوش بیان ہے
کوئی زباں دراز کوئی بے زبان ہے
جتنے بھی تِیر تھے تِرے ترکش میں چل چکے
مدت سے تیرے ہاتھ میں خالی کمان ہے
مجھ سے زیادہ خود پہ وہ کرنے لگا ستم
جانا ہے جب سے اُس نے مِری اُس میں جان ہے
اکثر رہی ہے میرے تخیل کی سیر گاہ
وہ سَر زمین جس کے تلے آسمان ہے
کچھ تو یہ دل بھی ہو گیا کم ہمتی کا صید
اور کچھ بدن میں پچھلے سفر کی تکان ہے
ایسے پڑے ہوئے ہیں لبوں پر ہمارے قفل
ہم بھول ہی گئے ہیں کہ منہ میں زبان ہے
باصرِؔ کچھ اپنے آپ میں رہنے لگا ہے مست
اے حُسنِ بے خیال ترا امتحان ہے
باصر کاظمی

ٹوٹے نہ یہ غضب بھی ہماری ہی جان پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
کھٹکا ہے یہ، کسی بھی پھسلتی چٹان پر
ٹوٹے نہ یہ غضب بھی ہماری ہی جان پر
جیسے ہرن کی ناف ہتھیلی پہ آ گئی
کیا نام تھا، سجا تھا کبھی، جو زبان پر
چاہے جو شکل بھی وہ، بناتا ہے اِن دنوں
لوہا تپا کے اور اُسے لا کے سان پر
اُس پر گمانِ مکر ہے اب یہ بھی ہو چلا
تھگلی نہ ٹانک دے وہ کہیں آسمان پر
یک بارگی بدن جو پروتا چلا گیا
ایسا بھی ایک تیر چڑھا تھا کمان پر
تاریخ میں نہ تھی وہی تحریر ، لازوال
جو خون رہ گیا تھا عَلَم پر، نشان پر
ماجدؔ ہلے شجر تو یقیں میں بدل گیا
جو وسوسہ تھا سیلِ رواں کی اٹھان پر
ماجد صدیقی

ہم پر ہے التفات یہی آسمان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
رُخ موڑ دے گا تُند ہوا سے اُڑان کا
ہم پر ہے التفات یہی آسمان کا
کچھ اس طرح تھی ہجر کے موسم کی ہر گھڑی
جیسے بہ سطحِ آب تصوّر، چٹان کا
موسم کے نام کینچلی اپنی اُتار کر
صدقہ دیا ہے سانپ نے کیا جسم و جان کا
کس درجہ پر سکون تھی وہ فاختہ جسے
گھیرے میں لے چکا تھا تناؤ کمان کا
کس خوش دَہن کا نام لیا اِس نے بعدِعمر
ٹھہرا ہے اور ذائقہ ماجد زبان کا
ماجد صدیقی

وُہ مہرباں تھا تو دل کو گمان کیا کیا تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہمارے زیرِ قدم آسمان کیا کیا تھے
وُہ مہرباں تھا تو دل کو گمان کیا کیا تھے
چمن کو راس فضا جن دنوں تھی موسم کی
شجر شجر پہ تنے سائبان کیا کیا تھے
کھُلا زمین کے قدموں تلے سے کھنچنے سے
کہ اوجِ فرق کے سُود و زیان کیا کیا تھے
یہ بھید وسعتِ صحرا میں ہم پہ جا کے کھُلا
کہ شہرِ درد میں ہم بے زبان کیا کیا تھے
ہمیں ہی مل نہ سکا، وُہ بہر قدم ورنہ
مہ و گلاب سے اُس کے نشان کیا کیا تھے
نہ سرخرو کبھی جن سے ہوئے تھے ہم ماجدؔ
دل و نگاہ کے وُہ امتحان کیا کیا تھے
ماجد صدیقی

جو برگ بھی تھا سلگتی زبان جیسا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
گُماں بہار پہ دیپک کی تان جیسا تھا
جو برگ بھی تھا سلگتی زبان جیسا تھا
وُہ دن بھی تھے کہ نظر سے نظر کے ملنے پر
کسی کا سامنا جب امتحان جیسا تھا
یہ کیا ہُوا کہ سہارے تلاش کرتا ہے
وُہ پیڑ بھی کہ چمن میں چٹان جیسا تھا
کسی پہ کھولتے کیا حالِ آرزو، جس کا
کمال بِکھرے پروں کی اُڑان جیسا تھا
تنی تھی گرچہ سرِ ناؤ سائباں جیسی
سلوک موج کا لیکن کمان جیسا تھا
کہاں گیا ہے وُہ سرچشمۂ دُعا اپنا
کہ خاک پر تھا مگر آسمان جیسا تھا
نظر میں تھا ہُنرِ ناخُدا، جبھی ماجدؔ
یقین جو بھی تھا دل کو گمان جیسا تھا
ماجد صدیقی

