ٹیگ کے محفوظات: رہ

مٹی تھا، سو مٹی ہو کر رہ جاوں گا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 7
یوں ہی اک دن خاموشی سے ڈھہ جاوں گا
مٹی تھا، سو مٹی ہو کر رہ جاوں گا
ایسی وحشت، ایسا غم، ایسی بے زاری
میں تو سمجھا تھا میں سب کچھ سہہ جاوں گا
اس امید پہ مرتا ہوں میں لمحہ لمحہ
شاید کوئی زندہ شعر ہی کہہ جاوں گا
یہ تکرار_ساعت کچھ دن کی ہے، پھر میں
وقت کنارے کے اس جانب بہہ جاوں گا
میں عرفان کی کھوج میں ہوں، ٹھہروں گا کب تک
تیرے پہلو میں کچھ دن تو رہ جاوں گا
عرفان ستار

دُکھاپنے ہَوا سے کہہ رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 119
سناّٹا فضا میں بہہ رہا ہے
دُکھاپنے ہَوا سے کہہ رہا ہے
برفیلی ہوا میں تن شجر کا
ہونے کا عذاب سہہ رہا ہے
باہر سے نئی سفیدیاں ہیں
اندر سے مکان ڈھہہ رہا ہے
حل ہو گیا خون میں کُچھ ایسے
رگ رگ میں وہ نام بہہ رہا ہے
جنگل سے ڈرا ہُوا پرندہ
شہروں کے قریب رہ رہا ہے
پروین شاکر

اس قافلے میں ہم بھی تھے افسوس رہ گئے

دیوان پنجم غزل 1752
چلتے ہوئے تسلی کو کچھ یار کہہ گئے
اس قافلے میں ہم بھی تھے افسوس رہ گئے
کیا کیا مکان شاہ نشیں تھے وزیر کے
وہ اٹھ گیا تو یہ بھی گرے بیٹھے ڈھہ گئے
اس کج روش سے ملنا خرابات میں نہ تھا
بے طور ہم بھی جاکے ملے بے جگہ گئے
وے زورور جواں جنھیں کہیے پہاڑ تھے
جب آئی موج حادثہ تنکے سے بہ گئے
وہ یار تو نہ تھا تہ دل سے کسو کا میر
ناچار اس کے جور و ستم ہم بھی سہ گئے
میر تقی میر

ہے وہی بات جس میں ہو تہ بھی

دیوان سوم غزل 1268
جی کے لگنے کی میر کچھ کہہ بھی
ہے وہی بات جس میں ہو تہ بھی
حسن اے رشک مہ نہیں رہتا
چار دن کی ہے چاندنی یہ بھی
شور شیریں تو ہے جہاں میں ولے
ہے حلاوت زمانے کی وہ بھی
اس کے پنجے سے دل نکل نہ سکا
زور بیٹھی ہی یار کی گہ بھی
اس زمیں گرد میرے مہ سا نہیں
آسماں پر اگرچہ ہے مہ بھی
کیا کہوں اس کی زلف بن رو رو
میں پراگندہ دل گیا بہ بھی
مضطرب ہو جو ہمرہی کی میر
پھر کے بولا کہ بس کہیں رہ بھی
میر تقی میر

آخر کو روتے روتے پریشاں ہو بہ گئے

دیوان سوم غزل 1264
آنکھوں سے راہ عشق کی ہم جوں نگہ گئے
آخر کو روتے روتے پریشاں ہو بہ گئے
اس عرصے سے گیا ہو کہیں کوئی تو کہیں
چل پھر کے لوگ یاں کے یہیں سارے رہ گئے
کیا کیا ہوئے ہیں اہل زماں ڈھیر خاک کے
کیا کیا مکان دیکھتے ناگاہ ڈھہ گئے
ان دلبروں سے کیا کہیں مظلوم عشق ہم
ناچار ظلم و جور و ستم ان کے سہ گئے
تسبیحیں ٹوٹیں خرقے مصلے پھٹے جلے
کیا جانے خانقاہ میں کیا میر کہہ گئے
میر تقی میر

