ٹیگ کے محفوظات: رہی

یہ ندی بعد مدت کچھ بہی تو

کہانی آنسوؤں نے کچھ کہی تو
یہ ندی بعد مدت کچھ بہی تو
کہا ہم نے کہ ہو تم بے مروت
کہا ہم بے مروت ہی سہی تو
تری ہی نذر کرنے کو ہے یہ جاں
اگر اغیار سے کچھ بچ رہی تو
ہمیں محفوظ کر رکھا ہے جس نے
یہی دیوار جب سر پر ڈہی تو
تمہاری بات سے میں متفق ہوں
ابھی میں کہہ رہا تھا کچھ یہی تو
جہالت ہی سے بچ جاؤ تو جانیں
بہت مشکل ہے باصرِؔ آگہی تو
باصر کاظمی

مرے کمرے میں گہری خامشی ہے

فضائے جان و دل بہتر ہوئی ہے
مرے کمرے میں گہری خامشی ہے
بہت سادہ، بہت معصوم ہے وہ
اسے میری محبت جانتی ہے
مرے پاؤں ہری شاخوں سے باندھو
مری آنکھوں نے دنیا دیکھ لی ہے
چراغوں کی صفیں سیدھی کراؤ
اندھیری شب ابھی سو کر اٹھی ہے
کسی طوفان کی آمد ہے پیارے
مجھے میری چھٹی حس کہہ رہی ہے
قد و قامت قیامت ہے سنا ہے
مجھے ملنے کی جلدی ہو رہی ہے
خدا، عورت، کتابیں گھر پرندے
مری پانچوں سے گہری دوستی ہے
افتخار فلک

جان بدن میں ٹوٹ چلی ہے ہر جانب

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 82
بچوں کی سی حیرانی ہے ہر جانب
جان بدن میں ٹوٹ چلی ہے ہر جانب
جھپٹے گی جانے کن غافل چوزوں پر
چیل ریا کی گھوم رہی ہے ہر جانب
ساون رُت کے جھاڑوں جھنکاروں جیسی
خاموشی کی فصل اُگی ہے ہر جانب
کون ہے جو دیکھے، الہڑ آشاؤں کی
مانگ میں کیا کیا راکھ بھری ہے ہر جانب
زوروں پر ہے فصل نئے آسیبوں کی
ڈائن ڈائن گود ہری ہے ہر جانب
ماجدؔ خوف سے کیا کیا چہرے زرد ہوئے
دیکھ عجب سرسوں پھولی ہے ہر جانب
ماجد صدیقی

اور اس کی زبان اجنبی تھی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 86
اک گیت ہوا کے ہونٹ پر تھا
اور اس کی زبان اجنبی تھی
اس رات جبین ماہ پر بھی
تحریر کوئی قدیم سی تھی
یہ عشق نہیں تھا اس زمیں کا
اس میں کوئی بات سرمدی تھی
جوروشنی تھی میرے جہاں کی
وہ خیرہ آنکھوں کو کر رہی تھی
پروین شاکر

مہکی ہوئی وہ چادرِ گل بار کیا ہوئی

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 5
شاخوں بھری بہار میں رقص برہنگی
مہکی ہوئی وہ چادرِ گل بار کیا ہوئی
بے نغمہ و صدا ہے وہ بت خانۂِ خیال
کرتے تھے گفتگو جہاں پتھر کے ہونٹ بھی
وہ پھر رہے ہیں زخم بہ پا آج دشت دشت
قدموں میں جن کے شاخِ گلِ تر جھکی رہی
یوں بھی بڑھی ہے وسعت ایوانِ رنگ و بو
دیوارِ گلستان درِ زنداں سے جا ملی
رعنائیاں چمن کی تو پہلے بھی کم نہ تھیں
اب کے مگر سجائی گئی شاخِ دار بھی
شکیب جلالی

یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی ، بھول گئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 169
مستیء حال کبھی تھی ، کہ نہ تھی ، بھول گئے
یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی ، بھول گئے
یوں مجھے بھیج کے تنہا سر بازار فریب
کیا میرے دوست میری سادہ دلی بھول گئے
میں تو بے حس ہوں ، مجھے درد کا احساس نہیں
چارہ گر کیوں روش چارہ گری بھول گئے؟
اب میرے اشک محبت بھی نہیں آپ کو یاد
آپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بھول گئے
اب مجھے کوئی دلائے نہ محبت کا یقیں
جو مجھے بھول نہ سکتے تھے وہی بھول گئے
اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم
اپنا گھر بھول گئے ، ان کی گلی بھول گئے
کیا کہیں کتنی ہی باتیں تھیں جو اب یاد نہیں
کیا کریں ہم سے بڑی بھول ہوئی ، بھول گئے
جون ایلیا