لیتے رہے امتحان اپنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
ہم تجھ سے ہٹاکے دھیان اپنا
لیتے رہے امتحان اپنا
وہ کچھ نہ بتا کے، جو ہُوا ہے
رکھتی ہے بھرم، زبان اپنا
جُنبش سے ہوا کی ریت پر سے
مٹتا ہی گیا نشان اپنا
حالات بدل چکے تو جانا
برحق تھا ہر اِک گمان اپنا
جتلا کے لچک ذرا سی پہلے
دکھلائے ہُنر کمان اپنا
آیا ہے جو چل کے در پہ تیرے
ماجدؔ ہے اِسے بھی جان اپنا
ماجد صدیقی

بیٹھا ہوں میں بھی تاک لگائے مچان پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
مجھ پر بنے گی گر نہ بنی اُس کی جان پر
بیٹھا ہوں میں بھی تاک لگائے مچان پر
حیراں ہوں کس ہوا کا دباؤ لبوں پہ ہے
کیسی گرہ یہ آ کے پڑی ہے زبان پر
کیا سوچ کر اُکھڑ سا گیا ہوں زمیں سے میں
اُڑتی پتنگ ہی تو گری ہے مکان پر
اُس سے کسے چمن میں توقع امان کی
رہتا ہے جس کا ہاتھ ہمیشہ کمان پر
شامل صدا میں وار کے پڑتے ہی جو ہُوا
چھینٹے اُسی لہو کے گئے آسمان پر
پنجوں میں اپنے چیختی چڑیا لئے عقاب
بیٹھا ہے کس سکون سے دیکھو چٹان پر
کیونکر لگا وہ مارِ سیہ معتبر مجھے
ماجدؔ خطا یہ مجھ سے ہوئی کس گمان پر
ماجد صدیقی

طلسمِ ہوش ربا ہے دکانِ بادہ فروش

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 53
اُٹھے نہ چھوڑ کے ہم آستانِ بادہ فروش
طلسمِ ہوش ربا ہے دکانِ بادہ فروش
کھلا جو پردہ روئے حقائقِ اشیاء
کھلی حقیقتِ رازِ نہانِ بادہ فروش
فسردہ طینتی و کاہلی سے ہم نے کبھی
شباب میں بھی نہ دیکھی دکانِ بادہ فروش
یقین ہے کہ مئے ناب مفت ہاتھ آئے
یہ جی میں ہے کہ بنوں میہمانِ بادہ فروش
قدح سے دل ہے مراد اور مے سے عشق غرض
میں وہ نہیں کہ نہ سمجھوں زبانِ بادہ فروش
عجب نہیں کہ کسی روز وہ بھی آ نکلیں
کہ ہے گزرگہِ خلق، آستانِ بادہ فروش
مے و سرود کے اسرار آپ آ کر دیکھ
نہ پوچھ مجھ سے کہ ہوں راز دانِ بادہ فروش
شراب دیکھ کہ کس رنگ کی پلاتا ہے
جز اس کے اور نہیں امتحانِ بادہ فروش
تری شمیم نے گلزار کو کیا برباد
تری نگاہ نے کھولی دکانِ بادہ فروش
عبث ہے شیفتہ ہر اک سے پوچھتے پھرنا
ملے گا بادہ کشوں سے نشانِ بادہ فروش
مصطفٰی خان شیفتہ

بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 26
ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر
آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر
یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر
کتنے ہی زخم ہیں مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اِک نشان پر
جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر
ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر
سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر
حق بات آ کے رک سی گئی تھی کبھی شکیبؔ
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر
شکیب جلالی

وہ رینگنے لگی کشتی وہ بادبان کھلا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 9
وہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلا
وہ رینگنے لگی کشتی وہ بادبان کھلا
مرے ہی کان میں سرگوشیاں سکوت نے کیں
مرے سوا کبھی کس سے یہ بے زبان کھلا
سمجھ رہا تھا ستارے جنہیں وہ آنکھیں ہیں
مری طرف نگران ہیں کئی جہان کھلا
مرا خزانہ ہے محفوظ میرے سینے میں
میں سو رہوں گا یونہی چھوڑ کر مکان کھلا
ہر آن میرا نیا رنگ ہے نیا چہرہ
وہ بھید ہوں جو کسی سے نہ میری جان کھلا
جزا کہیں کہ سزا اس کو بال و پر والے
زمیں سکڑتی گئی، جتنا آسمان کھلا
لہو لہو ہوں سلاخوں سے سر کو ٹکرا کر
شکیبؔ بابِ قفس کیا کہوں کس آن کھلا
شکیب جلالی

داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 43
عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
میری ہر بات بے اثر ہی رہی
نقص ہے کچھ مرے بیان میں کیا
مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں
ہم غریبوں کی آن بان میں کیا
خود کو جانا جدا زمانے سے
آگیا تھا مرے گمان میں کیا
شام ہی سے دکان دید ہے بند
نہیں نقصان تک دکان میں کیا
اے مرے صبح و شام دل کی شفق
تو نہاتی ہے اب بھی بان میں کیا
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا
جون ایلیا

