ٹیگ کے محفوظات: رہنمائی

سِواہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 19
شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا
سِواہے رنج ہمیں تیری بے وفائی کا
تجھے بھی ذوق نئے تجربات کا ہو گا
ہمیں بھی شوق تھا کُچھ بخت آزمائی کا
جو میرے سر سے دوپٹہ نہ ہٹنے دیتا تھا
اُسے بھی رنج نہیں میری بے ردائی کا
سفر میں رات جو آئی تو ساتھ چھوڑ گئے
جنھوں نے ہاتھ بڑھایا تھا رہنمائی کا
ردا چھٹی مرے سر سے،مگر میں کیا کہتی
کٹا ہُوا تو نہ تھا ہاتھ میرے بھائی کا
ملے تو ایسے،رگِ جاں کو جیسے چُھو آئے
جُدا ہُوئے تو وہی کرب نارسائی کا
کوئی سوال جو پُوچھے ،تو کیا کہوں اُس سے
بچھڑنے والے!سبب تو بتا جدائی کا
میں سچ کو سچ ہی کہوں گی ،مجھے خبر ہی نہ تھی
تجھے بھی علم نہ تھا میری اس بُرائی کا
نہ دے سکا مجھے تعبیر،خواب تو بخشے
میں احترام کروں گی تری بڑائی کا
پروین شاکر

دیکھی نہ بے ستوں میں زور آزمائی دل

دیوان دوم غزل 851
پوشیدہ کیا رہے ہے قدرت نمائی دل
دیکھی نہ بے ستوں میں زور آزمائی دل
ہے تیرہ یہ بیاباں گرد و غبار سے سب
دے راہ کب دکھائی بے رہنمائی دل
اندوہ و غم سے اکثر رہتا ہوں میں مکدر
کیا خاک میں ملی ہے میری صفائی دل
پیش آوے کوئی صورت منھ موڑتے نہیں وے
آئینہ ساں جنھیں ہے کچھ آشنائی دل
مر تو نہیں گیا میں پر جی ہی جانتا ہے
گذرے ہے شاق مجھ پر جیسی جدائی دل
اس دامگہ میں اس کے سارے فریب ہی ہیں
آتی نہیں نظر کچھ مجھ کو رہائی دل
گر رنگ ہے چلا ہے ور بو ہے تو ہوا ہے
کہہ میر اس چمن میں کس سے لگایئے دل
میر تقی میر

نہ پیش آوے اگر مرحلہ جدائی کا

دیوان دوم غزل 721
طریق خوب ہے آپس میں آشنائی کا
نہ پیش آوے اگر مرحلہ جدائی کا
ہوا ہے کنج قفس ہی کی بے پری میں خوب
کہ پر کے سال تلک لطف تھا رہائی کا
یہیں ہیں دیر و حرم اب تو یہ حقیقت ہے
دماغ کس کو ہے ہر در کی جبہہ سائی کا
نہ پوچھ مہندی لگانے کی خوبیاں اپنی
جگر ہے خستہ ترے پنجۂ حنائی کا
نہیں جہان میں کس طرف گفتگو دل سے
یہ ایک قطرئہ خوں ہے طرف خدائی کا
کسو پہاڑ میں جوں کوہکن سر اب ماریں
خیال ہم کو بھی ہے بخت آزمائی کا
بجا رہا نہ دل شیخ شور محشر سے
جگر بھی چاہے ہے کچھ تھامنا اوائی کا
رکھا ہے باز ہمیں در بدر کے پھرنے سے
سروں پہ اپنے ہے احساں شکستہ پائی کا
ملا کہیں تو دکھا دیں گے عشق کا جنگل
بہت ہی خضر کو غرہ ہے رہنمائی کا
نہ انس مجھ سے ہوا اس کو میں ہزار کہا
جگر میں داغ ہے اس گل کی بیوفائی کا
جہاں سے میر ہی کے ساتھ جانا تھا لیکن
کوئی شریک نہیں ہے کسو کی آئی کا
میر تقی میر

بات اپنی پرائی کرتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 126
آپ سے آشنائی کرتے ہیں
بات اپنی پرائی کرتے ہیں
کر رہے ہیں کوئی خطا جیسے
اس طرح ہم بھلائی کرتے ہیں
جن پہ ہوتا ہے اعتبار وہی
وقت پر بے وفائی کرتے ہیں
راہ سے آشنا نہیں پھر بھی
حسرت رہنمائی کرتے ہیں
بھول جاتے ہیں خود کو بھی باقیؔ
لوگ جب ہمنوائی کرتے ہیں
باقی صدیقی