ٹیگ کے محفوظات: زبانیں

خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 78
چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی
خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی
میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں
شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی
شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں
تیز ہوئی ہُوئی سانسیں اُس کی
ایسے موسم بھی گزارے ہم نے
صبحیں جب اپنی تھیں ،شامیں اُس کی
دھیان میں اُس کے یہ عالم تھا کبھی
آنکھ مہتاب کی،یادیں اُس کی
رنگ جوئندہ وہ،آئے تو سہی!
آنکھ مہتاب کی،یادیں اُس کی
فیصلہ موجِ ہَوا نے لکھا!
آندھیاں میری ،بہاریں اُس کی
خُود پہ بھی کُھلتی نہ ہو جس کی نظر
جانتا کون زبانیں اُس کی
نیند اس سوچ سے ٹوٹی اکثر
کس طرح کٹتی ہیں راتیں اُس کی
دُور رہ کر بھی سدا رہتی ہیں
مُجھ کو تھامے ہُوئے باہیں اُس کی
پروین شاکر

گفتگو کرتی چٹانیں یاد آتی ہیں مجھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 591
گنبدوں سی کچھ اٹھانیں یاد آتی ہیں مجھے
گفتگو کرتی چٹانیں یاد آتی ہیں مجھے
میرے گھر میں تو کوئی پتیل کا برتن بھی نہیں
کس لیے سونے کی کانیں یاد آتی ہیں مجھے
ان نئی تعمیر کردہ مسجدوں کو دیکھ کر
کیوں شرابوں کی دکانیں یاد آتی ہیں مجھے
یاد آتی ہے مجھے اک شیرنی سے رسم و راہ
اور دریچوں کی مچانیں یاد آتی ہیں مجھے
جب کبھی جاؤں میانوالی تو عہدِدردکی
کچھ پرانی داستانیں یاد آتی ہیں مجھے
شام جیسے ہی اترتی ہے کنارِ آبِ سندھ
دو پرندوں کی اڑانیں یاد آتی ہیں مجھے
سیکھتی تھی کوئی اردو رات بھر منصور سے
ایک ہوتی دو زبانیں یاد آتی ہیں مجھے
منصور آفاق