ٹیگ کے محفوظات: رُخصتی

یاد آئے گی اب تری کب تک

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 80
خون تھوکے گی زندگی کب تک
یاد آئے گی اب تری کب تک
جانے والوں سے پوچھنا یہ صبا
رہے آباد دل گلی کب تک
ہو کبھی تو شرابِ وصل نصیب
پیے جاؤں میں خون ہی کب تک
دل نے جو عمر بھر کمائی ہے
وہ دُکھن دل سے جائے گی کب تک
جس میں تھا سوزِ آرزو اس کا
شبِ غم وہ ہوا چلی کب تک
بنی آدم کی زندگی ہے عذاب
یہ خدا کو رُلائے گی کب تک
حادثہ زندگی ہے آدم کی
ساتھ دے گی بَھلا خوشی کب تک
ہے جہنم جو یاد اب اس کی
وہ بہشتِ وجود تھی کب تک
وہ صبا اس کے بِن جو آئی تھی
وہ اُسے پوچھتی رہی کب تک
میر جونی! ذرا بتائیں تو
خود میں ٹھیریں گے آپ ہی کب تک
حالِ صحنِ وجود ٹھیرے گا
تیرا ہنگامِ رُخصتی کب تک
جون ایلیا