جس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 254
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
جس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے
ہے کائنات کو حَرَکت تیرے ذوق سے
پرتو سے آفتاب کے ذرّے میں جان ہے
حالانکہ ہے یہ سیلیِ خارا سے لالہ رنگ
غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
کی اس نے گرم سینۂ اہلِ ہوس میں جا
آوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
کیا خوب! تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا
بس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
بیٹھا ہے جو کہ سایۂ دیوارِ یار میں
فرماں روائے کشورِ ہندوستان ہے
ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا
کس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
ہے بارے اعتمادِ وفاداری اس قدر
غالب ہم اس میں خوش ہیں کہ نا مہربان ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

آنکھیں ہماری لگ رہی ہیں آسمان سے

دیوان ششم غزل 1915
اب دشت عشق میں ہیں بتنگ آئے جان سے
آنکھیں ہماری لگ رہی ہیں آسمان سے
پڑتا ہے پھول برق سے گلزار کی طرف
دھڑکے ہے جی قفس میں غم آشیان سے
یک دست جوں صداے جرس بیکسی کے ساتھ
میں ہر طرف گیا ہوں جدا کاروان سے
تم کو تو التفات نہیں حال زار پر
اب ہم ملیں گے اور کسو مہربان سے
تم ہم سے صرفہ ایک نگہ کا کیا کیے
اغماض ہم کو اپنے ہے جی کے زیان سے
جاتے ہیں اس کی اور تو عشاق تیر سے
قامت خمیدہ ان کے اگر ہیں کمان سے
دلکش قد اس کا آنکھوں تلے ہی پھرا کیا
صورت گئی نہ اس کی ہمارے دھیان سے
آتا نہیں خیال میں خوش رو کوئی کبھو
تو مار ڈالیو نہ مجھے اس گمان سے
آنکھوں میں آ کے دل سے نہ ٹھہرا تو ایک دم
جاتا ہے کوئی دید کے ایسے مکان سے
دیں گالیاں انھیں نے وہی بے دماغ ہیں
میں میر کچھ کہا نہیں اپنی زبان سے
میر تقی میر

خالی ہوا جہاں جو گئے ہم جہان سے

دیوان ششم غزل 1890
لے عشق میں گئے دل پر اپنی جان سے
خالی ہوا جہاں جو گئے ہم جہان سے
دل میں مسودے تھے بہت پر حضور یار
نکلا نہ ایک حرف بھی میری زبان سے
ٹک دل سے آئو آنکھوں میں ہے دید کی جگہ
بہتر نہیں مکان کوئی اس مکان سے
اول زمینیوں میں ہو مائل مری طرف
جو حادثہ نزول کرے آسمان سے
یہ وہم ہے کہ آنکھیں مری لگ گئیں کہیں
تم مار ڈالیو نہ مجھے اس گمان سے
کھل جائیں گی تب آنکھیں جو مرجاوے گا کوئی
تم باز نئیں ہو آتے مرے امتحان سے
نامہربانی نے تو تمھاری کیا ہلاک
اب لگ چلیں گے اور کسی مہربان سے
زنبورخانہ چھاتی غم دوری سے ہوئی
وے ہم تلک نہ آئے کبھو کسر شان سے
تاثیر کیا کرے سخن میر یار میں
جب دیکھو لگ رہا ہے کوئی اس کے کان سے
میر تقی میر

مطلق نہیں ہے بند ہماری زبان میں

دیوان ششم غزل 1850
اسرار دل کے کہتے ہیں پیر و جوان میں
مطلق نہیں ہے بند ہماری زبان میں
رنگینی زمانہ سے خاطر نہ جمع رکھ
سو رنگ بدلے جاتے ہیں یاں ایک آن میں
شاید بہار آئی ہے دیوانہ ہے جوان
زنجیر کی سی آتی ہے جھنکار کان میں
بے وقفہ اس ضعیف پہ جور و ستم نہ کر
طاقت تعب کی کم ہے بہت میری جان میں
اس کے لبوں کے آگے کنھوں نے نہ بات کی
آئی ہے کسر شہد مصفا کی شان میں
چہرہ ہی یار کا رہے ہے چت چڑھا سدا
خورشید و ماہ آتے ہیں کب میرے دھیان میں
اب میرے اس کے عہد میں شاید کہ اٹھ گئی
آگے جو رسم دوستی کی تھی جہان میں
تارے تو یہ نہیں مری آہوں سے رات کی
سوراخ پڑگئے ہیں تمام آسمان میں
ابرو کی طرح اس کی چڑھی ہی رہے ہے میر
نکلی ہے شاخ تازہ کوئی کیا کمان میں
میر تقی میر

