ٹیگ کے محفوظات: روزانہ

کوئی تو سمجھادیا رِ غیر میں اپنا ہمیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 62
یہ غنیمت ہے کہ اُن آنکھوں نے پہچانا ہمیں
کوئی تو سمجھادیا رِ غیر میں اپنا ہمیں
وہ کہ جن کے ہاتھ میں تقدیرِ فصل گُل رہی
دے گئے سُوکھے ہُوئے پتوں کا نذرانہ ہمیں
وصل میں تیرے خرابے بھی لگیں گھر کی طرح
اور تیرے ہجر میں بستی بھی ویرانہ ہمیں
سچ تمھارے سارے کڑوے تھے،مگر اچھے لگے
پھانس بن کر رہ گیا بس ایک افسانہ ہمیں
اجنبی لوگوں میں ہو تم اور اِتنی دُور ہو
ایک اُلجھن سی رہا کرتی ہے روزانہ ہمیں
سُنتے ہیں قیمت تمھاری لگ رہی ہے آج کل
سب سے اچھے دام کس کے ہیں ،یہ بتلانا ہمیں
تاکہ اُس خوش بخت تاجر کو مبارکباد دیں
اور اُس کے بعد دل کو بھی ہے سمجھانا ہمیں
پروین شاکر

اپنی توبہ توڑ دیں یا توڑ دیں پیمانہ ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 51
کچھ تو کہہ دے کیا کریں اے ساقیِ مے خانہ ہم
اپنی توبہ توڑ دیں یا توڑ دیں پیمانہ ہم
دل عجب شے ہے یہ پھر کہتے ہیں آزادانہ ہم
چاہے جب کعبہ بنا لیں چاہے جب بت خانہ ہم
داستانِ غم پہ وہ کہتے ہیں یوں ہے یوں نہیں
بھول جاتے ہیں جو دانستہ کہیں افسانہ ہم
اپنے در سے آ جائے ساقی ہمیں خالی نہ پھیر
مے کدے کی خیر ہو آتے نہیں روزانہ ہم
مسکرا دیتا ہے ہر تارا ہماری یاد پر
بھول جاتے ہیں قمر اپنا اگر افسانہ ہم
قمر جلالوی