ٹیگ کے محفوظات: رواں

کوئی ہے ڈھب کا ٹھکانہ کہاں ہم ایسوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
نہ فرشِ خاک نہ باغِ جناں ہم ایسوں کا
کوئی ہے ڈھب کا ٹھکانہ کہاں ہم ایسوں کا
نہ پُختگی ہو جو عزم و عمل میں تو ماجِد
کوئی بھی کام ہو کیونکر رواں ہم ایسوں کا
ماجد صدیقی

موجۂ آبِ رواں یاد آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
جب ترا لطفِ نہاں یاد آئے
موجۂ آبِ رواں یاد آئے
تجھ سے خسارہ پیار میں پا کے
سُود نہ کوئی زیاں یاد آئے
تیور جب بھی فلک کے دیکھوں
تجھ ابرو کی کماں یاد آئے
راج پاٹ جب دل کا جانچوں
تجھ سا رشکِ شہاں یاد آئے
ہاں ہاں ہر دو بچھڑے مجھ سے
بزم تری کہ جناں یاد آئے
چاند اور لہر کے ربط سے ماجِد
کس کا زورِ بیاں یاد آئے
ماجد صدیقی

چاند چہرے کا ہوتا اگر ضَونشاں کچھ بگڑنا نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
دیکھتے گر ذرا ہنس کے اے مہرباں کچھ بگڑنا نہ تھا
چاند چہرے کا ہوتا اگر ضَونشاں کچھ بگڑنا نہ تھا
دو قدم ہم چلے تھے اگر دو قدم تم بھی چلتے ادھر
اس سے ہونا نہیں تھا کسی کا زیاں،کچھ بگڑنا نہ تھا
حسن کی کھنکھناتی ندی جانے کیوں ہم سے کھنچتی رہی
گھونٹ دو گھونٹ پینا تھا آبِ رواں، کچھ بگڑنا نہ تھا
بندھنوں سے بغاوت، قیامت کا باعث نہ ٹھہری کبھی
جس طرح کا ہے، رہتا وہی آسماں کچھ بگڑنا نہ تھا
تھوکنے سے بھلا رُوئے مہتاب پر فرق پڑنا تھا کیا
کُھل گئی اِس طرح نیّتِ حاسداں کچھ بگڑنا نہ تھا
ماجد صدیقی

اب ذکر بھی جس شخص کا چھالا ہے زباں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
کس کس کے لئے تھا وہ سبب راحتِ جاں کا
اب ذکر بھی جس شخص کا چھالا ہے زباں کا
نخچیر کا خوں خاک میں کیوں جذب ہوا تھا
لاحق یہی احساس تھا چیتے کو زباں کا
کھو جانے لگے سُر جو لپکتے تھے فضا میں
پھر اب کے گلا سُوکھ چلا جُوئے رواں کا
دی دھاڑ سنائی ہمیں وحشت کی جدھر سے
رُخ موڑ دیا ہم نے اُسی سمت کماں کا
اوروں کو بھی دے کیوں نہ دکھائی وہ ہمِیں سا
جس خطۂ جاں پر ہے گماں باغِ جناں کا
سوچا ہے کبھی ہم سے چلن چاہے وہ کیسا
جس خاک کا برتاؤ ہے ہم آپ سے ماں کا
کیوں گھر کے تصّور سے اُبھرتا ہے نظر میں
نقشہ کسی آندھی میں گِھرے کچّے مکاں کا
بولے گا تو لرزائے گا ہر قلبِ تپاں کو
ماجدؔ نہ بدل پائے گا انداز فغاں کا
ماجد صدیقی

درپیش ہیں اِس دل کو زیاں اور طرح کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
رکھتا ہے کرم پر بھی گماں اور طرح کے
درپیش ہیں اِس دل کو زیاں اور طرح کے
اس دشتِ طلب میں کہ بگولے ہی جہاں ہیں
آتے ہیں نظر سروِ رواں اور طرح کے
تھا پیڑ جہاں قبر سی کھائی ہے وہاں اَب
سیلاب نے چھوڑے ہیں نشاں اور طرح کے
دل کا بھی کہا، خوف سے کٹنے کے نہ مانے
کرتی ہے ادا لفظ، زباں اور طرح کے
لگتا ہے کہ جس ہاتھ میں اَب کے یہ تنی ہے
دکھلائے کمالات کماں اور طرح کے
ہم لوگ فقط آہ بہ لب اور ہیں ماجدؔ
دربار میں آدابِ شہاں اور طرح کے
ماجد صدیقی

جو برگ ہے پہلو میں لئے خوفِ خزاں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
پیڑوں میں بھی پہلی سی طراوت وُہ کہاں ہے
جو برگ ہے پہلو میں لئے خوفِ خزاں ہے
مت پوچھ کہ ہے کیسے ستاروں سے مرتّب
آنکھوں کے اُفق پر جو سجی کاہکشاں ہے
سیلاب سا منظر ہے نظر جائے جدھر بھی
گھیراؤ میں موجوں کے ہے جو شخص جہاں ہے
اُس برگ سی تازہ ہے تمّنائے بقا بھی
جو ٹُوٹ کے ٹہنی سے سرِآب، رواں ہے
رنگین ہے صدیوں سے جو انساں کے لہو سے
ہر ہاتھ میں کیسا یہ تصادم کا نشاں ہے
ماجد صدیقی

ایسا بھی کبھی حشر گلستاں میں کہاں تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 74
تھا جو بھی شجر عرش نشاں، فرش نشاں تھا
ایسا بھی کبھی حشر گلستاں میں کہاں تھا
کانٹوں پہ لرزتی تھی تمنّاؤں کی شبنم
چھالا سا ہر اِک لفظ سرِ نوکِ زباں تھا
ہونٹوں نے بھی لو، زہرِ خموشی سے چٹخ کر
سیکھا وُہی انداز جو مرغوبِ شہاں تھا
باز آئے گھٹانے سے نہ جو رزقِ گدا کو
اَب کے بھی سرِ شہر وُہی شورِ سگاں تھا
توصیف کا ہر حرف مثالِ خس و خاشاک
دیکھا ہے جہاں بھی پسِ شہ زور رواں تھا
غافل نظر آیا نہ کبھی وار سے اپنے
وُہ خوف کا خنجر جو قریبِ رگ جاں تھا
مجروح پرندوں سی جو پیوندِ زمیں ہے
ماجدؔ نگہِ شوق پہ کب ایسا گماں تھا
ماجد صدیقی

چہرہ ہے وہ کس کا جو سرِکاہکشاں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہے کون جو آنکھوں میں مری عرش نشاں ہے
چہرہ ہے وہ کس کا جو سرِکاہکشاں ہے
مدّت سے جو صیّاد کے ہاتھوں میں ہے موزوں
فریاد سے کب ٹوٹنے والی وہ کماں ہے
صحرا سی مری پیاس پہ برسا نہ کسی پل
وہ ابر کہ ہر آن مرے سر پہ رواں ہے
ہم لوگ چلیں ساتھ کہاں اہلِ غرض کے
آتی ہی جنہیں ایک محبت کی زباں ہے
رنگین ہے صدیوں سے جو انساں کے لہو سے
ہر ہاتھ میں کیسا یہ تصادم کا نشاں ہے
ماجدؔ ہے تجھے ناز نکھر آنے پہ جس کے
تہذیب وہ اخبار کے صفحوں سے عیاں ہے
ماجد صدیقی

کسی پہلو تو ذکرِ گل رُخاں ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
مہک ہو یا میانِ لب فغاں ہو
کسی پہلو تو ذکرِ گل رُخاں ہو
زباں سے کُچھ سوا لطفِ بدن ہے
سراپا تم حریر و پرنیاں ہو
تمہارے حق میں کیا جانوں کہوں کیا
سُرورِ چشم ہو تم لطفِ جاں ہو
لپک کر لیں جسے پانی کی لہریں
کنارِ آب وہ سروِ رواں ہو
مرے افکار کی بنیادِ محکم
مرے جذبات کی ناطق زباں ہو
کبھی ماجدؔ کے حرفوں میں بھی اُترو
بڑی مُدّت سے تنہا ضوفشاں ہو
ماجد صدیقی

کچھ کہہ نہ سکے جو بھی میں اُس کی زباں ٹھہروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
نسبت وہ سخن سے ہو اِک نطق رواں ٹھہروں
کچھ کہہ نہ سکے جو بھی میں اُس کی زباں ٹھہروں
ایسا بھی کوئی منظر دکھلائیں تو دُنیا کو
تو گل بکنارِ جو، میں آبِ رواں ٹھہروں
اتنی تو مجھے آخر، اظہار کی فرصت دے
تو راز ہو سربستہ، میں تیرا بیاں ٹھہروں
ہر دم‘ دمِ عیسٰی ہے اپنا بھی، جو پہچانوں
ہوں عہد نئے پیدا، پل بھر کو جہاں ٹھہروں
یہ شہر تو اب جیسے اک شہرِ خموشاں ہے
کس در سے گزر جاؤں، ٹھہروں تو کہاں ٹھہروں
صورت مرے جینے کی ماجدؔ ہو صبا جیسی
نس نس میں گُلوں کی مَیں، اُتری ہوئی جاں ٹھہروں
ماجد صدیقی

گنگ ہے کیوں مری غزل کی زباں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
چھن گیا کیوں قلم سے حرفِ رواں
گنگ ہے کیوں مری غزل کی زباں
کس خدا کی پناہ میں ہوں کہ میں
بُھولتا جا رہا ہوں جورِ بتاں
کوئی جنبش تو سطح پر بھی ہو
کس طرح کا ہوں میں بھی آبِ رواں
پیلے پتّوں کو سبز کون کرے
کس سے رُک پائے گا یہ سیلِ خزاں
اب یہی روگ لے کے بیٹھے ہیں
ہم کہ تھا شغل جن کا جی کا زیاں
ہم کہ سیماب وار جیتے تھے
اب ہمیں پر ہے پتّھروں کا گماں
اب وہ چبھنا بھی اپنا خاک ہوا
ہم کہ تھے ہر نظر میں نوکِ سناں
ہے تکلم مرے پہ خندہ بہ لب
گونجتی خامشی کراں بہ کراں
یہ تو خدشہ ہمیں نہ تھا ماجدؔ
نرغۂ غم میں گھر گئے ہو کہاں
ماجد صدیقی

تو ہے عنوانِ دل، بیاں ہیں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
گل ہیں خوشبُو ہیں کہکشاں ہیں ہم
تو ہے عنوانِ دل، بیاں ہیں ہم
کل بھی تھا ساتھ ولولوں کا ہجوم
آج بھی میرِ کارواں ہیں ہم
اِک تمنّا کا ساتھ بھی تو نہیں
کس بھروسے پہ یوں رواں ہیں ہم
دل میں سہمی ہے آرزوئے حیات
کن بگولوں کے درمیاں ہیں ہم
جانتی ہیں ہمیں ہری شاخیں
زرد پتّوں کے ترجمان ہیں ہم
دل کا احوال کیا کہیں ماجدؔ
گو بظاہر تو گلستاں ہیں ہم
ماجد صدیقی

دیکھ تسکین کی صورت ہے کہاں آنکھوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
رات کٹتی ہے سلگتے، مری جاں آنکھوں میں
دیکھ تسکین کی صورت ہے کہاں آنکھوں میں
دلِ ناداں کی پیمبر ہیں اِنہیں دیکھ ذرا
ہے کوئی غم تری جانب نگراں آنکھوں میں
پہلوئے دل میں مہکتا ہے وہی اِک گل تر
تیرتا ہے وہی اِک ماہ رواں آنکھوں میں
نہ کسی غم کا چراغاں نہ کسی یاد کے دیپ
کب سے ماجدؔ ہے اندھیروں کا سماں آنکھوں میں
ماجد صدیقی