اہل اس گھر پہ جان دیتے ہیں

دیوان پنجم غزل 1689
کس کو دل سا مکان دیتے ہیں
اہل اس گھر پہ جان دیتے ہیں
کیونکے خوش خواں نہ ہوویں اہل چمن
ہم انھوں کو زبان دیتے ہیں
نوخطاں پھیر لیں ہیں منھ یعنی
ملتے رخصت کے پان دیتے ہیں
جان کیا گوہر گرامی ہے
بدلے اس کے جہان دیتے ہیں
ہندو بچوں سے کیا معیشت ہو
یہ کبھو انگ دان دیتے ہیں
یہ عجب گم ہوئے ہیں جس کے لیے
نہیں اس کا نشان دیتے ہیں
گل خوباں میں میر مہر نہیں
ہم کو غیروں میں سان دیتے ہیں
میر تقی میر

گوش زد اک دن ہوویں کہیں تو بے لطفی سے زبان کرے

دیوان چہارم غزل 1492
لطف ہے کیا انواع ستم جو اس کے کوئی بیان کرے
گوش زد اک دن ہوویں کہیں تو بے لطفی سے زبان کرے
ہم تو چاہ کر اس پتھر کو سخت ندامت کھینچی ہے
چاہ کرے اب وہ کوئی جو چاہت کا ارمان کرے
سودے میں دل کے نفع جو چاہے خام طمع سودائی ہے
وارا سارا عشق میں کیسا جی کا بھی نقصان کرے
حشر کے ہنگامے میں چاہیں دادعشق تو حسن نہیں
کاشکے یاں وہ ظالم اپنے دل ہی میں دیوان کرے
آتش خو مغرور سے ویسے عہدہ برآ کیا عاشق ہو
دل کو جلاوے منت رکھے جی مارے احسان کرے
یمن عشق غم افزا سے کام نہایت مشکل ہے
اب بھی نہیں نومیدی دل کو شاید عشق آسان کرے
کہنے میں یہ بات آتی نہیں ہو سیر خدا کی قدرت کی
موند کر آنکھیں میر اگر تو دل کی طرف ٹک دھیان کرے
میر تقی میر

مگر آئے تھے میہمان سے لوگ

دیوان چہارم غزل 1423
کیا چلے جاتے ہیں جہان سے لوگ
مگر آئے تھے میہمان سے لوگ
قہر ہے بات بات پر گالی
جاں بہ لب ہیں تری زبان سے لوگ
شہر میں گھر خراب ہے اپنا
آتے ہیں یاں اب اس نشان سے لوگ
ایک گردش میں ہیں برابر خاک
کیا جھگڑتے ہیں آسمان سے لوگ
درد دل ان نے کب سنا میرا
لگے رہتے ہیں اس کے کان سے لوگ
بائو سے بھی لچک لہک ہے انھیں
ہیں یہی سبزے دھان پان سے لوگ
شوق میں تیر سے چلے اودھر
ہم خمیدہ قداں کمان سے لوگ
آدمی اب نہیں جہاں میں میر
اٹھ گئے اس بھی کاروان سے لوگ
میر تقی میر

اللہ رے دماغ کہ ہے آسمان پر

دیوان چہارم غزل 1386
مرتے ہیں ہم تو آدم خاکی کی شان پر
اللہ رے دماغ کہ ہے آسمان پر
چرکہ تھا دل میں لالہ رخوں کے خیال سے
کیا کیا بہاریں دیکھی گئیں اس مکان پر
عرصہ ہے تنگ صدر نشینوں پہ شکر ہے
بیٹھے اگر تو جا کے کسو آستان پر
آفات میں ہے مرغ چمن گل کے شوق سے
جوکھوں ہزار رنگ کی رہتی ہے جان پر
اس کام جاں کے جلووں کا میں ہی نہیں ہلاک
آفت عجب طرح کی ہے سارے جہان پر
جاتے تو ہیں پہ خواہش دل موت ہے نری
پھر بھی ہمیں نظر نہیں جی کے زیان پر
تقدیس دل تو دیکھ ہوئی جس کو اس سے راہ
سر دیں ہیں لوگ اس کے قدم کے نشان پر
انداز و ناز اپنے اس اوباش کے ہیں قہر
سو سو جوان مرتے ہیں ایک ایک آن پر
شوخی تو دیکھو آپھی کہا آئو بیٹھو میر
پوچھا کہاں تو بولے کہ میری زبان پر
میر تقی میر

آئو بھلا کبھو تو سو جائو زبان کر

دیوان دوم غزل 815
رہ جائوں چپ نہ کیونکے برا جی میں مان کر
آئو بھلا کبھو تو سو جائو زبان کر
کہتے ہیں چلتے وقت ملاقات ہے ضرور
جاتے ہیں ہم بھی جان سے ٹک دیکھو آن کر
کیا لطف تھا کہ میکدے کی پشت بام پر
سوتے تھے مست چادر مہتاب تان کر
آیا نہ چل کے یاں تئیں وہ باعث حیات
مارا ہے ان نے جان سے ہم کو تو جان کر
ایسے ہی تیز دست ہو خونریزی میں تو پھر
رکھوگے تیغ جور کی یک چند میان کر
یہ بے مروتی کہ نگہ کا مضائقہ
اتنا تو میری جان نہ مجھ سے سیان کر
رنگین گور کرنی شہیدوں کی رسم ہے
تو بھی ہماری خاک پہ خوں کے نشان کر
رکھنا تھا وقت قتل مرا امتیاز ہائے
سو خاک میں ملایا مجھے سب میں سان کر
تم تیغ جور کھینچ کے کیا سوچ میں گئے
مرنا ہی اپنا جی میں ہم آئے ہیں ٹھان کر
وے دن گئے کہ طاقت دل کا تھا اعتماد
اب یوں کھڑے کھڑے نہ مرا امتحان کر
اس گوہر مراد کو پایا نہ ہم نے میر
پایان کار مر گئے یوں خاک چھان کر
میر تقی میر