یاد آئے گی اب تری کب تک

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 80
خون تھوکے گی زندگی کب تک
یاد آئے گی اب تری کب تک
جانے والوں سے پوچھنا یہ صبا
رہے آباد دل گلی کب تک
ہو کبھی تو شرابِ وصل نصیب
پیے جاؤں میں خون ہی کب تک
دل نے جو عمر بھر کمائی ہے
وہ دُکھن دل سے جائے گی کب تک
جس میں تھا سوزِ آرزو اس کا
شبِ غم وہ ہوا چلی کب تک
بنی آدم کی زندگی ہے عذاب
یہ خدا کو رُلائے گی کب تک
حادثہ زندگی ہے آدم کی
ساتھ دے گی بَھلا خوشی کب تک
ہے جہنم جو یاد اب اس کی
وہ بہشتِ وجود تھی کب تک
وہ صبا اس کے بِن جو آئی تھی
وہ اُسے پوچھتی رہی کب تک
میر جونی! ذرا بتائیں تو
خود میں ٹھیریں گے آپ ہی کب تک
حالِ صحنِ وجود ٹھیرے گا
تیرا ہنگامِ رُخصتی کب تک
جون ایلیا

تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 41
گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا
مل رہی ہو بڑ ے تپاک کے ساتھ
مجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
یاد ہیں اب بھی اپنے خواب تمہیں
مجھ سے مل کر اداس بھی ہو کیا
بس مجھے یوں ہی اک خیال آیا
سوچتی ہو ، تو سوچتی ہو کیا
اب مری کوئی زندگی ہی نہیں
اب بھی تم میری زندگی ہو کیا
کیا کہا عشق جاودانی ہے
آخری بار مل رہی ہو کیا
ہاں فضا یاں کی سوئی سوئی سی ہے
تو بہت تیز روشنی ہو کیا؟
میرے سب طنز بے اثر ہی رہے
تم بہت دور جا چکی ہو کیا؟
دل میں اب سوزِ انتظار نہیں
شمعِ امید بجھ گئی ہو کیا؟
اس سمندر پہ تشنہ کام ہوں میں
بان، تم اب بھی بہہ رہی ہو کیا
جون ایلیا

پر یہ کہا نہ ظالم اس کی نہیں سہی ہے

دیوان سوم غزل 1282
صدگونہ عاشقی میں ہم نے جفا سہی ہے
پر یہ کہا نہ ظالم اس کی نہیں سہی ہے
کرتی پھری ہے رسوا سارے چمن میں مجھ کو
گر کوئی بات دل کی بلبل سے میں کہی ہے
ہے صبح کا سا عرصہ پیری کا اس میں کیا ہو
باقی ہے وقت کتنا فرصت کہاں رہی ہے
درویش جب ہوئے ہم تب ہے ہمیں برابر
کشکول بازگوں ہے یا افسرشہی ہے
جیتے رہے بہت ہم جو یہ ستم اٹھائے
عمر دراز کی سب تقصیر و کوتہی ہے
رونے میں متصل ہے ہونٹوں پہ آہ میری
جاتا نہیں ہے سمجھا یہ بائو کیا بہی ہے
آزار عاشقی میں کاہے کی پھر توقع
ہوجائے یاس جس سے سو رنج یہ وہی ہے
روتا ہمیں نظر کر رہنا کیے کنارہ
چڑھنا ہمارے منھ پہ دریا کی بے تہی ہے
چلاہٹ اس طرح کی جز میر کس سے ہووے
باور نہ ہو تو دیکھو یہ ہو نہ ہو وہی ہے
میر تقی میر

