ٹیگ کے محفوظات: روایات

اجنبی طرز کے حالات سے دُکھ پہنچا ہے

اُن کی سنجیدہ ملاقات سے دُکھ پہنچا ہے
اجنبی طرز کے حالات سے دُکھ پہنچا ہے
اُس کا مذکور کہیں شکوہِ محسن میں نہیں
میری خوددار روایات سے دُکھ پہنچا ہے
دیکھ زخمی ہوا جاتا ہے دو عالم کا خلوص
ایک انساں کو تری ذات سے دُکھ پہنچا ہے
احتراماً مرے ہونٹوں پہ مُسلّط تھا سُکوت
اُن کے بڑھتے ہوئے شبہات سے دُکھ پہنچا ہے
یا انھیں لغزشِ معصوم، گراں گزری ہے
یا غلط فہمیِ حالات سے دُکھ پہنچا ہے
میرے اشکوں کو شکایت نہیں کوئی تم سے
مجھ کو اپنی ہی کسی بات سے دُکھ پہنچا ہے
میری جرأت پہ، شکیبؔ، آج خرد حاوی ہے
آج ناکامیِ حالات سے دُکھ پہنچا ہے
شکیب جلالی

اب جمالات سے بغاوت ہے

رقص و نغمات سے بغاوت ہے
اب جمالات سے بغاوت ہے
غم کا ماحول جو بدل نہ سکیں
ایسے نغمات سے بغاوت ہے
میرے احساس کے اجالوں کو
چاندنی رات سے بغاوت ہے
حسن سے انتقام لینا ہے
دل کی ہر بات سے بغاوت ہے
جن سے اعصاب مُضمحل ہو جائیں
ان غزلیات سے بغاوت ہے
قلب کی واردات جن میں نہ ہو
ان حکایات سے بغاوت ہے
جو کہ فکر و عمل سے عاری ہوں
ان روایات سے بغاوت ہے
وقت کے ساتھ جو بدل نہ سکیں
ایسے حالات سے بغاوت ہے
جو نہ سمجھیں نئے تقاضوں کو
ان خیالات سے بغاوت ہے
غم کی خودداریاں، شکیبؔ، نہ پوچھ
اب شکایات سے بغاوت ہے
شکیب جلالی