چھوڑتا ہی نہیں اندیشۂ جاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
دل پہ چھایا ہے وہ احساسِ گراں
چھوڑتا ہی نہیں اندیشۂ جاں
جب بھی گزرے ہیں تری یاد میں دن
کھِل اُٹھے پھُول سرِ جوئے رواں
سُونا سُونا ہے نظر کا دامن
چھُپ گیا ہے وہ مرا چاند کہاں
شعلۂ گل سے دئیے تک ماجدؔ
اُٹھ رہا ہے مری آہوں کا دھُواں
ماجد صدیقی

کیا کہوں ذکر ترا کیسے رواں ہوتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 63
جب بھی ہوتا ہے بہ احساسِ گراں ہوتا ہے
کیا کہوں ذکر ترا کیسے رواں ہوتا ہے
بِن ترے بھی مجھے محسوس ہوا ہے اکثر
جیسے پہلو میں کوئی ماہِ رواں ہوتا ہے
دیکھتا ہوں گلِ تر روز، بعنوانِ دگر
روز دل سے گزرِ شعلہ رُخاں ہوتا ہے
زندگی میں غمِ جاناں کا یہی حال رہا
جِس طرح پھول سرِ جُوئے رواں ہوتا ہے
درد کی آخری حد چھو کے مَیں کیوں گھبراؤں
رات ڈھلتی ہے تو کچھ اور سماں ہوتا ہے
ایک ہم ہی نہیں ماجدؔ رُخِ بے رنگ لئے
جو بھی ہو شعلہ بیاں، سوختہ جاں ہوتا ہے
ماجد صدیقی

جیسے اک فتنہ بیدار، رواں خواب میں تھا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 23
جانے نشّے میں کہ وہ آفت جاں خواب میں تھا
جیسے اک فتنہ بیدار، رواں خواب میں تھا
وہ سرِ شام، سمندر کا کنارا، ترا ساتھ
اب تو لگتا ہے کہ جیسے یہ سماں خواب میں تھا
جیسے یادوں کا دریچہ کوئی وا رہ جائے
اک ستارہ مری جانب نگراں خواب میں تھا
جب کھلی آنکھ تو میں تھا مری تنہائی تھی
وہ جو تھا قافلۂ ہمسفراں خواب میں تھا
ایسے قاتل کو کوئی ہاتھ لگاتا ہے فراز
شکر کر شکر کہ وہ دشمنِ جاں خواب میں تھا
احمد فراز

دل تھا برباد مگر جائے اماں تھا پہلے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 70
ایسا احوال محبت میں کہاں تھا پہلے
دل تھا برباد مگر جائے اماں تھا پہلے
ایک امکان میں روپوش تھا سارا عالم
میں بھی اُس گردِ تحیّر میں نہاں تھا پہلے
ایک خوشبو سی کیے رہتی تھی حلقہ میرا
یعنی اطراف کوئی رقص کناں تھا پہلے
اُس نے مجھ سا کبھی ہونے نہ دیا تھا مجھ کو
کیا تغیّر مری جانب نگراں تھا پہلے
اب فقط میرے سخن میں ہے جھلک سی باقی
ورنہ یہ رنگ تو چہرے سے عیاں تھا پہلے
کون مانے گا کہ مجھ ایسا سراپا تسلیم
سربرآوردۂ آشفتہ سراں تھا پہلے
کون یہ لوگ ہیں نا واقفِ آداب و لحاظ
تیرا کوچہ تو رہِ دل زدگاں تھا پہلے
اب تو اک دشتِ تمنا کے سوا کچھ بھی نہیں
کیسا قلزم میرے سینے میں رواں تھا پہلے
اب کہیں جا کے یہ گیرائی ہوئی ہے پیدا
تجھ سے ملنا تو توجہ کا زیاں تھا پہلے
میں نے جیسے تجھے پایا ہے وہ میں جانتا ہوں
اب جو تُو ہے یہ فقط میرا گماں تھا پہلے
جانے ہے کس کی اداسی مری وحشت کی شریک
مجھ کو معلوم نہیں کون یہاں تھا پہلے
دل ترا راز کسی سے نہیں کہنے دیتا
ورنہ خود سے یہ تعلق بھی کہاں تھا پہلے
اب جو رہتا ہے سرِ بزمِ سخن مہر بہ لب
یہی عرفانؔ عجب شعلہ بیاں تھا پہلے
عرفان ستار

ہم کسی شے کو بھی موجود کہاں چاہتے ہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 46
سرِ صحرائے یقیں شہرِ گماں چاہتے ہیں
ہم کسی شے کو بھی موجود کہاں چاہتے ہیں
جس سے اٹھتے ہیں قدم راہِ جنوں خیز میں تیز
ہم بھی شانے پہ وہی بارِ گراں چاہتے ہیں
رُخ نہ کر جانبِ دنیا کہ اسیرانِ نظر
تجھ کو ہر دم اسی جانب نگراں چاہتے ہیں
ایسے گرویدہ کہاں ہیں لب و رخسار کے ہم
ہم تو بس قربتِ شیریں سخناں چاہتے ہیں
چاہتے ہیں کہ وہ تا عمر رہے پیشِ نظر
ایک تصویر سرِ آبِ رواں چاہتے ہیں
جس میں سیراب ہیں آنکھیں جہاں آباد ہیں دل
ہم اُسی شہرِ تخیل میں مکاں چاہتے ہیں
رازِ ہستی سے جو پردہ نہیں اُٹھتا، نہ اُٹھے
آپ کیوں اپنے تجسس کا زیاں چاہتے ہیں
شام ہوتے ہیں لگاتے ہیں درِ دل پہ صدا
آبلہ پا ہیں، اکیلے ہیں، اماں چاہتے ہیں
دُور عرفانؔ رہو اُن سے کہ جو اہلِ سخن
التفاتِ نگۂ کم نظراں چاہتے ہیں
عرفان ستار

مگر جو کچھ نہیں، وہ سب یہاں باقی رہے گا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 9
یہاں جو ہے کہاں اُس کا نشاں باقی رہے گا
مگر جو کچھ نہیں، وہ سب یہاں باقی رہے گا
سفر ہو گا سفر کی منزلیں معدوم ہوں گی
مکاں باقی نہ ہو گا لا مکاں باقی رہے گا
کبھی قریہ بہ قریہ اور کبھی عالم بہ عالم
غبارِ ہجرتِ بے خانماں باقی رہے گا
ہمارے ساتھ جب تک درد کی دھڑکن رہے گی
ترے پہلو میں ہونے کا گماں باقی رہے گا
بہت بے اعتباری سے گزر کر دل ملے ہیں
بہت دن تک تکلف درمیاں باقی رہے گا
رہے گا آسماں جب تک زمیں باقی رہے گی
زمیں قائم ہے جب تک آسماں باقی رہے گا
یہ دنیا حشر تک آباد رکھی جا سکے گی
یہاں ہم سا جو کوئی خوش بیاں باقی رہے گا
جنوں کو ایسی عمرِ جاوداں بخشی گئی ہے
قیامت تک گروہِ عاشقاں باقی رہے گا
تمدن کو بچا لینے کی مہلت اب کہاں ہے
سر گرداب کب تک بادباں باقی رہے گا
کنارہ تا کنارہ ہو کوئی یخ بستہ چادر
مگر تہہ میں کہیں آبِ رواں باقی رہے گا
ہمارا حوصلہ قائم ہے جب تک سائباں ہے
خدا جانے کہاں تک سائباں باقی رہے گا
تجھے معلوم ہے یا کچھ ہمیں اپنی خبر ہے
سو ہم مر جائیں گے تُو ہی یہاں باقی رہے گا
عرفان ستار

جاری رہے گلشن میں بیاں موسمِ گل کا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 14
باقی ہے یہی ایک نشاں موسمِ گل کا
جاری رہے گلشن میں بیاں موسمِ گل کا
جب پھول مرے چاکِ گریباں پہ ہنسے تھے
لمحہ وہی گزرا ہے گراں موسمِ گل کا
نادان گھٹاؤں کے طلب گار ہوئے ہیں
شعلوں کو بنا کر نگَراں موسمِ گل کا
سوکھے ہوئے پتّوں کے جہاں ڈھیر ملے ہیں
دیکھا تھا وہیں سیلِ رواں موسمِ گل کا
شکیب جلالی

آگ جب دل میں سلگتی تھی، دھواں کیوں نہ ہوا

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 13
غمِ الفت مرے چہرے سے عیاں کیوں نہ ہوا
آگ جب دل میں سلگتی تھی، دھواں کیوں نہ ہوا
سیلِ غم رکتا نہیں ضبط کی دیواروں سے
جوشِ گریہ تھا تو میں گریہ کناں کیوں نہ ہوا
کہتے ہیں حسن خد و خال کا پابند نہیں
ہر حسیں شے پہ مجھے تیرا گماں کیوں نہ ہوا
دشت بھی اس کے مکیں، شہر بھی اس سے آباد
تو جہاں آن بسے ، دل وہ مکاں کیوں نہ ہوا
تو وہی ہے جو مرے دل میں چھپا بیٹھا ہے
اک یہی راز کبھی مجھ پہ عیاں کیوں نہ ہوا
یہ سمجھتے ہوئے مقصودِ نظر ہے تو ہی
میں ترے حسن کی جانب نگراں کیوں نہ ہوا
اس سے پہلے کہ ترے لمس کی خوشبو کھو جائے
تجھ کو پا لینے کا ارمان جواں کیوں نہ ہوا
تپتے صحرا تو مری منزلِ مقصود نہ تھے
میں کہیں ہم سفرِ ابرِ رواں کیوں نہ ہوا
اجنبی پر تو یہاں لطف سوا ہوتا ہے
میں بھی اس شہر میں بے نام و نشاں کیوں نہ ہوا
نارسائی تھی مرے شوق کا حاصل تو شکیبؔ
حائلِ راہ کوئی سنگِ گراں کیوں نہ ہوا
شکیب جلالی

ہے آگ جامہ زیب۔۔دھواں بے لباس ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 218
بخشش ہوا یقین۔۔گماں بے لباس ہے
ہے آگ جامہ زیب۔۔دھواں بے لباس ہے
ہے یہ فضا ہزار لباسوں کا اک لباس
جو بے لباس ہے وہ کہاں بے لباس ہے
ملبوس تار تارِ نفس ہے زیانِ سود
سُودِ زیان یہ ہے کہ زیاں بے لباس ہے
محمل نشینِ رنگ! کوئی پوستینِ رنگ
ریگِ رواں ہوں۔۔ریگِ رواں بے لباس ہے
اب پارہ پارہ پوششِ گفتار بھی نہیں
ہیں سانس بے رفو سو زیاں بے لباس ہے
صد جامہ پوش جس کا ہے جسم برہنہ ابھی
خلوت سرائے جاں میں وہ جاں بے لباس ہے
ہے دل سے ہر نفس ہوسِ دید کا سوال
خلوت ہے وہ کہاں۔۔وہ جہاں بے لباس ہے
ہے بُود اور نبود میں پوشش نہ پیرہن
یاراں مکین کیا کہ مکاں بے لباس ہے
تُو خود ہی دیکھ رنگِ بدن اپنا جوش رنگ
تُو اپنے ہر لباس میں جاں بے لباس ہے
غم کی برہنگی کو کہاں سے جُڑے لباس
میں لب سیے ہوئے ہوں۔۔فغاں بے لباس ہے
جون ایلیا

