ٹیگ کے محفوظات: رو

پلکیں بھگو رہے تھے مرے سامنے درخت

سرسبز ہو رہے تھے مرے سامنے درخت
پلکیں بھگو رہے تھے مرے سامنے درخت
گلشن بہار و بخت سے مہکا دیا گیا
جب ہوش کھو رہے تھے مرے سامنے درخت
دیکھا ہے میں نے آج بڑے انہماک سے
بیدار ہو رہے تھے مرے سامنے درخت
اِس خوابِ دل گداز کی تعبیر تو بتا
کل شام رو رہے تھے مرے سامنے درخت
پنچھی تمام رات مجھے گھورتے رہے
جنگل میں سو رہے تھے مرے سامنے درخت
افتخار فلک

تنہائی میں رو لیں گے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 131
کچھ نہ کسی سے بولیں گے
تنہائی میں رو لیں گے
ہم بے راہ رووں کا کیا
ساتھ کسی کے ہو لیں گے
خود تو ہوئے رسوا لیکن
تیرے بھید نہ کھولیں گے
جیون زہر بھرا ساگر
کب تک امرت گھولیں گے
ہجر کی شب سونے والے
حشر کو آنکھیں کھولیں گے
پھر کوئی آندھی اُٹھے گی
پنچھی جب پر تولیں گے
نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئی تو سو لیں گے
احمد فراز

کسی کے دھیان میں تم کھو گئے کیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 31
غزل سُن کر پریشاں ہو گئے کیا
کسی کے دھیان میں تم کھو گئے کیا
یہ بیگانہ روی پہلی نہیں تھی
کہو تم بھی کسی کے ہو گئے کیا
نہ پرسش کو نہ سمجھانے کو آئے
ہمارے یار ہم کو رو گئے کیا
ابھی کچھ دیر پہلے تک یہیں تھے
زمانہ ہو گیا تم کو گئے کیا
کسی تازہ رفاقت کی جھلک ہے
پرانے زخم اچھے ہو گئے کیا
پلٹ کر چارہ گر کیوں آ گئے ہیں
شبِ فرقت کے مارے سو گئے کیا
فراز اتنا نہ اترا حوصلے پر
اسے بھولے زمانے ہو گئے کیا
احمد فراز

اُس کا قلق ہے ایسا کہ میں سو نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 13
اک خواب نیند کا تھا سبب، جو نہیں رہا
اُس کا قلق ہے ایسا کہ میں سو نہیں رہا
وہ ہو رہا ہے جو میں نہیں چاہتا کہ ہو
اور جو میں چاہتا ہوں وہی ہو نہیں رہا
نم دیدہ ہوں، کہ تیری خوشی پر ہوں خوش بہت
چل چھوڑ، تجھ سے کہہ جو دیا، رو نہیں رہا
یہ زخم جس کو وقت کا مرہم بھی کچھ نہیں
یہ داغ، سیلِ گریہ جسے دھو نہیں رہا
اب بھی ہے رنج، رنج بھی خاصا شدید ہے
وہ دل کو چیرتا ہوا غم گو نہیں رہا
آباد مجھ میں تیرے سِوا اور کون ہے؟
تجھ سے بچھڑ رہا ہوں تجھے کھو نہیں رہا
کیا بے حسی کا دور ہے لوگو۔ کہ اب خیال
اپنے سِوا کسی کا کسی کو نہیں رہا
عرفان ستار

یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وو آئے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 205
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی "کہ وو آئے”
ہوں کشمکشِ نزع میں ہاں جذبِ محبّت
کچھ کہہ نہ سکوں، پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالم
آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آئے
ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین
ہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے
جلاّد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتے
ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
ہاں اہلِ طلب! کون سنے طعنۂ نا یافت
دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
اپنا نہیں وہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں
اس در پہ نہیں بار تو کعبے ہی کو ہو آئے
کی ہم نفسوں نے اثرِ گریہ میں تقریر
اچّھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
اس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے غالب
ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
مرزا اسد اللہ خان غالب

برات عاشقاں بر شاخ آہو

دیوان ششم غزل 1866
لکھے ہے کچھ تو کج کر چشم و ابرو
برات عاشقاں بر شاخ آہو
گیا وہ ساتھ سوتے لے کے کروٹ
لگا بستر سے پھر اپنا نہ پہلو
اڑے ہے خاک سی سارے چمن میں
پھرا ہے آہ کس کا واں سے گل رو
جدھر پھرتے تھے چنتے پھول ہنستے
ادھر ٹپکے ہیں اب تک میرے آنسو
جدا ہوتے ہی گل خنداں ہوا میر
کیا تھا اس کا گل تکیہ جو بازو
میر تقی میر

