ٹیگ کے محفوظات: رگڑ

ٹھہرے ہے آرسی بھی دانتوں زمیں پکڑ کر

دیوان اول غزل 215
دیکھ اس کو ہنستے سب کے دم سے گئے اکھڑ کر
ٹھہرے ہے آرسی بھی دانتوں زمیں پکڑ کر
کیا کیا نیاز طینت اے ناز پیشہ تجھ بن
مرتے ہیں خاک رہ سے گوڑے رگڑ رگڑ کر
قد کش چمن کے اپنی خوبی کو نیو چلے ہیں
پایا پھل اس سے آخر کیا سرو نے اکڑ کر
وہ سر چڑھا ہے اتنا اپنی فروتنی سے
کھویا ہمیں نے اس کو ہر لحظہ پائوں پڑ کر
پاے ثبات بھی ہے نام آوری کو لازم
مشہور ہے نگیں جو بیٹھا ہے گھر میں گڑ کر
دوری میں دلبروں کی کٹتی ہے کیونکے سب کی
آدھا نہیں رہا ہوں تجھ سے تو میں بچھڑ کر
اب کیسا زہد و تقویٰ دارو ہے اور ہم ہیں
بنت العنب کے اپنا سب کچھ گیا گھسڑ کر
دیکھو نہ چشم کم سے معمورئہ جہاں کو
بنتا ہے ایک گھر یاں سو صورتیں بگڑ کر
اس پشت لب کے اوپر دانے عرق کے یوں ہیں
یاقوت سے رکھے ہیں جوں موتیوں کو جڑ کر
ناسازگاری اپنے طالع کی کیا کہیں ہم
آیا کبھو نہ یاں ٹک غیروں سے یار لڑ کر
اپنے مزاج میں بھی ہے میر ضد نہایت
پھر مر ہی کے اٹھیں گے بیٹھیں گے ہم جو اڑ کر
میر تقی میر