جانِ جاں ، جانانِ جاں ، افسوس میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 108
سود ہے میرا زیاں ، افسوس میں
جانِ جاں ، جانانِ جاں ، افسوس میں
رائگانی میں نے سونپی ہے تجھے
اے مری عمرِ رواں ، افسوس میں
اے جہانِ بے گمان و صد گماں
میں ہوں اوروں کا گماں ، افسوس میں
نا بہ ہنگامی ہے میری زندگی
میں ہوں ہر دم نا گہاں ، افسوس میں
زندگی ہے داستاں افسوس کی
میں ہوں میرِ داستاں ، افسوس میں
اپنے برزن اپنے ہی بازار میں
اپنے حق میں ہوں گراں ، افسوس میں
گم ہوا اور بے نہائت گم ہوا
مجھ میں ہے میرا سماں ، افسوس میں
میرے سینے میں چراغِ زندگی
میری انکھوں میں دھواں ، افسوس میں
مجھ کو جز پرواز کوئی چارہ نہیں
ہوں میں اپنا آشیاں ، افسوس میں
ہے وہ مجھ میں بے اماں ، افسوس وہ
ہوں میں اس میں بے اماں ، افسوس میں
خود تو میں ہوں یک نفس کا ماجرا
میرا غم ہے جاوداں ، افسوس میں
ایک ہی تو باغِ حسرت ہے میرا
ہوں میں اس کی ہی خزاں ، افسوس میں
اے زمین و آسماں ،، افسوس تم
اے زمین و آسماں ، افسوس میں
جون ایلیا

کرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اور

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 120
ہے بس کہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور
کرتے ہیں مَحبّت تو گزرتا ہے گماں اور
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور
ابرو سے ہے کیا اس نگہِ ناز کو پیوند
ہے تیر مقرّر مگر اس کی ہے کماں اور
تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم، جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
ہر چند سُبُک دست ہوئے بت شکنی میں
ہم ہیں، تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور
ہے خوںِ جگر جوش میں دل کھول کے روتا
ہوتے جو کئی دیدۂ خو نبانہ فشاں اور
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
جلاّد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ’ہاں اور‘
لوگوں کو ہے خورشیدِ جہاں تاب کا دھوکا
ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغِ نہاں اور
لیتا، نہ اگر دل تمھیں دیتا، کوئی دم چین
کرتا، جو نہ مرتا، کوئی دن آہ و فغاں اور
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رُکتی ہے مری طبع، تو ہوتی ہے رواں اور
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھّے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ یہ پیرانہ سر جاہل جواں ہے

دیوان ششم غزل 1911
فلک کرنے کے قابل آسماں ہے
کہ یہ پیرانہ سر جاہل جواں ہے
گئے ان قافلوں سے بھی اٹھی گرد
ہماری خاک کیا جانیں کہاں ہے
بہت نامہرباں رہتا ہے یعنی
ہمارے حال پر کچھ مہرباں ہے
ہمیں جس جاے کل غش آگیا تھا
وہیں شاید کہ اس کا آستاں ہے
مژہ ہر اک ہے اس کی تیز ناوک
خمیدہ بھوں جو ہے زوریں کماں ہے
اسے جب تک ہے تیر اندازی کا شوق
زبونی پر مری خاطر نشاں ہے
چلی جاتی ہے دھڑکوں ہی میں جاں بھی
یہیں سے کہتے ہیں جاں کو رواں ہے
اسی کا دم بھرا کرتے رہیں گے
بدن میں اپنے جب تک نیم جاں ہے
پڑا ہے پھول گھر میں کاہے کو میر
جھمک ہے گل کی برق آشیاں ہے
میر تقی میر

نہ شب کو مہلت نہ دن کو فرصت دمادم آنکھوں سے خوں رواں ہے

دیوان ششم غزل 1891
کہو سو کریے علاج اپنا طپیدن دل بلاے جاں ہے
نہ شب کو مہلت نہ دن کو فرصت دمادم آنکھوں سے خوں رواں ہے
تلاش دل کی جو دلبری سے ہمارے پاس آ تمھیں رہے ہے
ستم رسیدہ شکستہ وہ دل گیا بھی خوں ہوکے یاں کہاں ہے
کڑھا کریں ہیں ہوا ہے مورد جہان اجسام جب سے اپنا
غم جدائی جہان جاں کا ہمارے دل میں جہاں جہاں ہے
نہیں جو دیکھا ہے ہم نے اس کو ہوا ہے نقصان جان اپنا
ادھر نہ دیکھے ہے وہ کبھو تو نگہ کا اس کی مگر زیاں ہے
بجا بھی ہے جو نہ ہووے مائل نگار سیر چمن کا ہرگز
گلوں میں ہمدم ہو کوئی اس کا سو کس کا ایسا لب و دہاں ہے
کسے ہے رنج و غم و الم سے دماغ سر کے اٹھانے کا اب
مصیبت اس کے زمانے میں تو ہمارے اوپر زماں زماں ہے
نہیں ہے اب میر پیر اتنا جو ذکر حق سے تو منھ چھپاوے
پگاہ نعرہ زنی کیا کر ابھی تو نام خدا جواں ہے
میر تقی میر

حیرت سے آفتاب جہاں کا تہاں رہا

دیوان ششم غزل 1807
اب یار دوپہر کو کھڑا ٹک جو یاں رہا
حیرت سے آفتاب جہاں کا تہاں رہا
جو قافلے گئے تھے انھوں کی اٹھی بھی گرد
کیا جانیے غبار ہمارا کہاں رہا
سوکھی پڑی ہیں آنکھیں مری دیر سے جو اب
سیلاب ان ہی رخنوں سے مدت رواں رہا
اعضا گداز عشق سے ایک ایک بہ گئے
اب کیا رہا ہے مجھ میں جو میں نیم جاں رہا
منعم کا گھر تمادی ایام میں بنا
سو آپ ایک رات ہی واں میہماں رہا
اس کے فریب لطف پہ مت جا کہ ہمنشیں
وہ دیر میرے حال پہ بھی مہرباں رہا
اب در پہ اس کے گھر کے گرا ہوں وگر نہ میں
مدت خرابہ گرد ہی بے خانماں رہا
ہے جان تو جہان ہے مشہور ہے مثل
کیا ہے گئے پہ جان کے گو پھر جہاں رہا
ترک شراب خانہ ہے پیری میں ورنہ میر
ترسا بچوں ہی میں رہا جب تک جواں رہا
میر تقی میر

مرنا تمام ہو نہ سکا نیم جاں ہوا

دیوان ششم غزل 1793
میں رنج عشق کھینچے بہت ناتواں ہوا
مرنا تمام ہو نہ سکا نیم جاں ہوا
بستر سے اپنے اٹھ نہ سکا شب ہزار حیف
بیمار عشق چار ہی دن میں گراں ہوا
شاید کہ دل تڑپنے سے زخم دروں پھٹا
خونناب میری آنکھوں سے منھ پر رواں ہوا
غیر از خدا کی ذات مرے گھر میں کچھ نہیں
یعنی کہ اب مکان مرا لامکاں ہوا
مستوں میں اس کی کیسی تعین سے ہے نشست
شیشہ ہوا نہ کیف کا پیر مغاں ہوا
سائے میں تاک کے مجھے رکھا اسیر کر
صیاد کے کرم سے قفس آشیاں ہوا
ہم نے نہ دیکھا اس کو سو نقصان جاں کیا
ان نے جو اک نگاہ کی اس کا زیاں ہوا
ٹک رکھ لے ہاتھ تن میں نہیں اور جاے زخم
بس میرے دل کا یار جی اب امتحاں ہوا
وے تو کھڑے کھڑے مرے گھر آ کے پھر گئے
میں بے دیار و بیدل و بے خانماں ہوا
گردش نے آسماں کی عجائب کیا سلوک
پیر کبیر جب میں ہوا وہ جواں ہوا
مرغ چمن کی نالہ کشی کچھ خنک سی تھی
میں آگ دی چمن کو جو گرم فغاں ہوا
دو پھول لاکے پھینک دیے میری گور پر
یوں خاک میں ملا کے مجھے مہرباں ہوا
سر کھینچا دود دل نے جہاں تیرہ ہو گیا
دم بھر میں صبح زیر فلک کیا سماں ہوا
کہتے ہیں میر سے کہیں اوباش لڑ گئے
ہنگامہ ان سے ایسا الٰہی کہاں ہوا
میر تقی میر

تسکیں نہیں ہے جان کو آب رواں سے بھی

دیوان چہارم غزل 1518
ہوتی نہیں تسلی دل گلستاں سے بھی
تسکیں نہیں ہے جان کو آب رواں سے بھی
تا یہ گرفتہ وا ہو کہاں لے کے جائیے
آئے ہیں اس کی غنچگی میں تنگ جاں سے بھی
آگے تھی شوخی ہم سے کنایوں میں چپ تھے ہم
مشکل ہے اب برا لگے کہنے زباں سے بھی
ہر چند دست بیع جواناں ہوں میں ولے
اک اعتقاد رکھتا ہوں پیرمغاں سے بھی
جھنجھلاہٹ اور غصے میں ہجران یار کے
جھگڑا ہمیں رہے ہے زمیں آسماں سے بھی
دنیا سے درگذر کہ گذرگہ عجب ہے یہ
درپیش یعنی میر ہے جانا جہاں سے بھی
لشکر میں ہے مبیت اسی بات کے لیے
کہتے ہیں لوگ کوچ ہے کل صبح یاں سے بھی
میر تقی میر

نکلی ہے مگر تازہ کوئی شاخ کماں میں

دیوان چہارم غزل 1445
ہے وضع کشیدہ کا جو شور اس کے جہاں میں
نکلی ہے مگر تازہ کوئی شاخ کماں میں
ہر طور میں ہم حرف و سخن لاگ سے دل کی
کیا کیا کہیں ہیں مرغ چمن اپنی زباں میں
کیا بائو نے بھی دست تطاول کو دیا طول
پھیلے پڑے ہیں پھول ہی سب اب کے خزاں میں
خوش رنگ ہے کس مرتبہ انہار کا پانی
خوناب مری چشم کا ہے آب رواں میں
روئو مرے احوال پہ جوں ابر بہت میر
بے طاقتی بجلی کی سی ہے آہ و فغاں میں
میر تقی میر

پیدا ہے عشق کشتے کا اس کے نشاں ہنوز

دیوان چہارم غزل 1394
ہے زیرخاک لاشۂ عاشق طپاں ہنوز
پیدا ہے عشق کشتے کا اس کے نشاں ہنوز
گردش سے اس کی خاک برابر ہوئی ہے خلق
استادہ روے خاک پہ ہے آسماں ہنوز
اس تک پہنچنے کا تو نہیں حال کچھ ولے
جاتے ہیں گرتے پڑتے بھی ہم ناتواں ہنوز
پروانہ جل کے خاک ہوا پھر اڑا کیا
اے شمع تیری رہتی نہیں ہے زباں ہنوز
چندیں ہزار جانیں گئیں اس کی راہ میں
ایک آدھ تو بھی مر رہے ہیں نیم جاں ہنوز
مدت ہوئی کہ خوار ہو گلیوں میں مر گئے
قصہ ہمارے عشق کا ہے داستاں ہنوز
لخت جگر کے غم میں کہ تھا لعل پارہ میر
رخسار زرد پر ہے مرے خوں رواں ہنوز
میر تقی میر

کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح

دیوان چہارم غزل 1374
کیا ہم بیاں کسو سے کریں اپنے ہاں کی طرح
کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح
جوں سبزہ چل چمن میں لب جو پہ سیر کر
عمر عزیز جاتی ہے آب رواں کی طرح
جو سقف بے عمد ہو نہیں اس کا اعتماد
کس خانماں خراب نے کی آسماں کی طرح
اثبات بے ثباتی ہوا ہوتا آگے تو
کیوں اس چمن میں ڈالتے ہم آشیاں کی طرح
اب کہتے ہیں بلا ہے ستم کش یہ پیرگی
قد جو ہوا خمیدہ ہمارا کماں کی طرح
نقصان جاں صریح تھا سودے میں عشق کے
ہم جان کر نکالی ہے جی کے زیاں کی طرح
دل کو جو خوب دیکھا تو ہو کا مکان ہے
ہے اس مکاں میں ساری وہی لامکاں کی طرح
کل دیکھ آفتاب کو رویا ہوں دیر تک
غصے میں ایسی ہی تھی مرے مہرباں کی طرح
جاوے گا اپنی بھول طرح داری میر وہ
کچھ اور ہو گئی جو کسو ناتواں کی طرح
میر تقی میر