چھانہہ میں جاکے ببولوں کی ہم عشق و جنوں کو رو آئے

دیوان پنجم غزل 1728
کیا کہیے کچھ بن نہیں آتی جنگل جنگل ہو آئے
چھانہہ میں جاکے ببولوں کی ہم عشق و جنوں کو رو آئے
دل کی تلاش میں اٹھ کے گئے تھے شاید یاں پیدا ہو سو
جان کا اپنی گرامی گوہر اس کی گلی میں کھو آئے
آہوے عرفاں صید انھوں کا گر نہ ہوا نقصان کیا
اس عالم سے اس عالم میں کسب کمال کو جو آئے
کچھ کہنے کا مقام نہ تھا وہ وا ہوتا تو کہتے کچھ
آنا نہ آنا یکساں تھا واں ہوتے ادھر ہم گو آئے
سب کہتے تھے چین کرے گا کچھ بھی نہ دیکھا جز سختی
پتھر رکھ کے سرہانے ہم ٹک اس کی گلی میں سو آئے
کیا ہی دامن گیر تھی یارب خاک بسمل گاہ وفا
اس ظالم کی تیغ تلے سے ایک گیا تو دو آئے
سر دینا ٹھہرا کر ہم نے پائوں کو باہر رکھا تھا
ہر سو ہو دشوار ہے پھرنا میر ادھر اب تو آئے
میر تقی میر

کھنچا جائے ہے دل کسو کی طرف

دیوان پنجم غزل 1654
نظر کیوں گئی رو و مو کی طرف
کھنچا جائے ہے دل کسو کی طرف
نہ دیکھو کبھی موتیوں کی لڑی
جو دیکھو مری گفتگو کی طرف
اگر آرسی میں صفائی ہے لیک
نہیں کرتی منھ اس کے رو کی طرف
چڑھے نہ کہیں کود یہ مغز میں
نہ کر شانہ تو گل کی بو کی طرف
اسے ڈھونڈتے میر کھوئے گئے
کوئی دیکھے اس جستجو کی طرف
میر تقی میر

بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر

دیوان پنجم غزل 1617
اک آدھ دن نکل مت اے ابر ادھر سے ہوکر
بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر
اب کل نہیں ہے تجھ کو بے قتل غم کشوں کے
کہتے تو تھے کہ ظالم خوں ریزی سے نہ خو کر
کہتے ہیں راہ پائی زاہد نے اس گلی کی
روتا کہیں نہ آوے ایمان و دیں کو کھو کر
ہے نظم کا سلیقہ ہرچند سب کو لیکن
جب جانیں کوئی لاوے یوں موتی سے پرو کر
کیا خوب زندگی کی دنیا میں شیخ جی نے
تعبیر کرتے ہیں سب اب ان کو مردہ شو کر
گو تیرے ہونٹ ظالم آب حیات ہوں اب
کیا ہم کو جی کی بیٹھے ہم جی سے ہاتھ دھو کر
کس کس ادا سے فتنے کرتے ہیں قصد ادھر کا
جب بے دماغ سے تم اٹھ بیٹھتے ہو سو کر
ٹکڑے جگر کے میرے مت چشم کم سے دیکھو
کاڑھے ہیں یہ جواہر دریا کو میں بلو کر
احوال میرجی کا مطلق گیا نہ سمجھا
کچھ زیر لب کہا بھی سو دیر دیر رو کر
میر تقی میر

نرمی بھی کاش دیتا خالق ٹک اس کی خو کو

دیوان چہارم غزل 1469
وہ گل سا رو سراہوں یا پیچ دار مو کو
نرمی بھی کاش دیتا خالق ٹک اس کی خو کو
ان گیسوئوں کے حلقے ہیں چشم شوق عاشق
وے آنکھیں دیکھتی ہیں حسرت سے اس کے رو کو
دم کی کشش سے کوشش معلوم تو ہے لیکن
پاتے نہیں ہم اس کی کچھ طرز جستجو کو
آلودہ خون دل سے صد حرف منھ پر آئے
مرغ چمن نہ سمجھا انداز گفتگو کو
دل میر دلبروں سے چاہا کرے ہے کیا کیا
کچھ انتہا نہیں ہے عاشق کی آرزو کو
میر تقی میر

خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم

دیوان چہارم غزل 1440
تجا ہے حیرت عشقی سے گفتگو کو ہم
خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم
اگرچہ وصل ہے پر ہیں طلب میں سرگرداں
پہ وہم کار ہی جاتے ہیں جستجو کو ہم
اب اپنی جان سے ہیں تنگ دم رکا ہے بہت
ملا ہی دیں گے تری تیغ سے گلو کو ہم
جلا کے خاک کرے وہ کہ رہ کے داغ کرے
لگا دیں آگ سے کیا اپنی گرم خو کو ہم
مرید پیر خرابات یوں نہ ہوتے میر
سمجھتے عارف اگر اور بھی کسو کو ہم
میر تقی میر

آج لہو آنکھوں میں آیا درد و غم سے رو رو کر

دیوان چہارم غزل 1389
کل سے دل کی کل بگڑی ہے جی مارا بے کل ہوکر
آج لہو آنکھوں میں آیا درد و غم سے رو رو کر
ایک سجود خلوص دل سے آہ کیا نہ جوانی میں
سر مارے ہیں محرابوں میں یوں ہی وقت کو اب کھو کر
جیب دریدہ خاک ملوں کے حال سے کیا آگاہی تمھیں
راہ چلو ہو نازکناں دامن کو لگا کر تم ٹھوکر
ایک تو ہم تو ہوتے نہیں ہیں سر بہتیرا مار چکے
اب بہتر ہے تیغ ستم کی جلد لگا کر تو دوکر
جی ہی ملا جاتا ہے اپنا میر سماں یہ دیکھے سے
آنکھیں ملتے اٹھتے ہیں بستر سے دلبر جب سو کر
میر تقی میر

وہ جو بے رو اس طرف ٹک رو کرے

دیوان سوم غزل 1286
کوئی ساحر اس کو کچھ جادو کرے
وہ جو بے رو اس طرف ٹک رو کرے
دور سے ٹک ملتفت ہوتے رہو
جب تلک دوری سے کوئی خو کرے
دم میں ہو آئینۂ عالم سیاہ
ایک اگر عاشق قلندر ہو کرے
کس سے تیری چاہیے داد ستم
کاش انصاف اپنے دل میں تو کرے
غنچہ پیشانی چمن میں میں رہا
بے دماغ عشق گل کیا بو کرے
لوہو پانی ایک کر دیتا ہے عشق
پانی کردے چشم دل لوہو کرے
اب جنوں میں میر سوے دشت جائے
کار وحشت کے تئیں یک سو کرے
میر تقی میر

غصے سے تیغ اکثر اپنے رہی گلو پر

دیوان سوم غزل 1139
کیا جانیں گے کہ ہم بھی عاشق ہوئے کسو پر
غصے سے تیغ اکثر اپنے رہی گلو پر
ہر کوئی چاہتا ہے سرمہ کرے نظر کا
ہونے لگے ہیں اب تو خون اس کی خاک کو پر
کر باغباں حیا ٹک گل کو نہ ہاتھ میں مل
دیتی ہے جان بلبل پھولوں کے رنگ و بو پر
حسرت سے دیکھتے ہیں پرواز ہم صفیراں
شائستہ بھی ہمارے ایسے ہی تھے کبھو پر
حرف و سخن کرے ہے کس لطف سے برابر
سلک گہر بھی صدقے کی اس کی گفتگو پر
گو شوق سے ہو دل خوں مجھ کو ادب وہی ہے
میں رو کبھو نہ رکھا گستاخ اس کے رو پر
تن راکھ سے ملا سب آنکھیں دیے سی جلتی
ٹھہری نظر نہ جوگی میر اس فتیلہ مو پر
میر تقی میر

کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح

دیوان سوم غزل 1125
یاد آگیا تو بہنے لگیں آنکھیں جو کی طرح
کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح
چسپاں قبا وہ شوخ سدا غصے ہی رہا
چین جبیں سے اس کی اٹھائی اتو کی طرح
گالی لڑائی آگے تو تم جانتے نہ تھے
اب یہ نکالی تم نے نئی گفتگو کی طرح
ہم جانتے تھے تازہ بناے جہاں کو لیک
یہ منزل خراب ہوئی ہے کبھو کی طرح
سرسبز ہم ہوئے نہ تھے جو زرد ہو چلے
اس کشت میں پڑی یہ ہمارے نمو کی طرح
وے دن کہاں کہ مست سرانداز خم میں تھے
سر اب تو جھوجھرا ہے شکستہ سبو کی طرح
تسکین دل کی کب ہوئی سیرچمن کیے
گو پھول دل میں آگئے کچھ اس کے رو کی طرح
آخر کو اس کی راہ میں ہم آپ گم ہوئے
مدت میں پائی یار کی یہ جستجو کی طرح
کیا لوگ یوں ہی آتش سوزاں میں جا پڑے
کچھ ہو گی جلتی آگ میں اس تندخو کی طرح
ڈرتا ہوں چاک دل کو مرے پلکوں سے سیے
نازک نظر پڑی ہے بہت اس رفو کی طرح
دھوتے ہیں اشک خونی سے دست و دہن کو میر
طورنماز کیا ہے جو یہ ہے وضو کی طرح
میر تقی میر