اطفال شہر لائے ہیں آفت جہان پر

دیوان دوم غزل 806
کیا کیا نہ لوگ کھیلتے جاتے ہیں جان پر
اطفال شہر لائے ہیں آفت جہان پر
کچھ ان دنوں اشارئہ ابرو ہیں تیزتیز
کیا تم نے پھر رکھی ہے یہ تلوار سان پر
تھوڑے میں دور کھینچے ہے کیا آدم آپ کو
اس مشت خاک کا ہے دماغ آسمان پر
کس پر تھے بے دماغ کہ ابرو بہت ہے خم
کچھ زور سا پڑا ہے کہیں اس کمان پر
کس رنگ راہ پاے نگاریں سے تو چلا
ہونے لگے ہیں خون قدم کے نشان پر
چرچا سا کر دیا ہے مرے شور عشق نے
مذکور اب بھی ہے یہ ہر اک کی زبان پر
پی پی کے اپنا لوہو رہیں گوکہ ہم ضعیف
جوں رینگتی نہیں ہے انھوں کے تو کان پر
یہ وہم ہے کہ اور کا ہے میرے تیں خیال
تو مار ڈالیو نہ مجھے اس گمان پر
کیفیتیں ہزار ہیں اس کام جاں کے بیچ
دیتے ہیں لوگ جان تو ایک ایک آن پر
دامن میں آج میر کے داغ شراب ہے
تھا اعتماد ہم کو بہت اس جوان پر
میر تقی میر

رکھے نہ تم نے کان ٹک اس داستان پر

دیوان دوم غزل 805
آغشتہ خون دل سے سخن تھے زبان پر
رکھے نہ تم نے کان ٹک اس داستان پر
کچھ ہورہے گا عشق و ہوس میں بھی امتیاز
آیا ہے اب مزاج ترا امتحان پر
یہ دلبری کے فن و فریب اتنی عمر میں
جھنجھلاہٹ اب تو آوے ہے اس کے سیان پر
محتاج کر خدا نہ نکالے کہ جوں ہلال
تشہیر کون شہر میں ہو پارہ نان پر
دیکھا نہ ہم نے چھوٹ میں یاقوت کی کبھو
تھا جو سماں لبوں کے ترے رنگ پان پر
کیا رہروان راہ محبت ہیں طرفہ لوگ
اغماض کرتے جاتے ہیں جی کے زیان پر
پہنچا نہ اس کی داد کو مجلس میں کوئی رات
مارا بہت پتنگ نے سر شمع دان پر
یہ چشم شوق طرفہ جگہ ہے دکھائو کی
ٹھہرو بقدر یک مژہ تم اس مکان پر
بزاز کے کو دیکھ کے خرقے بہت پھٹے
بیٹھا وہ اس قماش سے آکر دکان پر
موزوں کرو کچھ اور بھی شاید کہ میر جی
رہ جائے کوئی بات کسو کی زبان پر
میر تقی میر

ہونٹ پر رنگ پان ہے گویا

دیوان دوم غزل 699
غنچہ ہی وہ دہان ہے گویا
ہونٹ پر رنگ پان ہے گویا
میرے مردے سے بھی وہ چونکے ہے
اب تلک مجھ میں جان ہے گویا
چاہیے جیتے گذرے اس کا نام
منھ میں جب تک زبان ہے گویا
سربسر کیں ہے لیک وہ پرکار
دیکھو تو مہربان ہے گویا
حیرت روے گل سے مرغ چمن
چپ ہے یوں بے زبان ہے گویا
مسجد ایسی بھری بھری کب ہے
میکدہ اک جہان ہے گویا
جائے ہے شور سے فلک کی طرف
نالۂ صبح بان ہے گویا
بسکہ ہیں اس غزل میں شعر بلند
یہ زمین آسمان ہے گویا
وہی شور مزاج شیب میں ہے
میر اب تک جوان ہے گویا
میر تقی میر

وقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے

دیوان اول غزل 609
بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے
وقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے
داغ فراق و حسرت وصل آرزوے دید
کیا کیا لیے گئے ترے عاشق جہان سے
ہم خامشوں کا ذکر تھا شب اس کی بزم میں
نکلا نہ حرف خیر کسو کی زبان سے
آب خضر سے بھی نہ گئی سوزش جگر
کیا جانیے یہ آگ ہے کس دودمان سے
جز عشق جنگ دہر سے مت پڑھ کہ خوش ہیں ہم
اس قصے کی کتاب میں اس داستان سے
آنے کا اس چمن میں سبب بے کلی ہوئی
جوں برق ہم تڑپ کے گرے آشیان سے
اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ عاشق ہے تو کہیں
القصہ خوش گذرتی ہے اس بدگمان سے
کینے کی میرے تجھ سے نہ چاہے گا کوئی داد
میں کہہ مروں گا اپنے ہر اک مہربان سے
داغوں سے ہے چمن جگر میر دہر میں
ان نے بھی گل چنے بہت اس گلستان سے
میر تقی میر

اب تلک نیم جان ہے پیارے

دیوان اول غزل 548
قصد گر امتحان ہے پیارے
اب تلک نیم جان ہے پیارے
سجدہ کرنے میں سر کٹیں ہیں جہاں
سو ترا آستان ہے پیارے
گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے
کام میں قتل کے مرے تن دے
اب تلک مجھ میں جان ہے پیارے
یاری لڑکوں سے مت کرے ان کا
عشق…ن ہے پیارے
چھوڑ جاتے ہیں دل کو تیرے پاس
یہ ہمارا نشان ہے پیارے
شکلیں کیا کیا کیاں ہیں جن نے خاک
یہ وہی آسمان ہے پیارے
جا چکا دل تو یہ یقینی ہے
کیا اب اس کا بیان ہے پیارے
پر تبسم کے کرنے سے تیرے
کنج لب پر گمان ہے پیارے
میر عمداً بھی کوئی مرتا ہے
جان ہے تو جہان ہے پیارے
میر تقی میر

سپہر نیلی کا یہ سائبان جل جاوے

دیوان اول غزل 511
کروں جو آہ زمین و زمان جل جاوے
سپہر نیلی کا یہ سائبان جل جاوے
دی آگ دل کو محبت نے جب سے پھرتا ہوں
میں جس طرح کسو کا خانمان جل جاوے
دوا پذیر نہیں اے طبیب تپ غم کی
بدن میں ٹک رہے تو استخوان جل جاوے
نہ آوے سوز جگر منھ پہ شمع ساں اے کاش
بیان کرنے سے آگے زبان جل جاوے
ہمارے نالے بھی آتش ہی کے ہیں پرکالے
سنے تو بلبل نالاں کی جان جل جاوے
ہزار حیف کہ دل خار و خس سے باندھے کوئی
خزاں میں برق گرے آشیان جل جاوے
متاع سینہ سب آتش ہے فائدہ کس کا
خیال یہ ہے مبادا دکان جل جاوے
نہ پوچھ کچھ لب ترسا بچے کی کیفیت
کہوں تو دختر رز کی فلان جل جاوے
نہ بول میر سے مظلوم عشق ہے وہ غریب
مبادا آہ کرے سب جہان جل جاوے
میر تقی میر

یہ وہ نہیں متاع کہ ہو ہر دکان میں

دیوان اول غزل 300
نکلے ہے جنس حسن کسی کاروان میں
یہ وہ نہیں متاع کہ ہو ہر دکان میں
جاتا ہے اک ہجوم غم عشق جی کے ساتھ
ہنگامہ لے چلے ہیں ہم اس بھی جہان میں
یارب کوئی تو واسطہ سرگشتگی کا ہے
یک عشق بھر رہا ہے تمام آسمان میں
ہم اس سے آہ سوز دل اپنا نہ کہہ سکے
تھے آتش دروں سے پھپھولے زبان میں
غم کھینچنے کو کچھ تو توانائی چاہیے
سویاں نہ دل میں تاب نہ طاقت ہے جان میں
غافل نہ رہیو ہم سے کہ ہم وے نہیں رہے
ہوتا ہے اب تو حال عجب ایک آن میں
وے دن گئے کہ آتش غم دل میں تھی نہاں
سوزش رہے ہے اب تو ہر اک استخوان میں
دل نذر و دیدہ پیش کش اے باعث حیات
سچ کہہ کہ جی لگے ہے ترا کس مکان میں
کھینچا نہ کر تو تیغ کہ اک دن نہیں ہیں ہم
ظالم قباحتیں ہیں بہت امتحان میں
پھاڑا ہزار جا سے گریبان صبر میر
کیا کہہ گئی نسیم سحر گل کے کان میں
میر تقی میر

