ٹیگ کے محفوظات: رُسوائی

عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

آج تو بے سبب اُداس ہے جی
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی
جلتا پھرتا ہوں میں دوپہروں میں
جانے کیا چیز کھو گئی میری
وہیں پھرتا ہوں میں بھی خاک بسر
اس بھرے شہر میں ہے ایک گلی
چھپتا پھرتا ہے عشق دُنیا سے
پھیلتی جا رہی ہے رُسوائی
ہم نشیں کیا کہوں کہ وہ کیا ہے
چھوڑ یہ بات نیند اُڑنے لگی
آج تو وہ بھی کچھ خموش سا تھا
میں نے بھی اُس سے کوئی بات نہ کی
ایک دم اُس کے ہونٹ چوم لیے
یہ مجھے بیٹھے بیٹھے کیا سوجھی
ایک دم اُس کا ہاتھ چھوڑ دیا
جانے کیا بات درمیاں آئی
تو جو اِتنا اُداس ہے ناصر
تجھے کیا ہو گیا بتا تو سہی
ناصر کاظمی

اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 77
کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
اُن نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مُجھے چھوڑ دیا اُس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رُسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا، لَوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات اچھی مرے ہرجائی کی
تیرا پہلو، ترے دل کی طرح آباد ہے
تجھ پہ گُزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی
اُس نے جلتی ہُوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
رُوح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اُٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
پروین شاکر

حرف آتا ہے مسیحائی پر

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 38
کیسے چھوڑیں اُسے تنہائی پر
حرف آتا ہے مسیحائی پر
اُس کی شہرت بھی تو پھیلی ہر سُو
پیار آنے لگا رُسوائی پر
ٹھہرتی ہی نہیں آنکھیں ، جاناں !
تیری تصویر کی زیبائی پر
رشک آیا ہے بہت حُسن کو بھی
قامتِ عشق کی رعنائی پر
سطح سے دیکھ کے اندازے لگیں
آنکھ جاتی نہیں گہرائی پر
ذکر آئے گا جہاں بھونروں کا
بات ہو گی مرے ہرجائی پر
خود کو خوشبو کے حوالے کر دیں
پُھول کی طرز پذیرائی پر
پروین شاکر

دِل یہ چاہے ہے کہ شہرت ہو نہ رُسوائی ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 120
ہم سے شاید ہی کبھی اُس کی شناسائی ہو
دِل یہ چاہے ہے کہ شہرت ہو نہ رُسوائی ہو
وہ تھکن ہے کہ بدن ریت کی دیوار سا ہے
دشمنِ جاں ہے، وہ پچھوا ہو کہ پُروائی ہو
ہم وہاں کیا نگہِ شوق کو شرمندہ کریں
شہر کا شہر جہاں اُس کا تماشائی ہو
دَرد کیسا جو ڈبوئے نہ بہا لے جائے
کیا ندی جس میں روانی ہو، نہ گہرائی ہو
کچھ تو ہو جو تجھے ممتاز کرے اوروں سے
جان لینے کا ہنر ہو کہ مسیحائی ہو
تم سمجھتے ہو جسے سنگِ ملامت عرفانؔ
کیا خبر وہ بھی کوئی رسمِ پذیرائی ہو
عرفان صدیقی