چاک دل پلکوں سے مت سی کہ رفو نازک ہے

دیوان دوم غزل 1037
رشتہ کیا ٹھہرے گا یہ جیسے کہ مو نازک ہے
چاک دل پلکوں سے مت سی کہ رفو نازک ہے
شاخ گل کاہے کو اس لطف سے لچکے ہے کہیں
لاگ والا کوئی دیکھے تجھے تو نازک ہے
چشم انصاف سے برقع کو اٹھا دیکھو اسے
گل کے منھ سے تو کئی پردہ وہ رو نازک ہے
لطف کیا دیوے تمھیں نقش حصیر درویش
بوریا پوشوں سے پوچھو یہ اتو نازک ہے
بیڑے کھاتا ہے تو آتا ہے نظر پان کا رنگ
کس قدر ہائے رے وہ جلد گلو نازک ہے
گل سمجھ کر نہ کہیں بے کلی کرنے لگیو
بلبل اس لالۂ خوش رنگ کی خو نازک ہے
رکھے تاچند خیال اس سرپرشور کا میر
دل تو کانپا ہی کرے ہے کہ سبو نازک ہے
میر تقی میر

لے گئے پیش فلک اس مہ کا ایسا رو کہاں

دیوان دوم غزل 888
گر کوئی اعمیٰ کہے کچھ پر کہاں وہ تو کہاں
لے گئے پیش فلک اس مہ کا ایسا رو کہاں
گل کو کیا نسبت ہے تجھ سے میں نہ مانوں زینہار
رنگ اگر بالفرض تیرا سا ہوا یہ بو کہاں
عشق لاتا ہے بروے کار مجنوں سا کبھو
بید بہتیرے کھڑے ہیں وے پریشاں مو کہاں
دیکھیاں کجیاں کمانوں کی بھی خم محراب کے
پر دلوں کو کھینچتے ہیں جیسے وے ابرو کہاں
سنبل آپھی آپ پیچ و تاب یوں کھایا کرے
یار کی سی زلف کے وے حلقہ حلقہ مو کہاں
آگے یہ آنکھیں گلے کی ہار ہی رہتی تھیں روز
اب جگر میں خوں نہیں وے سہرے سے آنسو کہاں
میر سچ کہتا تھا جنت ہو نصیب اس کے تئیں
حور کا چہرہ کہاں اس کا رخ نیکو کہاں
میر تقی میر

رہے خنجر ستم ہی کے گلو پاس

دیوان دوم غزل 821
گئے جس دم سے ہم اس تندخو پاس
رہے خنجر ستم ہی کے گلو پاس
قیامت ہے نہ اے سرمایۂ جاں
نہ ہووے وقت مرنے کے بھی تو پاس
رلایا ہم نے پہروں رات اس کو
کہا یہ قصۂ غم جس کسو پاس
کہیں اک دور کی سی کچھ تھی نسبت
رکھا تھا آئینے کو اس کے رو پاس
دل اے چشم مروت کیوں نہ خوں ہو
تجھے ہم جب نہ تب دیکھیں عدو پاس
یہی گالی یہی جھڑکی یہی چھیڑ
نہ کچھ میرا کیا تونے کبھو پاس
چل اب اے میر بس اس سرو قد بن
بہت رویا چمن کی آب جو پاس
میر تقی میر

گویا وفا ہے عہد میں اس کے کبھو کی بات

دیوان دوم غزل 782
کیا پوچھتے ہو آہ مرے جنگجو کی بات
گویا وفا ہے عہد میں اس کے کبھو کی بات
اس باغ میں نہ آئی نظر خرمی مری
گر سبز بھی ہوا ہوں تو جیسے کسو کی بات
آئینہ پانی پانی رہا اس کے سامنے
کہیے جہاں کہوں یہ تو ہے روبرو کی بات
سر گل نے پھر جھکا کے اٹھایا نہ شرم سے
گلزار میں چلی تھی کہیں اس کے رو کی بات
حرمت میں مے کی کہنے سے واعظ کے ہے فتور
کیا اعتبار رکھتی ہے اس پوچ گو کی بات
ہم سوختوں میں آتش سرکش کا ذکر کیا
چل بھی پڑی ہے بات تو اس تند خو کی بات
کیا کوئی زلف یار سے حرف و سخن کرے
رکھتی ہے میر طول بہت اس کے مو کی بات
میر تقی میر