اب کیسے لوگ آئے زمیں آسماں کے بیچ

دیوان چہارم غزل 1370
آگے تو رسم دوستی کی تھی جہاں کے بیچ
اب کیسے لوگ آئے زمیں آسماں کے بیچ
میں بے دماغ عشق اٹھا سو چلا گیا
بلبل پکارتی ہی رہی گلستاں کے بیچ
تحریک چلنے کی ہے جو دیکھو نگاہ کر
ہیئت کو اپنی موجوں میں آب رواں کے بیچ
کیا میل ہو ہما کی پس از مرگ میری اور
ہے جاے گیر عشق کی تب استخواں کے بیچ
کیا جانوں لوگ کہتے ہیں کس کو سرور قلب
آیا نہیں یہ لفظ تو ہندی زباں کے بیچ
طالع سے بن گئی کہ ہم اس مہ کنے گئے
بگڑی تھی رات اس کے سگ و پاسباں کے بیچ
اتنی جبین رگڑی کہ سنگ آئینہ ہوا
آنے لگا ہے منھ نظر اس آستاں کے بیچ
خوگر ہوئے ہیں عشق کی گرمی سے خار و خس
بجلی پڑی رہی ہے مرے آشیاں کے بیچ
اس روے برفروختہ سے جی ڈرے ہے میر
یہ آگ جا لگے گی کسو دودماں کے بیچ
میر تقی میر

پر کیا ہی دل کو لگتی ہے اس بد زباں کی بات

دیوان چہارم غزل 1365
کرتا ہے گرچہ یاروں سے وہ ٹیڑھی بانکی بات
پر کیا ہی دل کو لگتی ہے اس بد زباں کی بات
تھی بحر کی سی لہر کہ آئی چلی گئی
پہنچی ہے اس سرے تئیں طبع رواں کی بات
اب تو وفا و مہر کا مذکور ہی نہیں
تم کس سمیں کی کہتے ہو ہے یہ کہاں کی بات
مرغ اسیر کہتے تھے کس حسرتوں سے ہائے
ہم بھی کبھی سنیں گے گلوں کے دہاں کی بات
شب باش ان نے کہتے ہیں آنے کہا ہے میر
دن اچھے ہوں تو یہ بھی ہو اس مہرباں کی بات
میر تقی میر

صدشکر کہ مستی میں جانا نہ کہاں آیا

دیوان چہارم غزل 1338
ہم کوے مغاں میں تھے ماہ رمضاں آیا
صدشکر کہ مستی میں جانا نہ کہاں آیا
گو قدر محبت میں تھی سہل مری لیکن
سستا جو بکا میں تو مجھ کو بھی گراں آیا
رسم اٹھ گئی دنیا سے اک بار مروت کی
کیا لوگ زمیں پر ہیں کیسا یہ سماں آیا
یہ نفع ہوا نقصاں چاہت میں کیا جی کا
کی ایک نگہ ان نے سو جی کا زیاں آیا
بلبل بھی تو نالاں تھی پر سارے گلستاں میں
اک آگ پھنکی میں جب سرگرم فغاں آیا
طائر کی بھی رہتی ہے پھر جان چمن ہی میں
گل آئے جہاں وہ بھی جوں آب رواں آیا
خلوت ہی رہا کی ہے مجلس میں تو یوں اس کی
ہوتا ہے جہاں یک جا میں میر جہاں آیا
میر تقی میر

بلبل نے بھی نہ طور گلوں کا بیاں کیا

دیوان سوم غزل 1079
میں گلستاں میں آ کے عبث آشیاں کیا
بلبل نے بھی نہ طور گلوں کا بیاں کیا
پھر اس کے ابرواں کا خم و تاب ہے وہی
تلوار کے تلے بھی مرا امتحاں کیا
دوں کس کو دوش دشمن جانی تھی دوستی
اس سودے میں صریح میں نقصان جاں کیا
گالی ہے حرف یار قلم نے قضا کے ہائے
صورت نکالی خوب ولے بدزباں کیا
اس جنس خوش کے پیچھے کھپا میں چوائو کیا
میں نے کسو کا کیا کیا اپنا زیاں کیا
لڑکے جہان آباد کے یک شہر کرتے ناز
آجاتے ہیں بغل میں اشارہ جہاں کیا
میں منتظر جواب کا نامے کے مر گیا
ناچار میر جان کو اودھر رواں کیا
میر تقی میر

سو یوں رہے کہ جیسے کوئی میہماں رہے

دیوان دوم غزل 1004
یاں ہم براے بیت جو بے خانماں رہے
سو یوں رہے کہ جیسے کوئی میہماں رہے
تھا ملک جن کے زیرنگیں صاف مٹ گئے
تم اس خیال میں ہو کہ نام و نشاں رہے
آنسو چلے ہی آنے لگے منھ پہ متصل
کیا کیجے اب کہ راز محبت نہاں رہے
ہم جب نظر پڑیں تو وہ ابرو کو خم کرے
تیغ اپنے اس کے کب تئیں یوں درمیاں رہے
کوئی بھی اپنے سر کو کٹاتا ہے یوں ولے
جوں شمع کیا کروں جو نہ میری زباں رہے
یہ دونوں چشمے خون سے بھر دوں تو خوب ہے
سیلاب میری آنکھوں سے کب تک رواں رہے
دیکھیں تو مصر حسن میں کیا خواریاں کھنچیں
اب تک تو ہم عزیز رہے ہیں جہاں رہے
مقصود گم کیا ہے تب ایسا ہے اضطراب
چکر میں ورنہ کاہے کو یوں آسماں رہے
کیا اپنی ان کی تم سے بیاں کیجیے معاش
کیں مدتوں رکھا جو تنک مہرباں رہے
گہ شام اس کے مو سے ہے گہ رو سے اس کے صبح
تم چاہو ہو کہ ایک سا ہی یاں سماں رہے
کیا نذر تیغ عشق سرِتیر میں کیا
اس معرکے میں کھیت بہت خستہ جاں رہے
اس تنگناے دہر میں تنگی نفس نے کی
جوں صبح ایک دم ہی رہے ہم جو یاں رہے
اک قافلے سے گرد ہماری نہ ٹک اٹھی
حیرت ہے میر اپنے تئیں ہم کہاں رہے
میر تقی میر

ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے

دیوان دوم غزل 974
وہی شورش موئے پر بھی ہے اب تک ساتھ یاں میرے
ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے
عزیزاں غم میں اپنے یوسفؑ گم گشتہ کے ہر دم
چلے جاتے ہیں آنسو کارواں در کارواں میرے
تمھاری دشمنی ہم دوستوں سے لا نہایت ہے
وگرنہ انتہا کینے کو بھی ہے مہرباں میرے
لب و لہجہ غزل خوانی کا کس کو آج کل ایسا
گھڑی بھر کو ہوئے مرغ چمن ہم داستاں میرے
نظر مت بے پری پر کر کہ آں سوے جہاں پھر ہوں
ہوئے پرواز کے قابل یہ ٹوٹے پر جہاں میرے
کہاں تک سر کو دیواروں سے یوں مارا کرے کوئی
رکھوں اس در پہ پیشانی نصیب ایسے کہاں میرے
مجھے پامال کر یکساں کیا ہے خاک سے تو بھی
وہی رہتا ہے صبح و شام درپے آسماں میرے
خزاں کی بائو سے حضرت میں گلشن کے تطاول تھا
تبرک ہو گئے یک دست خارآشیاں میرے
کہا میں شوق میں طفلان تہ بازار کے کیا کیا
سخن مشتاق ہیں اب شہر کے پیر و جواں میرے
زمیں سر پر اٹھا لی کبک نے رفتار رنگیں سے
خراماں ناز سے ہو تو بھی اے سرو رواں میرے
سخن کیا میر کریے حسرت و اندوہ و حرماں سے
بیاں حاجت نہیں حالات ہیں سارے عیاں میرے
میر تقی میر

اس آتش خاموش کا ہے شور جہاں میں

دیوان دوم غزل 908
معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں
اس آتش خاموش کا ہے شور جہاں میں
یوسفؑ کے تئیں دیکھ نہ کیوں بند ہوں بازار
یہ جنس نکلتی نہیں ہر اک کی دکاں میں
یک پرچۂ اشعار سے منھ باندھے سبھوں کے
جادو تھا مرے خامے کی گویا کہ زباں میں
یہ دل جو شکستہ ہے سو بے لطف نہیں ہے
ٹھہرو کوئی دم آن کے اس ٹوٹے مکاں میں
میں لگ کے گلے خوب ہی رویا لب جو پر
ملتی تھی طرح اس کی بہت سرو رواں میں
کیا قہر ہوا دل جو دیا لڑکوں کو میں نے
چرچا ہے یہی شہر کے اب پیر و جواں میں
وے یاسمن تازہ شگفتہ میں کہاں میر
پائے گئے لطف اس کے جو پائوں کے نشاں میں
میر تقی میر

جی لگ رہا ہے خار و خس آشیاں کی اور

دیوان دوم غزل 811
چمکی ہے جب سے برق سحر گلستاں کی اور
جی لگ رہا ہے خار و خس آشیاں کی اور
وہ کیا یہ دل لگے ہے فنا میں کہ رفتگاں
منھ کرکے بھی نہ سوئے کبھو پھر جہاں کی اور
رنگ سخن تو دیکھ کہ حیرت سے باغ میں
رہ جاتے ہیں گے دیکھ کے گل اس دہاں کی اور
آنکھیں سی کھل ہی جائیں گی جو مر گیا کوئی
دیکھا نہ کر غضب سے کسو خستہ جاں کی اور
کیا بے خبر ہے رفتن رنگین عمر سے
جوے چمن میں دیکھ ٹک آب رواں کی اور
یاں تاب سعی کس کو مگر جذب عشق کا
لاوے اسی کو کھینچ کسو ناتواں کی اور
یارب ہے کیا مزہ سخن تلخ یار میں
رہتے ہیں کان سب کے اسی بد زباں کی اور
یا دل وہ دیدنی تھی جگہ یا کہ تجھ بغیر
اب دیکھتا نہیں ہے کوئی اس مکاں کی اور
آیا کسے تکدر خاطر ہے زیرخاک
جاتا ہے اکثر اب تو غبار آسماں کی اور
کیا حال ہو گیا ہے ترے غم میں میر کا
دیکھا گیا نہ ہم سے تو ٹک اس جواں کی اور
میر تقی میر

لاتا ہے تازہ آفت تو ہر زماں زمیں پر

دیوان دوم غزل 802
رفتار میں یہ شوخی رحم اے جواں زمیں پر
لاتا ہے تازہ آفت تو ہر زماں زمیں پر
آنکھیں لگی رہیں گی برسوں وہیں سبھوں کی
ہو گا قدم کا تیرے جس جا نشاں زمیں پر
میں مشت خاک یارب بارگران غم تھا
کیا کہیے آ پڑا ہے اک آسماں زمیں پر
آنکھیں ہی بچھ رہی ہیں لوگوں کی تیری رہ میں
ٹک دیکھ کر قدم رکھ اے کام جاں زمیں پر
خاک سیہ سے یکساں ہر ایک ہے کہے تو
مارا اٹھا فلک نے سارا جہاں زمیں پر
چشمے کہیں ہیں جوشاں جوئیں کہیں ہیں جاری
جوں ابر ہم نہ روئے اس بن کہاں زمیں پر
آتا نہ تھا فرو سرجن کا کل آسماں سے
ہیں ٹھوکروں میں ان کے آج استخواں زمیں پر
جو کوئی یاں سے گذرا کیا آپ سے نہ گذرا
پانی رہا کب اتنا ہوکر رواں زمیں پر
پھر بھی اٹھالی سر پر تم نے زمیں سب آکر
کیا کیا ہوا تھا تم سے کچھ آگے یاں زمیں پر
کچھ بھی مناسبت ہے یاں عجز واں تکبر
وے آسمان پر ہیں میں ناتواں زمیں پر
پست و بلند یاں کا ہے اور ہی طرف سے
اپنی نظر نہیں ہے کچھ آسماں زمیں پر
قصر جناں تو ہم نے دیکھا نہیں جو کہیے
شاید نہ ہووے دل سا کوئی مکاں زمیں پر
یاں خاک سے انھوں کی لوگوں نے گھر بنائے
آثار ہیں جنھوں کے اب تک عیاں زمیں پر
کیا سر جھکا رہے ہو میر اس غزل کو سن کر
بارے نظر کرو ٹک اے مہرباں زمیں پر
میر تقی میر