انجان اتنے کیوں ہوئے جاتے ہو جان کر

دیوان اول غزل 226
جھوٹے بھی پوچھتے نہیں ٹک حال آن کر
انجان اتنے کیوں ہوئے جاتے ہو جان کر
وے لوگ تم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے
پیدا کیے تھے چرخ نے جو خاک چھان کر
جھمکے دکھاکے باعث ہنگامہ ہی رہے
پر گھر سے در پہ آئے نہ تم بات مان کر
کہتے نہ تھے کہ جان سے جاتے رہیں گے ہم
اچھا نہیں ہے آ نہ ہمیں امتحان کر
کم گو جو ہم ہوئے تو ستم کچھ نہ ہو گیا
اچھی نہیں یہ بات مت اتنی زبان کر
ہم وے ہیں جن کے خوں سے تری راہ سب ہے گل
مت کر خراب ہم کو تو اوروں میں سان کر
تا کشتۂ وفا مجھے جانے تمام خلق
تربت پہ میری خون سے میرے نشان کر
ناز و عتاب و خشم کہاں تک اٹھایئے
یارب کبھو تو ہم پہ اسے مہربان کر
افسانے ما و من کے سنیں میر کب تلک
چل اب کہ سوویں منھ پہ دوپٹے کو تان کر
میر تقی میر

دیکھا تو اور رنگ ہے سارے جہان کا

دیوان اول غزل 128
برقع اٹھا تھا رخ سے مرے بدگمان کا
دیکھا تو اور رنگ ہے سارے جہان کا
مت مانیو کہ ہو گا یہ بے درد اہل دیں
گر آوے شیخ پہن کے جامہ قرآن کا
خوبی کو اس کے چہرے کی کیا پہنچے آفتاب
ہے اس میں اس میں فرق زمین آسمان کا
ابلہ ہے وہ جو ہووے خریدار گل رخاں
اس سودے میں صریح ہے نقصان جان کا
کچھ اور گاتے ہیں جو رقیب اس کے روبرو
دشمن ہیں میری جان کے یہ جی ہے تان کا
تسکین اس کی تب ہوئی جب چپ مجھے لگی
مت پوچھ کچھ سلوک مرے بدزبان کا
یاں بلبل اور گل پہ تو عبرت سے آنکھ کھول
گلگشت سرسری نہیں اس گلستان کا
گل یادگار چہرئہ خوباں ہے بے خبر
مرغ چمن نشاں ہے کسو خوش زبان کا
توبرسوں میں کہے ہے ملوں گا میں میر سے
یاں کچھ کا کچھ ہے حال ابھی اس جوان کا
میر تقی میر

جگر مرغ جان سے نکلا

دیوان اول غزل 38
تیر جو اس کمان سے نکلا
جگر مرغ جان سے نکلا
نکلی تھی تیغ بے دریغ اس کی
میں ہی اک امتحان سے نکلا
گو کٹے سر کہ سوز دل جوں شمع
اب تو میری زبان سے نکلا
آگے اے نالہ ہے خدا کا ناؤں
بس تو نُہ آسمان سے نکلا
چشم و دل سے جو نکلا ہجراں میں
نہ کبھو بحر و کان سے نکلا
مر گیا جو اسیر قید حیات
تنگناے جہان سے نکلا
دل سے مت جا کہ حیف اس کا وقت
جو کوئی اس مکان سے نکلا
اس کی شیریں لبی کی حسرت میں
شہد پانی ہو شان سے نکلا
نامرادی کی رسم میر سے ہے
طور یہ اس جوان سے نکلا
میر تقی میر

مکالمے کے لئے عصر کی زبان میں آؤ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 77
اسیرِ حافظہ ہو، آج کے جہان میں آؤ
مکالمے کے لئے عصر کی زبان میں آؤ
پئے ثبات، تغیّر پکارتے ہوئے گزرے
چھتیں شکستہ ہیں نکلو، نئے مکان میں آؤ
زمیں کا وقت سے جھگڑا ہے خود نپٹتے رہیں گے
کہا ہے کس نے کہ تم ان کے درمیان میں آؤ
یہ آٹھ پہر کی دنیا تمہیں بتاؤں کہ کیا ہے!
نکل کے جسم سے کچھ دیر اپنی جان میں آؤ
تمہیں تمہاری الف دید میں میں دیکھنا چاہوں
نظر بچا کے زمانے سے میرے دھیان میں آؤ
آفتاب اقبال شمیم

باقی رہے نہ قرضِ خموشی زبان پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 26
ایسے طلوع قطرہ خون کنج لب سے ہو
باقی رہے نہ قرضِ خموشی زبان پر
کیوں خود پہ رحم کھا کے کہیں اُنگلیوں سے تم
آسودگی کی گرہیں لگاتے ہو جان پر
اے شاہِ صوت! مژدۂ فردا نما سنا
خوش فہمیوں کی آیتیں نازل ہوں کان پر
ہر دم زمینِ عمر سے بے دخلیوں کا خوف
جیسے یہ کشتِ جبر ملی ہو لگان پر
کیا جانئے کہ علم کے کس مرحلے میں ہوں
کیوں جھوٹ کو فروغ دوں سچ کے گمان پر
آفتاب اقبال شمیم