یوناں کی طرح بستی یہ سب میں ڈبو رہا

دیوان دوم غزل 734
طوفان میرے رونے سے آخر کو ہورہا
یوناں کی طرح بستی یہ سب میں ڈبو رہا
بہتوں نے چاہا کہیے پہ کوئی نہ کہہ سکا
احوال عاشقی کا مری گومگو رہا
آخر موا ہی واں سے نکلتا سنا اسے
کوچے میں اس کے جا کے ستم دید جو رہا
آنسو تھما نہ جب سے گیا وہ نگاہ سے
پایان کار آنکھوں کو اپنی میں رو رہا
کیا بے شریک زندگی کی شیخ شہر نے
نبّاش بھی وہی تھا وہی مردہ شو رہا
یاروں نے جل کے مردے سے میرے کیا خطاب
روتے تھے ہم تو دل ہی کو تو جی بھی کھو رہا
جب رات سر پٹکنے نے تاثیر کچھ نہ کی
ناچار میر منڈکری سی مار سو رہا
میر تقی میر

ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے

دیوان اول غزل 616
ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے
ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے
مصائب اور تھے پر دل کا جانا
عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے
مقامر خانۂ آفاق وہ ہے
کہ جو آیا ہے یاں کچھ کھو گیا ہے
کچھ آئو زلف کے کوچے میں درپیش
مزاج اپنا ادھر اب تو گیا ہے
سرہانے میر کے کوئی نہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
میر تقی میر

دامن پکڑ کے یار کا جو ٹک نہ رو سکے

دیوان اول غزل 588
کیا غم میں ویسے خاک فتادہ سے ہوسکے
دامن پکڑ کے یار کا جو ٹک نہ رو سکے
ہم ساری ساری رات رہے گریہ ناک لیک
مانند شمع داغ جگر کا نہ دھو سکے
رونا تو ابر کا سا نہیں یار جانتے
اتنا تو رویئے کہ جہاں کو ڈبو سکے
تیغ برہنہ کف میں وہ بیدادگر ہے آج
ہے مفت وقت اس کو جو کوئی جان کھو سکے
برسوں ہی منتظر سر رہ پر ہمیں ہوئے
اس قسم کا تو صبر کسو سے نہ ہوسکے
رہتی ہے ساری رات مرے دم سے چہل میر
نالہ رہے تو کوئی محلے میں سو سکے
میر تقی میر

سر مار مار یعنی اب ہم بھی سو چلے ہیں

دیوان اول غزل 333
ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں
سر مار مار یعنی اب ہم بھی سو چلے ہیں
جوئیں رہیں گی جاری گلشن میں ایک مدت
سائے میں ہر شجر کے ہم زور رو چلے ہیں
لبریز اشک آنکھیں ہر بات میں رہا کیں
رو رو کے کام اپنے سب ہم ڈبو چلے ہیں
پچھتائیے نہ کیونکر جی اس طرح سے دے کر
یہ گوہر گرامی ہم مفت کھو چلے ہیں
قطع طریق مشکل ہے عشق کا نہایت
وے میر جانتے ہیں اس راہ جو چلے ہیں
میر تقی میر

ہوں دوانہ ترے سگ کو کا

دیوان اول غزل 133
رات پیاسا تھا میرے لوہو کا
ہوں دوانہ ترے سگ کو کا
شعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کو
فکر ہے اپنے ہر بن مو کا
ہے مرے یار کی مسوں کا رشک
کشتہ ہوں سبزئہ لب جو کا
بوسہ دینا مجھے نہ کر موقوف
ہے وظیفہ یہی دعاگو کا
میں نے تلوار سے ہرن مارے
عشق کر تیری چشم و ابرو کا
شور قلقل کے ہوتی تھی مانع
ریش قاضی پہ رات میں تھوکا
عطر آگیں ہے باد صبح مگر
کھل گیا پیچ زلف خوشبو کا
ایک دو ہوں تو سحر چشم کہوں
کارخانہ ہے واں تو جادو کا
میر ہرچند میں نے چاہا لیک
نہ چھپا عشق طفل بدخو کا
نام اس کا لیا ادھر اودھر
اڑ گیا رنگ ہی مرے رو کا
میر تقی میر

آخر کو جستجو نے تری مجھ کو کھو دیا

دیوان اول غزل 110
جی اپنا میں نے تیرے لیے خوار ہو دیا
آخر کو جستجو نے تری مجھ کو کھو دیا
بے طاقتی سکوں نہیں رکھتی ہے ہم نشیں
رونے نے ہر گھڑی کے مجھے تو ڈبو دیا
اے ابر اس چمن میں نہ ہو گا گل امید
یاں تخم یاس اشک کو میں پھر کے بو دیا
پوچھا جو میں نے درد محبت سے میر کو
رکھ ہاتھ ان نے دل پہ ٹک اک اپنے رو دیا
میر تقی میر