اک سارے تن بدن میں مرے پھک رہی ہے آگ

دیوان دوم غزل 847
کیا عشق خانہ سوز کے دل میں چھپی ہے آگ
اک سارے تن بدن میں مرے پھک رہی ہے آگ
گلشن بھرا ہے لالہ و گل سے اگرچہ سب
پر اس بغیر اپنے تو بھائیں لگی ہے آگ
پائوں میں پڑ گئے ہیں پھپھولے مرے تمام
ہر گام راہ عشق میں گویا دبی ہے آگ
جل جل کے سب عمارت دل خاک ہو گئی
کیسے نگر کو آہ محبت نے دی ہے آگ
اب گرم و سرد دہر سے یکساں نہیں ہے حال
پانی ہے دل ہمارا کبھی تو کبھی ہے آگ
کیونکر نہ طبع آتشیں اس کی ہمیں جلائے
ہم مشت خس کا حکم رکھیں وہ پری ہے آگ
کب لگ سکے ہے عشق جہاں سوز کو ہوس
ماہی کی زیست آب سمندر کا جی ہے آگ
روز ازل سے آتے ہیں ہوتے جگر کباب
کیا آج کل سے عشق کی یارو جلی ہے آگ
انگارے سے نہ گرتے تھے آگے جگر کے لخت
جب تب ہماری گود میں اب تو بھری ہے آگ
یارب ہمیشہ جلتی ہی رہتی ہیں چھاتیاں
یہ کیسی عاشقوں کے دلوں میں رکھی ہے آگ
افسردگی سوختہ جاناں ہے قہر میر
دامن کو ٹک ہلا کہ دلوں کی بجھی ہے آگ
میر تقی میر

یہ موج تو تہہِ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 52
جو دِل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی
یہ موج تو تہہِ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی
جھکیں جو سوچتی پلکیں تو میری دنیا کو
ڈبو گئی وہ ندی جو ابھی بہی بھی نہ تھی
سنی جو بات کوئی ان سنی تو یاد آیا
وہ دِل کہ جس کی کہانی کبھی کہی بھی نہ تھی
نگر نگر وہی آنکھیں، پس زماں، پسِ در
مری خطا کی سزا عمرِ گمرہی بھی نہ تھی
کسی کی روح تک اک فاصلہ خیال کا تھا
کبھی کبھی تو یہ دوری رہی سہی بھی نہ تھی
نشے کی رو میں یہ جھلکا ہے کیوں نشے کا شعور
اس آگ میں تو کوئی آبِ آگہی بھی نہ تھی
غموں کی راکھ سے امجد وہ غم طلوع ہوئے
جنھیں نصیب اک آہِ سحرگہی بھی نہ تھی
مجید امجد

ہے یاد مجھے رنگوں بھری سات مئی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 482
اک شخص نے ہونٹوں سے کوئی نظم کہی تھی
ہے یاد مجھے رنگوں بھری سات مئی تھی
میں انگلیاں بالوں میں یونہی پھیر رہا تھا
وہ کمرے کی کھڑکی سے مجھے دیکھ رہی تھی
اس شخص کے گھر وہی حالت تھی مگر اب
بِڈ روم کی دیوار پہ تصور نئی تھی
آئی ہے پلٹ کر کئی صدیوں کے سفر سے
اس گیٹ کے اندر جو ابھی کار گئی تھی
موسم کے تغیر نے لکھا مرثیہ اس کا
منصور ندی مل کے جو دریا سے بہی تھی
منصور آفاق

شاید یہ زندگی کی جادو گری ہے خواب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 134
بہتی بہار سپنا، چلتی ندی ہے خواب
شاید یہ زندگی کی جادو گری ہے خواب
ایسا نہ ہو کہ کوئی دروازہ توڑ دے
رکھ آؤ گھر سے باہر بہتر یہی ہے خواب
تُو نے بدل لیا ہے چہرہ تو کیا کروں
میری وہی ہیں آنکھیں میرا وہی ہے خواب
میں لکھ رہا ہوں جس کی کرنوں کے سبز گیت
وہ خوبرو زمانہ شاید ابھی ہے خواب
ہر سمت سے وہ آئے قوسِ قزح کے ساتھ
لگتا ہے آسماں کی بارہ دری ہے خواب
اس کے لیے ہیں آنکھیں اس کے لیے ہے نیند
جس میں دکھائی دوں میں وہ روشنی ہے خواب
دل نے مکانِ جاں تو دہکا دیا مگر
اْس لمسِ اخگری کی آتش زنی ہے خواب
اک شخص جا رہا ہے اپنے خدا کے پاس
دیکھو زمانے والو! کیا دیدنی ہے خواب
تجھ سے جدائی کیسی ، تجھ سے کہاں فراق
تیرا مکان دل ہے تیری گلی ہے خواب
سورج ہیں مانتا ہوں اس کی نگاہ میں
لیکن شبِ سیہ کی چارہ گری ہے خواب
امکان کا دریچہ میں بند کیا کروں
چشمِ فریب خوردہ پھر بُن رہی ہے خواب
رک جا یہیں گلی میں پیچھے درخت کے
تجھ میں کسی مکاں کی کھڑکی کھلی ہے، خواب
منصور وہ خزاں ہے عہدِ بہار میں
ہنستی ہوئی کلی کی تصویر بھی ہے خواب
منصور آفاق