اور اب وہاں بھی نہیں ہے نشانِ گمشدگاں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 133
گیا تھا دل کی طرف کاروانِ گمشدگاں
اور اب وہاں بھی نہیں ہے نشانِ گمشدگاں
ابھی ابھی جو ستارے مرے کنار میں تھے
چمک رہے ہیں سرِ آسمانِ گمشدگاں
سرائے وہم میں کس کو پکارتا ہوں میں
یہ نیم شب‘ یہ سکوت مکانِ گمشدگاں
عجب خلائے سخن ہے سماعتوں کے ادھر
یہ کون بول رہا ہے زبانِ گمشدگاں
میں اپنی کھوئی ہوئی بستیوں کو پہچانوں
اگر نصیب ہو سیرِ جہانِ گمشدگاں
عرفان صدیقی

تری خیر شہر ستم ہوئی کوئی درمیان میں آگیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 82
میں چلا تھا سوچ کے اور کچھ کہ کچھ اور دھیان میں آگیا
تری خیر شہر ستم ہوئی کوئی درمیان میں آگیا
نہ وہ خواب ہیں نہ سراب ہیں نہ وہ داغ ہیں نہ چراغ ہیں
یہ میں کس گلی میں پہنچ گیا، یہ میں کس مکان میں آگیا
یہ لگن تھی خاک اُڑائیے، کبھی بارشوں میں نہائیے
وہ ہوا چلی وہ گھٹا اُٹھی تو میں سائبان میں آگیا
نہ سخن حکایت حال تھا، نہ شکایتوں کا خیال تھا
کوئی خار دشت ملال تھا جو مری زبان میں آگیا
عرفان صدیقی

یہ بغیر تاروں کے بلب آن کیسے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 390
تیرا چہرہ کیسا ہے میرے دھیان کیسے ہیں
یہ بغیر تاروں کے بلب آن کیسے ہیں
خواب میں اسے ملنے کھیت میں گئے تھے ہم
کارپٹ پہ جوتوں کے یہ نشان کیسے ہیں
بولتی نہیں ہے جو وہ زبان کیسی ہے
یہ جو سنتے رہتے ہیں میرے کان کیسے ہیں
روکتے ہیں دنیا کو میری بات سننے سے
لوگ میرے بارے میں بد گمان کیسے ہیں
کیا ابھی نکلتا ہے ماہ تاب گلیوں میں
کچھ کہو میانوالی آسمان کیسے ہیں
کیا ابھی محبت کے گیت ریت گاتی ہے
تھل کی سسی کیسی ہے پنوں خان کیسے ہیں
کیا قطار اونٹوں کی چل رہی ہے صحرا میں
گھنٹیاں سی بجتی ہیں ، ساربان کیسے ہیں
چمنیوں کے ہونٹوں سے کیا دھواں نکلتا ہے
خالی خالی برسوں کے وہ مکان کیسے ہیں
دیکھتا تھا رم جھم سی بیٹھ کر جہاں تنہا
لان میں وہ رنگوں کے سائبان کیسے ہیں
اب بھی وہ پرندوں کو کیا ڈراتے ہیں منصور
کھیت کھیت لکڑی کے بے زبان کیسے ہیں
منصور آفاق

ہو گئے مست عاشقانِ غزل

غزل نمبر 79
(مختار صدیقی کے لئے)
دیکھ کر تجھ میں کچھ نشانِ غزل
ہو گئے مست عاشقانِ غزل
یہ ادائیں، یہ حسن، یہ تیور
تجھ پہ ہونے لگا گمانِ غزل
تیری باتوں کا لطف آتا ہے
اتنی رنگین ہے زبانِ غزل
ہے عبارت غزل سے تیرا غرور
اور قائم ہے تجھ سے شانِ غزل
نت نئے روپ میں ابھرتا ہے
تیرا غم ہے مزاج دانِ غزل
دل کا ہر زخم بول اٹھتا ہے
جب گزرتا ہے کاروانِ غزل
وقت کے ساتھ رخ بدلتا ہے
ہر گھڑی ہے نیا جہانِ غزل
اور بھی کچھ طویل کر دی ہے
غم ہستی نے داستانِ غزل
کچھ طبیعت اداس ہے باقیؔ
آج دیکھا نہیں وہ جانِ غزل
(مختار صدیقی)

اوہ ائی رب اکھواوے جنہوں، جچدی اے ایہہ شان

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 18
بندیا بندہ بن کے رہئو، تے نہ کر ایڈے مان
اوہ ائی رب اکھواوے جنہوں، جچدی اے ایہہ شان
ہنجواں راہیں میں تے اُترن، کیہ کیہ نِگھے بھیت
جگ توں وکھرا ہوندا جاوے، میرا دِین ایمان
میں اُتّے تے اوہدیاں نظراں، ساول بن بن لہن
تریل پوے تے پتھراں نوں وی، ہو جاندا عرفان
ویتنام، کمبوڈیا، سِینا، کوریا تے کشمیر
بندیاں ہتھ بندے دا لہو، جِنج لوہا چڑھیا سان
لفظاں تھانویں پتھر کاہنوں ماجدُ، رولے اج
ریشم تے پٹ اُندی ہوئی، ایہہ تیری نرم زبان
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)