ہر گام پر تلف ہوئے آب رواں کی طرح

دیوان دوم غزل 793
آنے کی اپنے کیا کہیں اس گلستاں کی طرح
ہر گام پر تلف ہوئے آب رواں کی طرح
کیا میں ہی چھیڑ چھیڑ کے کھاتا ہوں گالیاں
اچھی لگے ہے سب کو مرے بد زباں کی طرح
آگے تو بے طرح نہ کبھو کہتے تھے ہمیں
اب تازہ یہ نکالی ہے تم نے کہاں کی طرح
یہ شور دل خراش کب اٹھتا تھا باغ میں
سیکھے ہے عندلیب بھی ہم سے فغاں کی طرح
کرتے تو ہو ستم پہ نہیں رہنے کے حواس
کچھ اور ہو گئی جو کسو خستہ جاں کی طرح
نقشہ الٰہی دل کا مرے کون لے گیا
کہتے ہیں ساری عرش میں ہے اس مکاں کی طرح
مرغ چمن نے زور رلایا سبھوں کے تیں
میری غزل پڑھی تھی شب اک روضہ خواں کی طرح
لگ کر گلے سے اس کے بہت میں بکا کیا
ملتی تھی سرو باغ میں کچھ اس جواں کی طرح
جو کچھ نہیں تو بجلی سے ہی پھول پڑ گیا
ڈالی چمن میں ہم نے اگر آشیاں کی طرح
یہ باتیں رنگ رنگ ہماری ہیں ورنہ میر
آجاتی ہے کلی میں کبھو اس دہاں کی طرح
میر تقی میر

تیر و کماں ہے ہاتھ میں سینہ نشاں ہے اب

دیوان دوم غزل 770
وہ جو کشش تھی اس کی طرف سے کہاں ہے اب
تیر و کماں ہے ہاتھ میں سینہ نشاں ہے اب
اتنا بھی منھ چھپانا خط آئے پہ وجہ کیا
لڑکا نہیں ہے نام خدا تو جواں ہے اب
پھول اس چمن کے دیکھتے کیا کیا جھڑے ہیں ہائے
سیل بہار آنکھوں سے میری رواں ہے اب
جن و ملک زمین و فلک سب نکل گئے
بارگران عشق و دل ناتواں ہے اب
نکلی تھی اس کی تیغ ہوئے خوش نصیب لوگ
گردن جھکائی میں تو سنا یہ اماں ہے اب
زردی رنگ ہے غم پوشیدہ پر دلیل
دل میں جو کچھ ہے منھ سے ہمارے عیاں ہے اب
پیش از دم سحر مرا رونا لہو کا دیکھ
پھولے ہے جیسے سانجھ وہی یاں سماں ہے اب
نالاں ہوئی کہ یاد ہمیں سب کو دے گئی
گلشن میں عندلیب ہماری زباں ہے اب
برسوں ہوئے گئے اسے پر بھولتا نہیں
یادش بخیر میر رہے خوش جہاں ہے اب
میر تقی میر

انداز سخن کا سبب شور و فغاں تھا

دیوان دوم غزل 718
یہ میر ستم کشتہ کسو وقت جواں تھا
انداز سخن کا سبب شور و فغاں تھا
جادو کی پڑی پرچۂ ابیات تھا اس کا
منھ تکیے غزل پڑھتے عجب سحر بیاں تھا
جس راہ سے وہ دل زدہ دلی میں نکلتا
ساتھ اس کے قیامت کا سا ہنگامہ رواں تھا
افسردہ نہ تھا ایسا کہ جوں آب زدہ خاک
آندھی تھی بلا تھا کوئی آشوب جہاں تھا
کس مرتبہ تھی حسرت دیدار مرے ساتھ
جو پھول مری خاک سے نکلا نگراں تھا
مجنوں کو عبث دعوی وحشت ہے مجھی سے
جس دن کہ جنوں مجھ کو ہوا تھا وہ کہاں تھا
غافل تھے ہم احوال دل خستہ سے اپنے
وہ گنج اسی کنج خرابی میں نہاں تھا
کس زور سے فرہاد نے خارا شکنی کی
ہر چند کہ وہ بے کس و بے تاب و تواں تھا
گو میر جہاں میں کنھوں نے تجھ کو نہ جانا
موجود نہ تھا تو تو کہاں نام و نشاں تھا
میر تقی میر

بلبل نے کیا سمجھ کر یاں آشیاں بنایا

دیوان دوم غزل 716
لے رنگ بے ثباتی یہ گلستاں بنایا
بلبل نے کیا سمجھ کر یاں آشیاں بنایا
اڑتی ہے خاک یارب شام و سحر جہاں میں
کس کے غبار دل سے یہ خاکداں بنایا
اک رنگ پر نہ رہنا یاں کا عجب نہیں ہے
کیا کیا نہ رنگ لائے تب یہ جہاں بنایا
آئینے میں کہاں ہے ایسی صفا کہے تو
جبہوں سے راستوں کے وہ آستاں بنایا
سرگشتہ ایسی کس کی ہاتھ آگئی تھی مٹی
جو چرخ زن قضا نے یہ آسماں بنایا
نقش قدم سے اس کے گلشن کی طرح ڈالی
گرد رہ اس کی لے کر سرو رواں بنایا
ہونے پہ جمع اپنے پھولا بہت تھا لیکن
کیا غنچہ تنگ آیا جب وہ دہاں بنایا
اس صحن پر یہ وسعت اللہ رے تیری صنعت
معمار نے قضا کے دل کیا مکاں بنایا
دل ٹک ادھر نہ آیا ایدھر سے کچھ نہ پایا
کہنے کو ترک لے کر اک سوانگ یاں بنایا
دریوزہ کرتے گذری گلیوں میں عمر اپنی
درویش کب ہوئے ہم تکیہ کہاں بنایا
وہ تو مٹا گیا تھا تربت بھی میر جی کی
دو چار اینٹیں رکھ کر پھر میں نشاں بنایا
میر تقی میر

ٹہنی جو زرد بھی ہے سو شاخ زعفراں ہے

دیوان اول غزل 585
نازچمن وہی ہے بلبل سے گو خزاں ہے
ٹہنی جو زرد بھی ہے سو شاخ زعفراں ہے
گر اس چمن میں وہ بھی اک ہی لب ودہاں ہے
لیکن سخن کا تجھ سے غنچے کو منھ کہاں ہے
ہنگام جلوہ اس کے مشکل ہے ٹھہرے رہنا
چتون ہے دل کی آفت چشمک بلاے جاں ہے
پتھر سے توڑنے کے قابل ہے آرسی تو
پر کیا کریں کہ پیارے منھ تیرا درمیاں ہے
باغ و بہار ہے وہ میں کشت زعفراں ہوں
جو لطف اک ادھر ہے تو یاں بھی اک سماں ہے
ہر چند ضبط کریے چھپتا ہے عشق کوئی
گذرے ہے دل پہ جو کچھ چہرے ہی سے عیاں ہے
اس فن میں کوئی بے تہ کیا ہو مرا معارض
اول تو میں سند ہوں پھر یہ مری زباں ہے
عالم میں آب و گل کا ٹھہرائو کس طرح ہو
گر خاک ہے اڑے ہے ورآب ہے رواں ہے
چرچا رہے گا اس کا تاحشر مے کشاں میں
خونریزی کی ہماری رنگین داستاں ہے
ازخویش رفتہ اس بن رہتا ہے میر اکثر
کرتے ہو بات کس سے وہ آپ میں کہاں ہے
میر تقی میر

ہوں میں چراغ کشتہ باد سحر کہاں ہے

دیوان اول غزل 574
دو سونپ دود دل کو میرا کوئی نشاں ہے
ہوں میں چراغ کشتہ باد سحر کہاں ہے
بیٹھا جگر سے اپنے کھینچوں ہوں اس کے پیکاں
جینے کی اور سے تو خاطر مری نشاں ہے
روشن ہے جل کے مرنا پروانے کا ولیکن
اے شمع کچھ تو کہہ تو تیرے بھی تو زباں ہے
بھڑکے ہے آتش گل اے ابرتر ترحم
گوشے میں گلستاں کے میرا بھی آشیاں ہے
ہم زمزمہ تو ہو کے مجھ نالہ کش سے چپ رہ
اے عندلیب گلشن تیرا لب و دہاں ہے
کس دور میں اٹھایا مجھ سینہ سوختہ کو
پیوند ہو زمیں کا جیسا یہ آسماں ہے
کتنی ہی جی نے تجھ سے لی خاک گر اڑائی
وابستگی کر اس سے پر وہی جہاں ہے
ہے قتل گاہ کس کی کوچہ ترا ستمگر
یک عمر خضر ہو گئی خوں متصل رواں ہے
پیرمغاں سعادت تیری جو ایسا آوے
یہ میر مے کشوں میں اک طرز کا جواں ہے
میر تقی میر

شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ

دیوان اول غزل 422
دل پر خوں ہے یہاں تجھ کو گماں ہے شیشہ
شیخ کیوں مست ہوا ہے تو کہاں ہے شیشہ
شیشہ بازی تو تنک دیکھنے آ آنکھوں کی
ہر پلک پر مرے اشکوں سے رواں ہے شیشہ
روسفیدی ہے نقاب رخ شور مستی
ریش قاضی کے سبب پنبہ دہاں ہے شیشہ
منزل مستی کو پہنچے ہے انھیں سے عالم
نشۂ مے بلد و سنگ نشاں ہے شیشہ
درمیاں حلقۂ مستاں کے شب اس کی جا تھی
دور ساغر میں مگر پیر مغاں ہے شیشہ
جاکے پوچھا جو میں یہ کارگہ مینا میں
دل کی صورت کا بھی اے شیشہ گراں ہے شیشہ
کہنے لاگے کہ کدھر پھرتا ہے بہکا اے مست
ہر طرح کا جو تو دیکھے ہے کہ یاں ہے شیشہ
دل ہی سارے تھے پہ اک وقت میں جو کرکے گداز
شکل شیشے کی بنائے ہیں کہاں ہے شیشہ
جھک گیا دیکھ کے میں میر اسے مجلس میں
چشم بد دور طرحدار جواں ہے شیشہ
میر تقی میر

کیا جانے منھ سے نکلے نالے کے کیا سماں ہو

دیوان اول غزل 383
اے چرخ مت حریف اندوہ بے کساں ہو
کیا جانے منھ سے نکلے نالے کے کیا سماں ہو
کب تک گرہ رہے گا سینے میں دل کے مانند
اے اشک شوق اک دم رخسار پر رواں ہو
ہم دور ماندگاں کی منزل رساں مگر اب
یا ہو صدا جرس کی یا گرد کارواں ہو
مسند نشین ہو گر عرصہ ہے تنگ اس پر
آسودہ وہ کسو کا جو خاک آستاں ہو
تاچند کوچہ گردی جیسے صبا زمیں پر
اے آہ صبح گاہی آشوب آسماں ہو
گر ذوق سیر ہے تو آوارہ اس چمن میں
مانند عندلیب گم کردہ آشیاں ہو
یہ جان تو کہ ہے اک آوارہ دست بردل
خاک چمن کے اوپر برگ خزاں جہاں ہو
کیا ہے حباب ساں یاں آ دیکھ اپنی آنکھوں
گر پیرہن میں میرے میرا تجھے گماں ہو
از خویش رفتہ ہر دم رہتے ہیں ہم جو اس بن
کہتے ہیں لوگ اکثر اس وقت تم کہاں ہو
پتھر سے توڑ ڈالوں آئینے کو ابھی میں
گر روے خوبصورت تیرا نہ درمیاں ہو
اس تیغ زن سے کہیو قاصد مری طرف سے
اب تک بھی نیم جاں ہوں گر قصد امتحاں ہو
کل بت کدے میں ہم نے دھولیں لگائیاں ہیں
کعبے میں آج زاہد گو ہم پہ سرگراں ہو
ہمسایہ اس چمن کے کتنے شکستہ پر ہیں
اتنے لیے کہ شاید اک بائو گل فشاں ہو
میر اس کو جان کر تو بے شبہ ملیو رہ پر
صحرا میں جو نمد مو بیٹھا کوئی جواں ہو
میر تقی میر

اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں

دیوان اول غزل 321
میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں
اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر
میں ورنہ وہی خلوتی راز نہاں ہوں
جلوہ ہے مجھی سے لب دریاے سخن پر
صد رنگ مری موج ہے میں طبع رواں ہوں
پنجہ ہے مرا پنجۂ خورشید میں ہر صبح
میں شانہ صفت سایہ رو زلف بتاں ہوں
دیکھا ہے مجھے جن نے سو دیوانہ ہے میرا
میں باعث آشفتگی طبع جہاں ہوں
تکلیف نہ کر آہ مجھے جنبش لب کی
میں صد سخن آغشتہ بہ خوں زیر زباں ہوں
ہوں زرد غم تازہ نہالان چمن سے
اس باغ خزاں دیدہ میں میں برگ خزاں ہوں
رکھتی ہے مجھے خواہش دل بسکہ پریشاں
درپے نہ ہو اس وقت خدا جانے کہاں ہوں
اک وہم نہیں بیش مری ہستی موہوم
اس پر بھی تری خاطر نازک پہ گراں ہوں
خوش باشی و تنزیہ و تقدس تھے مجھے میر
اسباب پڑے یوں کہ کئی روز سے یاں ہوں
میر تقی میر

پر مل چلا کرو بھی کسو خستہ جاں سے تم

دیوان اول غزل 278
جانا کہ شغل رکھتے ہو تیر و کماں سے تم
پر مل چلا کرو بھی کسو خستہ جاں سے تم
ہم اپنی چاک جیب کو سی رہتے یا نہیں
پھاٹے میں پائوں دینے کو آئے کہاں سے تم
اب دیکھتے ہیں خوب تو وہ بات ہی نہیں
کیا کیا وگرنہ کہتے تھے اپنی زباں سے تم
تنکے بھی تم ٹھہرتے کہیں دیکھے ہیں تنک
چشم وفا رکھو نہ خسان جہاں سے تم
جائو نہ دل سے منظر تن میں ہے جا یہی
پچھتائوگے اٹھوگے اگر اس مکاں سے تم
قصہ مرا سنوگے تو جاتی رہے گی نیند
آرام چشم مت رکھو اس داستاں سے تم
کھل جائیں گی پھر آنکھیں جو مر جائے گا کوئی
آتے نہیں ہو باز مرے امتحاں سے تم
جتنے تھے کل تم آج نہیں پاتے اتنا ہم
ہر دم چلے ہی جاتے ہو آب رواں سے تم
رہتے نہیں ہو بن گئے میر اس گلی میں رات
کچھ راہ بھی نکالو سگ و پاسباں سے تم
میر تقی میر

پر مطلقاً کہیں ہم اس کا نشاں نہ پایا

دیوان اول غزل 90
یاں نام یار کس کا ورد زباں نہ پایا
پر مطلقاً کہیں ہم اس کا نشاں نہ پایا
وضع کشیدہ اس کی رکھتی ہے داغ سب کو
نیوتا کسو سے ہم وہ ابرو کماں نہ پایا
پایا نہ یوں کہ کریے اس کی طرف اشارت
یوں تو جہاں میں ہم نے اس کو کہاں نہ پایا
یہ دل کہ خون ہووے برجا نہ تھا وگرنہ
وہ کون سی جگہ تھی اس کو جہاں نہ پایا
فتنے کی گرچہ باعث آفاق میں وہی تھی
لیکن کمر کو اس کی ہم درمیاں نہ پایا
محروم سجدہ آخر جانا پڑا جہاں سے
جوش جباہ سے ہم وہ آستاں نہ پایا
ایسی ہے میر کی بھی مدت سے رونی صورت
چہرے پہ اس کے کس دن آنسو رواں نہ پایا
میر تقی میر

القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا

دیوان اول غزل 25
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا
القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید
خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے
جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو
یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے
پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی
ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا
اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے
وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو
احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے اس کو
سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر
طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے
ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو
اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے
ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا
سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے
اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بدزباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری
کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی
گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میر سے کیا کوئی نظر پڑا ہے
چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
میر تقی میر

ہو گیا جزوِ زمین و آسماں ، کیا پوچھئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 103
مردِ نسیاں بُرد کا نام و نشاں کیا پوچھئے
ہو گیا جزوِ زمین و آسماں ، کیا پوچھئے
نامقرر راستوں کی سیرِ ممنوعہ کے بعد
کیوں ہنسی کے ساتھ آنسو ہیں رواں، کیا پوچھئے
ہر نئے ظاہر میں پوشیدہ ہے اک ظاہر نیا
ایک حیرت ہے نہاں اندر نہاں کیا پوچھئے
خود کو نامشہور کرنے کے یہی تو ڈھنگ ہیں
آفتاب اقبال کا طرزِ بیاں کیا پوچھئے
کیوں اُسے پرتوں کی پرتیں کھو جنا اچھا لگے
کیوں کئے جاتا ہے کارِ رائیگاں کیا پوچھئے
لیکھ ہی ایسا تھا یا آدرش میں کچھ کھوٹ تھی
زندگی ہم سے رہی کیوں بدگماں کیا پوچھئے
ہم نے سمجھا یا تو تھا لیکن وہ سمجھا ہی نہیں
آج کا یہ سود ہے کل کا زیاں کیا پوچھئے
ہم سبھی جس داستاں کے فالتو کردار ہیں
زندگی ہے ایک ایسی داستاں ، کیا پوچھئے
آفتاب اقبال شمیم

وہ معجزہ جو وہاں ہوا ہے یہاں بھی ہو گا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 27
یہ وقت آساں ، کبھی عدو پر گراں بھی ہو گا
وہ معجزہ جو وہاں ہوا ہے یہاں بھی ہو گا
یہی سجھائے ہمیں یہ ٹھہرا ہوا ستارہ
کہ جو بظاہر رُکا ہوا ہے رواں بھی ہو گا
اگر سفر میں رہا نہ آگے سے اور آگے
تو پھر وہ شہرِ مثال ہم پر عیاں بھی ہو گا
اُداس مت ہو خدا اگر واقعی خدا ہے
ضرور اِن بستیوں پہ وہ مہرباں بھی ہو گا
چلو تو یاروں کی چاہتیں ساتھ لیتے جاؤ
کہ راستے میں قبیلۂ دشمناں بھی ہو گا
بگاڑ بیٹھے ہو دل سے ان دنیا داریوں میں
کہا نہ تھا ایسے فائدے میں زیاں بھی ہو گا
آفتاب اقبال شمیم

یہ ایک صبح تو ہے سیرِ بوستاں کے لیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 179
بچا کے رکھا ہے جس کو غروبِ جاں کے لیے
یہ ایک صبح تو ہے سیرِ بوستاں کے لیے
چلیں کہیں تو سیہ دل زمانوں میں ہوں گی
فراغتیں بھی اس اک صدقِ رائیگاں کے لیے
لکھے ہیں لوحوں پہ جو مردہ لفظ، ان میں جییں
اس اپنی زیست کے اسرار کے بیاں کے لیے
پکارتی رہی ہنسی، بھٹک گئے ریوڑ
نئے گیاہ، نئے چشمۂ رواں کے لیے
سحر کو نکلا ہوں مینہ میں اکیلا کس کے لیے؟
درخت، ابر، ہوا، بوئے ہمرہاں کے لیے
سوادِ نور سے دیکھیں تو تب سراغ ملے
کہ کس مقام کی ظلمت ہے کس جہاں کے لیے
تو روشنی کے ملیدے میں رزق کی خاطر
میں روشنائی کے گودے میں آب و ناں کے لیے
ترس رہے ہیں سدا خشت خشت لمحوں کے دیس
جو میرے دل میں ہے اس شہرِ بےمکاں کے لیے
یہ نین، جلتی لووں، جیتی نیکیوں والے
گھنے بہشتوں کا سایہ ہیں ارضِ جاں کے لیے
ضمیرِ خاک میں خفتہ ہے میرا دل امجد
کہ نیند مجھ کو ملی خوابِ رفتگاں کے لیے
مجید امجد

جہاں اندر جہاں ہے اور میں ہوں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 61
ضمیرِ رازداں ہے اور میں ہوں
جہاں اندر جہاں ہے اور میں ہوں
درِ پیرِ مغاں ہے اور میں ہوں
وہی رطلِ گراں ہے اور میں ہوں
وہی دورِ زماں ہے اور میں ہوں
وہی رسمِ فغاں ہے اور میں ہوں
فریبِ رنگ و بو ہے اور تم ہو
بہارِ صد خزاں ہے اور میں ہوں
جہاں ہے اور سکوتِ نیم شب ہے
مرا قلبِ تپاں ہے اور میں ہوں
یہ دو ساتھی نہ جانے کب بچھڑ جائیں
مری عمر رواں ہے اور میں ہوں
مجید امجد

یہ میرے ساتھ کا بچہ جواں ابھی تک ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 330
جو سر پہ کل تھا وہی آسماں ابھی تک ہے
یہ میرے ساتھ کا بچہ جواں ابھی تک ہے
کسی جزیرے پہ شاید مجھے بھی پھینک آئے
سمندروں پہ ہوا حکمراں ابھی تک ہے
یہاں سے پیاسوں کے خیمے تو اٹھ گئے کب کے
یہ کیوں رکی ہوئی جوئے رواں ابھی تک ہے
تو رہزنوں کو بھی توفیقِ خواب دے یارب
کہ دشتِ شب میں مرا کارواں ابھی تک ہے
میں کس طرح مرے قاتل گلے لگاؤں تجھے
یہ تیر تیرے مرے درمیاں ابھی تک ہے
عرفان صدیقی

کیا سمندر ہے کہ اک موج رواں سے کم ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 327
ساعتِ وصل بھی عمر گزراں سے کم ہے
کیا سمندر ہے کہ اک موج رواں سے کم ہے
ہے بہت کچھ مری تعبیر کی دُنیا تجھ میں
پھر بھی کچھ ہے کہ جو خوابوں کے جہاں سے کم ہے
جان کیا دیجئے اس دولتِ دُنیا کے لیے
ہم فقیروں کو جو اک پارۂ ناں سے کم ہے
وادیِ ہو میں پہنچتا ہوں بیک جستِ خیال
دشتِ افلاک مری وحشتِ جاں سے کم ہے
میں وہ بسمل ہوں کہ بچنا نہیں اچھا جس کا
ویسے خطرہ ہنرِ چارہ گراں سے کم ہے
عرفان صدیقی

سارا منظر مرے خوابوں کے جہاں جیسا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 316
پھول چہروں پہ سویروں کا سماں جیسا ہے
سارا منظر مرے خوابوں کے جہاں جیسا ہے
کیسا موسم ہے کوئی پیاس کا رشتہ بھی نہیں
میں بیاباں ہوں، نہ وہ ابرِ رواں جیسا ہے
تو یہاں تھا تو بہت کچھ تھا اسی شہر کے پاس
اب جو کچھ ہے وہ مرے قریۂ جاں جیسا ہے
جان بچنے پہ یہ شکرانہ ضروری ہے‘ مگر
جانتا ہوں ہنرِ چارہ گراں جیسا ہے
جوئے مہتاب تو میلی نہیں ہوتی‘ شاید
آج کچھ میری ہی آنکھوں میں دھواں جیسا ہے
عرفان صدیقی