اک وقت میں یہ دیدہ بھی طوفان رو چکا

دیوان اول غزل 100
پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکا
اک وقت میں یہ دیدہ بھی طوفان رو چکا
افسوس میرے مردے پر اتنا نہ کر کہ اب
پچھتانا یوں ہی سا ہے جو ہونا تھا ہو چکا
لگتی نہیں پلک سے پلک انتظار میں
آنکھیں اگر یہی ہیں تو بھر نیند سو چکا
یک چشمک پیالہ ہے ساقی بہار عمر
جھپکی لگی کہ دور یہ آخر ہی ہو چکا
ممکن نہیں کہ گل کرے ویسی شگفتگی
اس سرزمیں میں تخم محبت میں بو چکا
پایا نہ دل بہایا ہوا سیل اشک کا
میں پنجۂ مژہ سے سمندر بلو چکا
ہر صبح حادثے سے یہ کہتا ہے آسماں
دے جام خون میر کو گر منھ وہ دھو چکا
میر تقی میر

پر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا

دیوان اول غزل 70
سحرگہ عید میں دور سبو تھا
پر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا
غلط تھا آپ سے غافل گذرنا
نہ سمجھے ہم کہ اس قالب میں تو تھا
چمن کی وضع نے ہم کو کیا داغ
کہ ہر غنچہ دل پرآرزو تھا
گل و آئینہ کیا خورشید و مہ کیا
جدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا
کروگے یاد باتیں تو کہو گے
کہ کوئی رفتۂ بسیار گو تھا
جہاں پر ہے فسانے سے ہمارے
دماغ عشق ہم کو بھی کبھو تھا
مگر دیوانہ تھا گل بھی کسو کا
کہ پیراہن میں سو جاگہ رفو تھا
کہیں کیا بال تیرے کھل گئے تھے
کہ جھونکا بائو کا کچھ مشک بو تھا
نہ دیکھا میر آوارہ کو لیکن
غبار اک ناتواں سا کوبکو تھا
میر تقی میر

قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا

دیوان اول غزل 34
کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا
قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا
بے کسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پر
جو ہماری خاک پر سے ہوکے گذرا رو گیا
کچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیں
کھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہوکر جوگیا
مدعا جو ہے سو وہ پایا نہیں جاتا کہیں
ایک عالم جستجو میں جی کو اپنے کھو گیا
میر ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ
جب سے وہ دریا پہ آکر بال اپنے دھو گیا
میر تقی میر

دھواں بھی اٹھ رہا تھا روشنی بھی ہو رہی تھی

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 4
نجانے آگ کیسی آئنوں میں سو رہی تھی
دھواں بھی اٹھ رہا تھا روشنی بھی ہو رہی تھی
لہو میری نسوں میں بھی کبھی کا جم چکا تھا
بدن پر برف کو اوڑھے ندی بھی سو رہی تھی
چمکتے برتنوں میں خون گارا ہو رہا تھا
مری آنکھوں میں بیٹھی کوئی خواہش رو رہی تھی
ہماری دوستی میں بھی دراڑیں پڑ رہی تھیں
اجالے میں نمایاں تیرگی بھی ہو رہی تھی
دباؤ پانیوں کا ایک جانب بڑھ رہا تھا
نجانے ساحلوں پر کون کپڑے دھو رہی تھی
کسی کے لمس کا احساس پیہم ہو رہا تھا
کہ جیسے پھول پر معصوم تتلی سو رہی تھی
توقیر عباس

جانے کس کس کو آج رو بیٹھے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 31
پھر حریف بہار ہو بیٹھے
جانے کس کس کو آج رو بیٹھے
تھی، مگر اتنی رائگاں بھی نہ تھی
آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے
تیرے در تک پہنچ کے لوٹ آئے
عشق کی آبرو ڈبو بیٹھے
ساری دنیا سے دور ہوجائے
جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے
نہ گئی تیری بے رخی نہ گئی
ہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے
فیض ہوتا رہے جو ہونا ہے
شعر لکھتے رہا کرو بیٹھے
فیض احمد فیض

آنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ

مجید امجد ۔ غزل نمبر 21
اپنے د ل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ
آنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ
کرنوں کے طوفان سے بجرے بھر بھر کر
روشنیاں اس گھاٹ پہ ڈھو گئے کیا کیا لوگ
سانجھ سمے اس کنج میں زندگیوں کی اوٹ
بج گئی کیا کیا بانسری، رو گئے کیا کیا لوگ
میلی چادر تان کر اس چوکھٹ کے دوار
صدیوں کے کہرام میں سو گئے کیا کیا لوگ
گٹھڑی کالی رین کی سونٹی سے لٹکائے
اپنی دھن میں دھیان نگر کو گئے کیا کیا لوگ
میٹھے میٹھے بول میں دوہے کا ہنڈول
سن سن اس کو بانورے ہو گئے کیا کیا لوگ
مجید امجد

نگر زنبیلِ ظلمت رُو میں محو استراحت ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 360
طلسمِ مرگ کے جادومیں محوِ استراحت ہیں
نگر زنبیلِ ظلمت رُو میں محو استراحت ہیں
شبیں چنگاریوں کے بستروں میں خواب بنتی ہیں
اندھیرے راکھ کے پہلو میں محوِ استراحت ہیں
خموشی کا بدن ہے چادرِ باردو کے نیچے
کراہیں درد کے تالو میں محوِ استراحت ہیں
پہن کر سرسراہٹ موت کی ، پاگل ہوا چپ ہے
فضائیں خون کی خوشبو میں محوِ استراحت ہیں
کہیں سویا ہواہے زخم کے تلچھٹ میں پچھلا چاند
ستارے آخری آنسو میں محوِ استراحت ہیں
ابھی ہو گا شعاعوں کے لہو سے آئینہ خانہ
ابھی شیرِ خدا دارو میں محوِ استراحت ہیں
ابھی ابھریں گے بامِ صبحِ مشرق پر ابھی منصور
مرے سورج ابھی جگنو میں محو استراحت ہیں
منصور آفاق

مجھے جو ولولے دیتا تھا رو دیا مجھ میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 339
بلا کا ضبط تھا دریا نے کھو دیا مجھ میں
مجھے جو ولولے دیتا تھا رو دیا مجھ میں
شبِ سیاہ کہاں سے رگوں میں آئی ہے
تڑپ رہا ہے کوئی آج تو دیا مجھ میں
عجیب کیف تھا ساقی کی چشم رحمت میں
شراب خانہ ہی سارا سمو دیا مجھ میں
رکھا ہے گنبدِ خضرا کے طاق میں شاید
بلا کی روشنی کرتا ہے جو دیا مجھ میں
ہزار درد کے اگتے رہے شجر منصور
کسی نے بیج جو خواہش کا بو دیا مجھ میں
منصور آفاق

بادل کے ساتھ ساتھ یونہی رو رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 337
بارش سے سائیکی کے سخن دھو رہا ہوں میں
بادل کے ساتھ ساتھ یونہی رو رہا ہوں میں
دیکھا ہے آج میں نے بڑا دلربا سا خواب
شاید تری نظر سے رہا ہو رہا ہوں میں
اچھے دنوں کی آس میں کتنے برس ہوئے
خوابوں کے آس پاس کہیں سو رہا ہوں میں
میں ہی رہا ہوں صبح کی تحریک کا سبب
ہر دور میں رہینِ ستم گو رہا ہوں میں
لایا ہے کوئی آمدِ دلدار کی نوید
اور بار بار چوم کسی کو رہا ہوں میں
ابھرے ہیں میری آنکھ سے فرہنگِ جاں کے رنگ
تصویر کہہ رہی ہے پکاسو رہا ہوں میں
منصور آفاق

میں عشق میں ہوں آشفتہ سرو میں عشق میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 289
میں عشق میں ہوں خاموش رہو میں عشق میں ہوں
میں عشق میں ہوں آشفتہ سرو میں عشق میں ہوں
اے شعلۂ گل کے سرخ لبوں کی شوخ شفق
چپ چاپ رہو آوازنہ دو میں عشق میں ہوں
اے صحن چمن کے پچھلے پہر کی تیز ہوا
مت پھولوں کے اب ہار پُرو میں عشق میں ہوں
آوازنہ دے اب کوئی مجھے چپ رنگ رہیں
اے قوسِ قزح کے نرم پرو میں عشق میں ہوں
ہے تیز بہت یہ آگ لہو کی پہلے بھی
اے جلوۂ گل بیباک نہ ہو میں عشق میں ہوں
ہے نام لکھا معشوقِ ازل کا ماتھے پر
اے ظلم و ستم کے شہر پڑھو میں عشق میں ہوں
اب حالتِ دل کو اور چھپانا ٹھیک نہیں
منصور اسے یہ کہہ کر رو میں عشق میں ہوں
منصور آفاق

کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 34
ہم لوٹتے ہیں، وہ سو رہے ہیں
کیا ناز و نیاز ہو رہے ہیں
پہنچی ہے ہماری اب یہ حالت
جو ہنستے تھے وہ بھی رو رہے ہیں
پیری میں بھی ہم ہزار افسوس
بچپن کی نیند سو رہے ہیں
روئیں گے ہمیں رُلانے والے
ڈوبیں گے وہ جو ڈبو رہے ہیں
کیوں کرتے ہیں غمگسار تکلیف
آنسو مرے مُنہ کو دھو رہے ہیں
زانو پہ امیر سر کو رکھے
پھر دن گزرے کہ رو رہے ہیں
امیر مینائی

اُنج صفحیاں تے، کھِلریاں گلاّں پا دِتے نیں رَو لے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 105
نئیں کیتے تے حرفاں میریاں دُکھ ایس دل دے ہَولے
اُنج صفحیاں تے، کھِلریاں گلاّں پا دِتے نیں رَو لے
دل دے مندر وچ نئیں لبھی، کوئی صورت من موہنی
پیار دے تیشے نال سی، کِنّے سدھراں دے بُت، ڈَولے
ایس توں ودھ، ہن ہور اساں توں، دُکھ دیپک کی منگنا
اکھیاں چوں انگیارے جھڑ پئے، دل دا لہو پیا کھولے
پیار ترے دی وی تے، آخر انت سزا اے سُولی
دل دا کی اے، ایس گل نوں وی گَولے یا نہ گَولے
سَک ہاسے دا، پپڑی جمیاں ہوٹھاں نوں، چمکاسی
دُھوڑ دُکھاں دی، دُھلسی تے، پر دُھلسی ہَولے ہَولے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سُکھ رُسایائی ماجداُ، لے ہُن میلے ڈُھو

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 103
نہ اکھیں اوہ لہر جیہی، نہ ہوٹھیں خُوشبو
سُکھ رُسایائی ماجداُ، لے ہُن میلے ڈُھو
مل گئی نال مزاج دے، زہر وی نِبھدی نال
دُکھ مترہن ساڈڑے، نھیریاں کر دے لو
مہکی سی دو چار دن دِلاّ! سانجھ رویل
ٹر گئے ساتھی نال دے، کلھیاں بہہ کے رو
پہلاں تے اِک گل سی، وچھڑاں گئے یا نئیں
ٹردے ہوئے نوں آکھیا، پل تے کول کھلو
سجنوں چپ دا اوڑھنا، کرئیے لیرو لیر
ہسئے اتھرو روک کے، اکھیاں لئیے دھو
کڈھ کدائیں ماجداُ، چرخہ ست پُران
پونی وِسرے پیار دی نویں سونی چھو
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

سانہواں دے وچ گُجھدی دِسّے، یاداں دی خوشبو

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 84
کِھلر گئی اے دل دے ویہڑے، کیہڑے مکھ دی لو
سانہواں دے وچ گُجھدی دِسّے، یاداں دی خوشبو
پھِرے بہار تے کمرے دے وچ، چڑیاں چہکن آ
رُت بدلن دی آپوں ائی، آ جاندی ائے کنسو
ہن خورے کتھے جا دسنی، اساں اپنی دھاک
چن تیکر تے پُجی، ساڈے سڑدے لہو دی بو
ورہیاں دے نیلے امبراں تے، چانن تَیں ائی سنگ
خوشیاں دیا انملیا سمیاں، پل تے کول کھلو
جُھکے ہوئے نیں ماجدُ، تیریاں اکھیاں دے وچ جھڑ
اسیں تینوں جاندے آں، توں بھانویں رو نہ رو
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

نہ ہُن نِیویں پا، تے نہ ہُن، اکھیاں پیا لکو

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 29
توں جو کجھ کرنی سی، نال اساڈے گئی اے ہو
نہ ہُن نِیویں پا، تے نہ ہُن، اکھیاں پیا لکو
نمبو اِک تے لُسکن آلا، بھُسیاں دا اِک شہر
درد ونڈان آلے توں ایتھے، راضی رہوے نہ کو
جِندے نی، ونگاں دے ساز تے، دُکھ دی رات دَھما
وچ بھنڈار دے بیٹھی ایں تے، لمّی پونی چھو
ایس پتھراں دے شہر چ، تیرے گوشے، سُنسی کون
سر تے رکھ کے بانہہ نوں بیبا، اُچّی رو
زہر وی اِنہیں ہوٹھیں چکھنا، اِنج ائی امرت وی
موتوں پہلے کاہنوں مرنا، جو ہونی سو ہو
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)