پر ہوسکے جو پیارے دل میں بھی ٹک جگہ کر

دیوان اول غزل 216
کہتا ہے کون تجھ کو یاں یہ نہ کر تو وہ کر
پر ہوسکے جو پیارے دل میں بھی ٹک جگہ کر
وہ تنگ پوش اک دن دامن کشاں گیا تھا
رکھی ہیں جانمازیں اہل ورع نے تہ کر
کیا قصر دل کی تم سے ویرانی نقل کریے
ہو ہو گئے ہیں ٹیلے سارے مکان ڈھہ کر
ہم اپنی آنکھوں کب تک یہ رنگ عشق دیکھیں
آنے لگا ہے لوہو رخسار پر تو بہ کر
رنگ شکستہ اپنا بے لطف بھی نہیں ہے
یاں کی تو صبح دیکھے اک آدھ رات رہ کر
برسوں عذاب دیکھے قرنوں تعب اٹھائے
یہ دل حزیں ہوا ہے کیا کیا جفائیں سہ کر
ایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کو دار کھینچا
اسرار عاشقی کا پچھتائے یار کہہ کر
طاعت کوئی کرے ہے جب ابر زور جھومے
گر ہوسکے تو زاہد اس وقت میں گنہ کر
کیوں تو نے آخر آخر اس وقت منھ دکھایا
دی جان میر نے جو حسرت سے اک نگہ کر
میر تقی میر

دیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیا

دیوان اول غزل 143
یار عجب طرح نگہ کر گیا
دیکھنا وہ دل میں جگہ کر گیا
تنگ قبائی کا سماں یار کی
پیرہن غنچہ کو تہ کر گیا
جانا ہے اس بزم سے آیا تو کیا
کوئی گھڑی گو کہ تو رہ کر گیا
وصف خط و خال میں خوباں کے میر
نامۂ اعمال سیہ کر گیا
میر تقی میر

کہ راکھ راکھ تعلق میں رہ رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 335
اِدھر نہ آئیں ہواؤں سے کہہ رہا ہوں میں
کہ راکھ راکھ تعلق میں رہ رہا ہوں میں
طلوعِ وصل کی خواہش بھی تیرہ بخت ہوئی
فراقِ یار کے پہلو میں گہہ رہا ہوں میں
مرا مزاج اذیت پسند ہے اتنا
ابھی جو ہونے ہیں وہ ظلم سہہ رہا ہوں میں
مجھے بھلانے کی کوشش میں بھولتے کیوں ہو
کہ لاشعور میں بھی تہہ بہ تہہ رہا ہوں میں
گھروں کے بیچ اٹھائی تھی جو بزرگوں نے
کئی برس سے وہ دیوار ڈھ رہا ہوں میں
کنارِ اشکِ رواں توڑ پھوڑ کر منصور
خود آپ اپنی نگاہوں سے بہہ رہا ہوں میں
منصور آفاق

تم نے میری طرف نہیں ہونا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 47
فائروں کا ہدف نہیں ہونا
تم نے میری طرف نہیں ہونا
نام میرا مٹا دے ہر شے سے
میں نے دل سے حزف نہیں ہونا
ایک موتی ہی پاس ہے اس کے
مجھ سے خالی صدف نہیں ہونا
تم پیو گے تو میں بھی پی لوں گا
یونہی ساغر بکف نہیں ہونا
دیکھتی کیا ہو سوٹ کھدرکا
میں نے اندر سے رف نہیں ہونا
عشق کرنا خیال سے منصور
حسن نے باشرف نہیں ہونا
منصور آفاق

نہ کہنے پر بھی سب کچھ کہہ گئے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 83
لبوں کو کھول کر یوں رہ گئے ہم
نہ کہنے پر بھی سب کچھ کہہ گئے ہم
کبھی طوفان غم سے کش مکش کی
کبھی تنکے کی صورت بہہ گئے ہم
برا ہو اے دل حساس تیرا
بہت دنیا سے پیچھے رہ گئے ہم
تجھے دیکھا تو غم کی یاد آئی
وہ کیسی چوٹ تھی جو سہہ گئے ہم
جہاں نے غور سے دیکھا ہے باقیؔ
نہ جانے جوش میں کیا کہہ گئے ہم
باقی صدیقی