ہم لوگ بھی اے دل زدگاں عیش کریں گے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 287
سر ہونے دو یہ کارِ جہاں عیش کریں گے
ہم لوگ بھی اے دل زدگاں عیش کریں گے
کچھ عرض کریں گے تب و تابِ خس و خاشاک
آجا‘ کہ ذرا برقِ بتاں عیش کریں گے
اب دل میں شرر کوئی طلب کا‘ نہ ہوس کا
اس خاک پہ کیا خوش بدناں عیش کریں گے
کچھ دور تو بہتے چلے جائیں گے بھنور تک
کچھ دیر سرِ آبِ رواں عیش کریں گے
اس آس پہ سچائی کے دن کاٹ رہے ہیں
آتی ہے شبِ وہم و گماں عیش کریں گے
عرفان صدیقی

سوچئے وہ شہر کیا ہو گا جہاں میں ہی نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 201
دیکھئے جو دشت زندہ ہے دم آہو سے ہے
سوچئے وہ شہر کیا ہو گا جہاں میں ہی نہیں
خار و خس بھی ہیں تری موج ہوا کے شکوہ سنج
باغ میں اے موسم نامہرباں میں ہی نہیں
اب ادھورا چھوڑنا ممکن نہیں اے قصہ گو
ساری دنیا سن رہی ہے داستاں میں ہی نہیں
سایۂ آسیب وحشت دوسرے گھر میں بھی ہے
تیرا قیدی اے شب وہم و گماں میں ہی نہیں
تیرے اک جانے سے یہ لشکر بھی پیاسا مر نہ جائے
تشنہ لب صحرا میں اے جوئے رواں میں ہی نہیں
MERGED آسماں کی زد میں زیر آسماں میں ہی نہیں
تو بھی ہے ظالم نشانے پر یہاں میں ہی نہیں
اختر الایمان کی اک نظم سے مجھ پر کھلا
اور بھی کم گو ہیں مجبور فغاں میں ہی نہیں
کوئی انشا کر رہا ہے مصحف آئندگاں
لکھ رہی ہیں لکھنے والی انگلیاں میں ہی نہیں
رنج اس کا ہے کہ کس کو رائیگاں کرتا ہے کون
ورنہ اس آشوب جاں میں رائیگاں میں ہی نہیں
خار و خس بھی ہیں تری زور ہوا سے پائمال
باغ میں اے موسم نامہرباں میں ہی نہیں
اب اسے انجام تک لانا تو ہو گا قصہ گو
ساری دنیا سن رہی ہے داستاں میں ہی نہیں
سایۂ آسیب کوئی دوسرے گھر میں بھی ہے
ہاں گرفتار شب وہم و گماں میں ہی نہیں
تیرے رک جانے سے یہ لشکر بھی پیاسا مر نہ جائے
تشنہ لب صحرا میں اے جوئے رواں میں ہی نہیں
عرفان صدیقی

بیعتِ دست ہاں ضرور، بیعتِ جاں نہیں نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 196
جسم کی رسمیات اور دل کے معاملات اور
بیعتِ دست ہاں ضرور، بیعتِ جاں نہیں نہیں
درد کی کیا بساط ہے جس پہ یہ پیچ و تاب ہو
دیکھ عزیز صبر صبر، دیکھ میاں نہیں نہیں
ہم فقراء کا نام کیا، پھر بھی اگر کہیں لکھو
لوحِ زمیں تلک تو خیر، لوحِ زماں نہیں نہیں
دونوں تباہ ہو گئے، ختم کرو یہ معرکے
اہلِ ستم نہیں نہیں، دل زدگاں نہیں نہیں
گرمئ شوق کا صلہ دشت کی سلطنت غلط
چشمۂ خوں کا خوں بہا جوئے رواں نہیں نہیں
عرفان صدیقی

جو دل میں ہے وہ دل آزردگاں علیؑ سے کہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 125
وہی ہیں مرجعِ لفظ و بیاں علیؑ سے کہو
جو دل میں ہے وہ دل آزردگاں علیؑ سے کہو
شکایتِ ہنر چارہ گر علیؑ سے کرو
حکایتِ جگر خونچکاں علیؑ سے کہو
بدل چکا ہے یہی آفتاب سمتِ سفر
سو حالِ گردش سیارگاں علیؑ سے کہو
تمہارے غم کا مداوا انہیں کے ہاتھ میں ہے
نہ جاؤ روبروئے خسرواں علیؑ سے کہو
اُنہیں کے سامنے اپنا مرافعہ لے جاؤ
اُنہیں کے پاس ہے اذنِ اماں علیؑ سے کہو
کرے کمند تعاقب تو ان کو دو آواز
بنے عذاب جو بندِ گراں علیؑ سے کہو
پہاڑ راستہ روکے تو اُن سے عرض کرو
رُکے اگر کوئی جوُئے رواں علیؑ سے کہو
پھر اب کے طائرِ وحشی نہ ہو سکا آزاد
یہ فصلِ گل بھی گئی رائیگاں علیؑ سے کہو
تمہیں مصاف میں نصرت عطا کریں مولاؑ
سبک ہو تم پہ شبِ درمیاں علیؑ سے کہو
پھرے تمہارے خرابے کی سمت بھی رہوار
اُٹھے تمہاری طرف بھی عناں علیؑ سے کہو
اُنہیں خبر ہے کہ کیا ہے ورائے صوت وصدا
لبِ سکوت کی یہ داستاں علیؑ سے کہو
عرفان صدیقی

کون ہے جس کے لیے نامۂ جاں لکھتے ہو

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 123
تم جو عرفانؔ یہ سب دردِ نہاں لکھتے ہو
کون ہے جس کے لیے نامۂ جاں لکھتے ہو
جانتے ہو کہ کوئی موج مٹا دے گی اسے
پھر بھی کیا کیا سرِ ریگِ گزراں لکھتے ہو
جس کے حلقے کا نشاں بھی نہیں باقی کوئی
اب تک اس رشتے کو زنجیرِ گراں لکھتے ہو
یہ بھی کہتے ہو کہ احوال لکھا ہے جی کا
اور یہ بھی کہ حدیثِ دگراں لکھتے ہو
یہ بھی لکھتے ہو کہ معلوم نہیں ان کا پتا
اور خط بھی طرفِ گمشدگاں لکھتے ہو
سایہ نکلے گا جو پیکر نظر آتا ہے تمہیں
وہم ٹھہرے گا جسے سروِ رواں لکھتے ہو
اتنی مدت تو سلگتا نہیں رہتا کچھ بھی
اور کچھ ہو گا جسے دل کا دھواں لکھتے ہو
کوئی دلدار نہیں تھا تو جتاتے کیا ہو
کیا چھپاتے ہو اگر اس کا نشاں لکھتے ہو
تم جو لکھتے ہو وہ دُنیا کہیں ملتی ہی نہیں
کون سے شہر میں رہتے ہو‘ کہاں لکھتے ہو
عرفان صدیقی

کارواں میں کچھ غبارِ کارواں میرا بھی تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 55
اے ہوا‘ کل تیری راہوں پر نشاں میرا بھی تھا
کارواں میں کچھ غبارِ کارواں میرا بھی تھا
اب خیال آتا ہے سب کچھ راکھ ہوجانے کے بعد
کچھ نہ کچھ تو سائباں در سائباں میرا بھی تھا
اس کی آنکھوں میں نہ جانے عکس تھا کس کا مگر
انگلیوں پر ایک لمس رائیگاں میرا بھی تھا
کیوں تعاقب کر رہی ہے تشنگی‘ اے تشنگی
کیا کوئی خیمہ سرِ آب رواں میرا بھی تھا
جان پر کب کھیلتا ہے کوئی اوروں کے لیے
ایک بچہ دشمنوں کے درمیاں میرا بھی تھا
شہر کے ایوان اپنی مٹھیاں کھولیں ذرا
اس زمیں پر ایک ٹکڑا آسماں میرا بھی تھا
میں نے جس کو اگلی نسلوں کے حوالے کر دیا
یار سچ پوچھو تو وہ بارِ گراں میرا بھی تھا
عرفان صدیقی

وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 46
مروّتوں پہ وفا کا گماں بھی رکھتا تھا
وہ آدمی تھا غلط فہمیاں بھی رکھتا تھا
بہت دِنوں میں یہ بادل اِدھر سے گزرا ہے
مرا مکان کبھی سائباں بھی رکھتا تھا
عجیب شخص تھا، بچتا بھی تھا حوادث سے
پھر اپنے جسم پہ الزامِ جاں بھی رکھتا تھا
ڈبو دیا ہے تو اَب اِس کا کیا گلہ کیجیے
یہی بہاؤ سفینے رواں بھی رکھتا تھا
توُ یہ نہ دیکھ کہ سب ٹہنیاں سلامت ہیں
کہ یہ درخت تھا اور پتّیاں بھی رکھتا تھا
ہر ایک ذرّہ تھا گردش میں آسماں کی طرح
میں اپنا پاؤں زمیں پر جہاں بھی رکھتا تھا
لپٹ بھی جاتا تھا اکثر وہ میرے سینے سے
اور ایک فاصلہ سا درمیاں بھی رکھتا تھا
عرفان صدیقی

اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 41
ہر طرف ڈوبتے سورج کا سماں دیکھئے گا
اک ذرا منظرِ غرقابی جاں دیکھئے گا
سیرِ غرناطہ و بغداد سے فرصت پاکر
اس خرابے میں بھی خوابوں کے نشاں دیکھئے گا
یہ در و بام یہ چہرے یہ قبائیں یہ چراغ
دیکھئے بارِ دگر ان کو کہاں دیکھئے گا
راہ میں اور بھی قاتل ہیں اجازت لیجے
جیتے رہیے گا تو پھر کوئے بتاں دیکھئے گا
شاخ پر جھومتے رہنے کا تماشا کیا ہے
کبھی صرصر میں ہمیں رقص کناں دیکھئے گا
یہی دُنیا ہے تو اس تیغِ مکافات کی دھار
ایک دن گردنِ خنجر پہ رواں دیکھئے گا
دل طرفدارِ حرم، جسم گرفتارِ فرنگ
ہم نے کیا وضع نکالی ہے میاں دیکھئے گا
عرفان صدیقی

یہ لگ رہا ہے مجھے ناگہاں تباہی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 637
تباہی ہے شبِ آئندگاں تباہی ہے
یہ لگ رہا ہے مجھے ناگہاں تباہی ہے
کوئی معاشرہ ممکن نہیں بجز انصاف
جہاں جہاں پہ ستم ہے وہاں تباہی ہے
میں ٹال سکتا نہیں آیتوں کی قرآت سے
لکھی ہوئی جو سرِ آسماں تباہی ہے
گزر گیا ہے جو طوفاں گزرنے والاتھا
یہ ملبہ زندگی ہے، اب کہاں تباہی ہے
بچھے ہوئے کئی بھونچال ہیں مکانوں میں
دیارِ دل میں مسلسل رواں تباہی ہے
دعا کرو کہ قیامت میں دیکھتا ہوں قریب
مرے قریب کوئی بے کراں تباہی ہے
فراز مند ہے ابلیس کا علم منصور
گلی گلی میں عجب بے نشاں تباہی ہے
منصور آفاق

