ٹیگ کے محفوظات: ریز

یہ یادگارِ یارِ کم آمیز مجھ میں ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 91
جو بے رخی کا رنگ بہُت تیز مجھ میں ہے
یہ یادگارِ یارِ کم آمیز مجھ میں ہے
سیراب ‘ کُنجِ ذات کو رکھتی ہے مستقِل
بہتی ہوئی جو رنج کی کاریز مجھ میں ہے
کاسہ ہے ایک فکر سے مجھ میں بھرا ہُوا
اور اک پیالہ درد سے لب ریز مجھ میں ہے
یہ کربِ رائگانیء اِمکاں بھی ہے’ مگر
تیرا بھی اک خیالِ دل آویز مجھ میں ہے
تازہ کِھلے ہوئے ہیں یہ گل ہاے زخم رنگ
ہر آن ایک موسِمِ خوں ریز مجھ میں ہے
رکھتی ہے میری طبع رَواں ‘ بابِ حرف میں
یہ مستقِل جو درد کی مہمیز مجھ میں ہے
اب تک ہرا بھرا ہے کسی یاد کا شجر
عرفان ! ایک خطّہء زرخیز مجھ میں ہے
عرفان ستار

کہ نہ زاہد کریں جہاں پرہیز

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 1
ہند کی وہ زمیں ہے عشرت خیز
کہ نہ زاہد کریں جہاں پرہیز
وجد کرتے ہیں پی کے مے صوفی
مست سوتے ہیں صبح تک شب خیز
رند کیا یاں تو شاہد و مے سے
پارسا کو نہیں گزیر و گریز
سخت مشکل ہے ایسی عشرت میں
خطرِ حشر و بیمِ رستا خیز
ہے غریبوں کو جراتِ فرہاد
ہے فقیروں کو عشرتِ پرویز
عیش نے یاں بٹھا دیا ناقہ
غم نے کی یاں سے رخش کو مہمیز
کوئی یاں غم کو جانتا بھی نہیں
جز غمِ عشق سو ہے عیش آمیز
بادِ صر صر یہاں نسیمِ چمن
نارِ عنصر سے آتشِ گل تیز
بوستاں کی طرح یہاں صحرا
دل کشا، دل پذیر، دل آویز
کوئی پامالِ جورِ چرخ نہیں
کتنی ہے یہ زمین راحت خیز
اثرِ زہرہ اس میں یاں پایا
وہ جو مریخ ہے بڑا خوں ریز
شیفتہ تھام لو عنانِ قلم
یہ زمیں گرچہ ہے ہوس انگیز
مصطفٰی خان شیفتہ