ٹیگ کے محفوظات: روتا

دن کو ہنستا گاتا ہے اور راتوں کو روتا ہے جی

یاؔور جی کی بات نہ پوچھو یاؔور دیوانہ ہے جی
دن کو ہنستا گاتا ہے اور راتوں کو روتا ہے جی
ہم تو تنہا ہی رہتے تھے، تنہا ہی رہنا ہے جی
جاؤ تم بھی چھوڑ کے ہم کو، ہم نے کب روکا ہے جی
یاد کی راکھ کے ڈھیر میں دیکھو پھر شعلہ بھڑکا ہے جی
ہاں پھر شعلہ بھڑکا ہے پھر دل اپنا جھلسا ہے جی
چھوڑو ایسی باتیں، ان باتوں میں کیا رکھا ہے جی
کیا سیدھا ہے، کیا الٹا ہے، سب الٹا سیدھا ہے جی
آپ تو بس اک پتھر ٹھہرے، آپ کا اس میں دوش ہی کیا؟
ہم نے آپ کو خود ہی تراشا اور خود ہی پوجا ہے جی
ہم پر بھی لو چلتی ہے ہم پر بھی آگ برستی ہے
ہم جیسوں کا بھی تو آخر ایک خدا ہوتا ہے جی
اک لڑکا تھا، اک بوڑھے کو آئینوں میں دیکھتا تھا
اب وہ لڑکا خود بوڑھا ہے اور بےحد بوڑھا ہے جی
ہائے سخن ور کیسا تھا وہ، ویسے شعر سنائے کون
یاؔور ویسا کیسے لکھے، یاؔور کب انشاؔ ہے جی؟
یاور ماجد

میں دریا دریا روتا تھا

تنہائی کا دُکھ گہرا تھا
میں دریا دریا روتا تھا
ایک ہی لہر نہ سنبھلی ورنہ
میں طوفانوں سے کھیلا تھا
تنہائی کا تنہا سایا
دیر سے میرے ساتھ لگا تھا
چھوڑ گئے جب سارے ساتھی
تنہائی نے ساتھ دیا تھا
سوکھ گئی جب سکھ کی ڈالی
تنہائی کا پھول کھلا تھا
تنہائی میں یادِ خدا تھی
تنہائی میں خوفِ خدا تھا
تنہائی محرابِ عبادت
تنہائی منبر کا دِیا تھا
تنہائی مرا پائے شکستہ
تنہائی مرا دستِ دُعا تھا
وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی
میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا
تنہائی مرے دِل کی جنت
میں تنہا ہوں میں تنہا تھا
ناصر کاظمی

دیواروں سے ڈر لگتا تھا

تجھ بن گھر کتنا سونا تھا
دیواروں سے ڈر لگتا تھا
بھولی نہیں وہ شامِ جدائی
میں اُس روز بہت رویا تھا
تجھ کو جانے کی جلدی تھی
اور میں تجھ کو روک رہا تھا
میری آنکھیں بھی روتی تھیں
شام کا تارا بھی روتا تھا
گلیاں شام سے بجھی بجھی تھیں
چاند بھی جلدی ڈوب گیا تھا
سناٹے میں جیسے کوئی
دُور سے آوازیں دیتا تھا
یادوں کی سیڑھی سے ناصر
رات اک سایا سا اُترا تھا
ناصر کاظمی

ہماری بیکسی پر زار باراں دیر روتا ہے

دیوان اول غزل 519
گذار ابر اب بھی جب کبھو ایدھر کو ہوتا ہے
ہماری بیکسی پر زار باراں دیر روتا ہے
ہوا مذکور نام اس کا کہ آنسو بہ چلے منھ پر
ہمارے کام سارے دیدۂ تر ہی ڈبوتا ہے
بجا ہے سینہ کوبی سنگ سے دل خون ہوتے ہیں
جو ہمدم ایسے جاتے ہیں تو ماتم سخت ہوتا ہے
نہ کی نشوونما کامل نہ کام اپنا کیا حاصل
فلک کوئی بھی دل سے تخم کو بے وقت بوتا ہے
ہلانا ابروئوں کا لے ہے زیر تیغ عاشق کو
پلک کا مارنا برچھی کلیجے میں چبھوتا ہے
کہاں اے رشک آب زندگی ہے تو کہ یاں تجھ بن
ہر اک پاکیزہ گوہر جی سے اپنے ہاتھ دھوتا ہے
لگا مردے کو میرے دیکھ کر وہ ناسمجھ کہنے
جوانی کی ہے نیند اس کو کہ اس غفلت سے سوتا ہے
پریشاں گرد سا گاہے جو مل جاتا ہے صحرا میں
اسی کی جستجو میں خضر بھی اوقات کھوتا ہے
نہ رکھو کان نظم شاعران حال پر اتنے
چلو ٹک میر کو سننے کہ موتی سے پروتا ہے
میر تقی میر

تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا

دیوان اول غزل 123
جو اس شور سے میر روتا رہے گا
تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا
میں وہ رونے والا جہاں سے چلا ہوں
جسے ابر ہر سال روتا رہے گا
مجھے کام رونے سے اکثر ہے ناصح
تو کب تک مرے منھ کو دھوتا رہے گا
بس اے گریہ آنکھیں تری کیا نہیں ہیں
کہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا
مرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہے
جرس کے بھی جو ہوش کھوتا رہے گا
تو یوں گالیاں غیر کو شوق سے دے
ہمیں کچھ کہے گا تو ہوتا رہے گا
بس اے میر مژگاں سے پونچھ آنسوئوں کو
تو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا
میر تقی میر