دل مزاجاً میری جاں معشوق ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 617
عشق میں کوئی کہاں معشوق ہے
دل مزاجاً میری جاں معشوق ہے
جس سے گزرا ہی نہیں ہوں عمر بھر
وہ گلی وہ آستاں معشوق ہے
رفتہ رفتہ کیسی تبدیلی ہوئی
میں جہاں تھا اب وہاں معشوق ہے
ہے رقیبِ دلربا اک ایک آنکھ
کہ مرا یہ آسماں معشوق ہے
مشورہ جا کے زلیخا سے کروں
کیا کروں نامہرباں معشوق ہے
صبحِ ہجراں سے نشیبِ خاک کا
جلوۂ آب رواں معشوق ہے
ہیں مقابل ہر جگہ دو طاقتیں
اور ان کے درمیاں معشوق ہے
گھنٹیاں کہتی ہیں دشتِ یاد کی
اونٹنی کا سارباں معشوق ہے
وہ علاقہ کیا زمیں پر ہے کہیں
ان دنوں میرا جہاں معشوق ہے
میں جہاں دیدہ سمندر کی طرح
اور ندی سی نوجواں معشوق ہے
ہر طرف موجودگی منصور کی
کس قدر یہ بے کراں معشوق ہے
منصور آفاق

نور کے گیت کہاں تیرہ شباں سنتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 387
رات کا شور، اندھیروں کی زباں سنتے ہیں
نور کے گیت کہاں تیرہ شباں سنتے ہیں
ایک سقراط نے زنجیر بپا آنا ہے
دوستو آؤ عدالت میں بیاں سنتے ہیں
کیوں پلٹتی ہی نہیں کوئی صدا کوئی پکار
یہ تو طے تھا کہ مرے چارہ گراں سنتے ہیں
اب بدلنی ہے شب و روز کی تقویم کہ لوگ
شام کے وقت سویرے کی اذاں سنتے ہیں
ایسے منفی تو لب و دیدہ نہیں ہیں اس کے
کچھ زیادہ ہی مرے وہم و گماں سنتے ہیں
بات کرتی ہے ہوا میری نگہ سے منصور
اور رک رک کے مجھے آبِ رواں سنتے ہیں
منصور آفاق

اسمِ جاں اللہ ہو جانِ جہاں اللہ ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 235
وردِ دل اللہ ہو ، وردِ زباں اللہ ہو
اسمِ جاں اللہ ہو جانِ جہاں اللہ ہو
ایک ہی آہنگ میں موجِ صبا کے ساتھ ساتھ
کہہ رہا ہے صبح دم آبِ رواں اللہ ہو
گونجتا ہے اس لئے داؤد سے باہو تلک
نغمۂ ہو کے تکلم میں نہاں اللہ ہو
عابدوں کا اپنا تقوی ، زاہدوں کا اپنا زہد
رندِ درد آمیز کی آہ و فغاں اللہ ہو
لفظِ ہو میں گم ہواہے ہست کا سارا وجود
یہ زمیں اللہ ہو یہ آسماں اللہ ہو
خاک اور افلاک کو واپس بھی لے سکتا ہے وہ
ہیں جہاں دونوں فنا اک جاوداں اللہ ہو
قبر کی دعوت میں باہو کہہ گیا منصور سے
جس کا میں شہباز ہوں وہ لامکاں اللہ ہو
منصور آفاق

دیکھتا ہوں ویسی ہی آبِ رواں میں کوئی چیز

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 183
جگمگاتی تھی جو طاقِ آسماں میں کوئی چیز
دیکھتا ہوں ویسی ہی آبِ رواں میں کوئی چیز
رات جیسا ساری دنیا میں نہیں ہے کوئی ظلم
اور دئیے جیسی نہیں سارے جہاں میں کوئی چیز
یہ بھی ہو سکتا ہے ممکن میں کوئی کردار ہوں
یا مرے جیسی کسی ہے داستاں میں کوئی چیز
دیکھنا میری طرف کچھ دن نہیں آنا تجھے
ایسا لگتا ہے کہ ہے میرے مکاں میں کوئی چیز
کوئی بے مفہوم نقطہ، کوئی مصرع کا فریب
ڈھونڈتی ہے رات پھر صبحِ بیاں میں کوئی چیز
لگتا ہے دشتِ جنوں کی آندھیوں کو دیکھ کر
اہل غم نے سونپ دی میری کماں میں کوئی چیز
واہمہ ہے سانحہ کا،خدشہ اِن ہونی کاہے
خوف جیسی ہے مرے وہم وگماں میں کوئی چیز
آیت الکرسی کا کب تک کھینچ رکھوں گا حصار
جانے والا دے گیا میری اماں میں کوئی چیز
نام ہے دیوانِ منصور اس کا، کل کی ڈاک میں
بھیج دی ہے صحبتِ آئندگاں میں کوئی چیز
منصور آفاق

پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 155
وہ خواب گاہِ عرش وہ باغِ جناں کی یاد
پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد
آنکھوں میں کس کے عارض و لب کے چراغ ہیں
پھرتی ہے یہ خیال میں آخر کہاں کی یاد
پھر گونجنے لگی ہے مرے لاشعور میں
روزِ ازل سے پہلے کے کچھ رفتگاں کی یاد
میں آسماں نژاد زمیں پر مقیم ہوں
کچھ ہے یہاں کا درد تو کچھ ہے وہاں کی یاد
کوئی نہ تھا جہاں پہ مری ذات کے سوا
آئی سکوتِ شام سے اُس لا مکاں کی یاد
دیکھوں کہیں خلوص تو آتی ہے ذہن میں
پیچھے سے وار کرتے ہوئے دوستاں کی یاد
دریائے ٹیمز! اپنے کنارے سمیٹ لے
آئی ہے مجھ کو سندھ کے آبِ رواں کی یاد
منصور آ رہی ہے سرِ آئینہ مجھے
اِس شہرِ پُر فریب میں سادہ دلاں کی یاد
منصور آفاق

بہتے پانی کی قسم، گریۂ جاں کارِ عبث

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 143
ساحلِ یاد پہ آہوں کا دھواں کارِ عبث
بہتے پانی کی قسم، گریۂ جاں کارِ عبث
دھوپ میں ساتھ بھلا کیسے وہ دے سکتا تھا
ایک سائے کے لیے آہ و فغاں کارِ عبث
میں تماشا ہوں تماشائی نہیں ہو سکتا
یہ فلک فہمی یہ تسخیرِ جہاں کارِ عبث
تیرے ہونے سے مہ و مہر مرے ہوتے تھے
اب تو ہے سلسلہء کون و مکاں کارِ عبث
یہ الگ چیختے رنگوں کا ہوں شاعر میں بھی
ہے مگر غلغلہء نام و نشاں کارِ عبث
ایک جھونکے کے تصرف پہ ہے قصہ موقوف
بلبلے اور سرِ آب رواں کار عبث
خیر باقی رہے یا شر کی عمل داری ہو
دونوں موجود ہوں تو امن و اماں کارِ عبث
کوئی انگلی، کوئی مضراب نہیں کچھ بھی نہیں
کھینچ رکھی گئی تارِ رگِ جاں کارِ عبث
رہ گئے جنت و دوزخ کہیں پیچھے منصور
اب جہاں میں ہوں وہاں سود و زیاں کارِ عبث
منصور آفاق

یقیں کتنا ہی پختہ ہو گماں تک ساتھ دیتا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 246
خیال سود احساس زیاں تک ساتھ دیتا ہے
یقیں کتنا ہی پختہ ہو گماں تک ساتھ دیتا ہے
بدلتے جا رہے ہیں دمبدم حالات دنیا کے
تمہارا غم بھی اب دیکھیں کہاں تک ساتھ دیتا ہے
خیال ناخدا پھر بھی مسلط ہے زمانے پر
کہاں کوئی بھلا سیل رواں تک ساتھ دیتا ہے
زمانے کی حقیقت خود بخود کھُل جائے گی باقیؔ
چلا چل تو بھی وہ تیرا جہاں تک ساتھ دیتا ہے
باقی صدیقی

کس حال میں قافلہ رواں ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 236
آواز جرس ہے یا فغان ہے
کس حال میں قافلہ رواں ہے
اٹھتے اٹھتے اٹھیں گے پردے
صدیوں کا غبار درمیاں ہے
کس کس سے بچائے کوئی دل کو
ہر گام پہ ایک مہرباں ہے
ہر چند زمیں زمیں ہے لیکن
تم ساتھ چلو تو آسماں ہے
ضو صبح کی چھو رہی ہے دل کو
ہر چند کہ رات درمیاں ہے
ہم ہوں کہ ہو گرد راہ باقیؔ
منزل ہے اسی کی جو رواں ہے
باقی صدیقی

تیرے جلوے یہاں وہاں دیکھے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 234
دشت دیکھے ہیں گلستاں دیکھے
تیرے جلوے یہاں وہاں دیکھے
اس کو کہتے ہیں تیرا لطف و کرم
خشک شاخوں پہ آشیاں دیکھے
جو جہاں کی نظر میں کانٹا تھے
ہم نے آباد وہ مکاں دیکھے
دوستوں میں ہے تیرے لطف کا رنگ
کوئی کیوں بغض دشمنان دیکھے
جو نہیں چاہتا اماں تیری
مانگ کر غیر سے اماں دیکھے
تیری قدرت سے ہے جسے انکار
اٹھکے وہ صبح کا سماں دیکھے
یہ حسیں سلسلہ ستاروں کا
کوئی تا حد آسماں دیکھے
ایک قطرہ جہاں نہ ملتا تھا
ہم نے چشمے وہاں رواں دیکھے
کس نے مٹی میں روح پھونکی ہے
کوئی یہ ربط جسم و جاں دیکھے
دیکھ کر بیچ و تاب دریا کا
یہ سفینے پہ بادباں دیکھے
جس کو تیری رضا سے مطلب ہے
سود دیکھے نہ وہ زیاں دیکھے
باقی صدیقی

تم نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 198
بے نشاں رہتے بے نشاں ہوتے
تم نہ ہوتے تو ہم کہاں ہوتے
مہر و مہ کو نہ یہ ضیا ملتی
آسماں بھی نہ آسماں ہوتے
تم نے تفسیر دو جہاں کی ہے
ورنہ یہ راز کب عیاں ہوتے
تم دکھاتے اگر نہ راہ حیات
جانے کس سمت ہم رواں ہوتے
ہمیں اپنی جبیں نہ مل سکتی
اتنے غیروں کے آستاں ہوتے
ایک انسان بھی نہ مل سکتا
گرچہ آباد سب مکاں ہوتے
کھل نہ سکتی کلی مسرت کی
غم ہی غم زیب داستاں ہوتے
مقصد زندگی نہ پا سکتے
اپنی ہستی سے بدگماں ہوتے
ہمیں کوئی نہ آسرا ملتا
بے اماں ہوتے ہم جہاں ہوتے
تو نے بخشی ہے روشنی ورنہ
دیدہ و دل دھواں دھواں ہوتے
باقی صدیقی

کون سے مہرباں کی بات کریں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 111
آپ کی یا جہاں کی بات کریں
کون سے مہرباں کی بات کریں
حسن خوش ہے نہ عشق آسودہ
کیا ترے آستاں کی بات کریں
ہو چکیں اس جہان کی باتیں
اب کوئی اس جہاں کی بات کریں
زندگی نام ہے بہاروں کا
گل نہیں گلستاں کی بات کریں
سب کو ساحل کا پاس ہے باقیؔ
کس سے موج رواں کی بات کریں
باقی صدیقی

دل بھی اب چپ ہے زباں کی صورت

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 74
ہے یہ کیسی غم جاں کی صورت
دل بھی اب چپ ہے زباں کی صورت
خود پہ ہوتا ہے کسی کا دھوکا
کون سی ہے یہ گماں کی صورت
کس کی آمد ہے کہ لو دیتے ہیں
راستے کاہکشاں کی صورت
زیست کی راہ میں اکثر آیا
دل بھی اک سنگ گراں کی صورت
غم کے ہر موڑ پہ تیری باتیں
یاد آتی ہیں زیاں کی صورت
دیکھ کر صورت ساحل باقیؔ
چل دئیے موج رواں کی صورت
باقی صدیقی