ٹیگ کے محفوظات: رہبری

تھی ورنہ جانے کب سے طبیعت بھری ہوئی

اچھا ہوا کہ بات بہت سرسری ہوئی
تھی ورنہ جانے کب سے طبیعت بھری ہوئی
پَل میں نکال پھینکنا دل کے مکین کو
ایسی تو آج تک نہ کوئی بے گھری ہوئی
اب انتظار کیجیے اگلی بہار کا
ہے شاخ کون سی جو خِزاں میں ہری ہوئی
رہتا ہے کارواں سے الگ میرِ کارواں
اے اہلِ کارواں یہ عجب رہبری ہوئی
ہر بار تم کو اُس کا کہا ماننا پڑے
باصرِؔ یہ دوستی تو نہیں نوکری ہوئی
باصر کاظمی

آپ کو نوکری مُبارک ہو

دشت کی سروری مُبارک ہو
آپ کو نوکری مُبارک ہو
خوف کھاویں گے اب تو دشمن بھی
سانپ سے دوستی مُبارک ہو
قافلہ آسماں سے گزرے گا
رہ نما! رہبری مُبارک ہو
یار! کیا دِل رُبا خبر دی ہے
خیر ہو! پیشگی مُبارک ہو
مشکلیں ٹل گئیں قرینے سے
المدد یا علیؑ مُبارک ہو
افتخار فلک