ٹیگ کے محفوظات: روانہ

وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے

طَور جب عاشقانہ ہوتا ہے
وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے
کچھ نہیں جن کے پاس اُن کے پاس
خواہشوں کا خزانہ ہوتا ہے
دل کسی کا کسی کے کہنے سے
کبھی پہلے ہوا نہ ہوتا ہے
بجلیوں کا ہدف نجانے کیوں
ایک ہی آشیانہ ہوتا ہے
غم نہیں اب جو ہم ہیں غیر فعال
اپنا اپنا زمانہ ہوتا ہے
دیکھتے ہیں تمہاری بستی میں
کب تلک آب و دانہ ہوتا ہے
دوستو کر لیا بہت آرام
کارواں اب روانہ ہوتا ہے
ڈھونڈتے ہیں جو آپ باصرِؔ کو
اُس کا کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے
باصر کاظمی

طپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا

دیوان اول غزل 114
جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہوا
طپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا
جہاں کو فتنے سے خالی کبھو نہیں پایا
ہمارے وقت میں تو آفت زمانہ ہوا
خلش نہیں کسو خواہش کی رات سے شاید
سرشک یاس کے پردے میں دل روانہ ہوا
ہم اپنے دل کی چلے دل ہی میں لیے یاں سے
ہزار حیف سر حرف اس سے وا نہ ہوا
کھلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اس کی میر
سمند ناز پہ ایک اور تازیانہ ہوا
میر تقی میر

تو اُس کے نام نقدِ جاں روانہ کیوں نہیں کرتا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 3
تہی اپنا یہ بے بخشش خزانہ کیوں نہیں کرتا
تو اُس کے نام نقدِ جاں روانہ کیوں نہیں کرتا
تجھے اے گوشہ گیرِ ذات! جو تجھ سے رہائی دے
کوئی اقدام ایسا باغیانہ کیوں نہیں کرتا
ہمیں کیا ہوتا، ہم آئے یہاں تیرے بُلانے پر
تو پھر ہم سے سلوکِ دوستانہ کیوں نہیں کرتا
سلگتے جسم سے شاید پرِ شعلہ نکل آئے
ہوا کے راستے میں تو ٹھکانہ کیوں نہیں کرتا
رہیں گے کب تلک ہونے نہ ہونے کے تذبذب میں
ہمارا فیصلہ وُہ منصفانہ کیوں نہیں کرتا
نظر آتا ہے لیکن دیکھنے میں ہے زیاں اپنا
تو ایسے میں تغافل کا بہانہ کیوں نہیں کرتا
آفتاب اقبال شمیم

سب کچھ بس اک نگاہِ کرم کا بہانہ تھا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 7
کیا کہیے کیا حجابِ حیا کا فسانہ تھا!
سب کچھ بس اک نگاہِ کرم کا بہانہ تھا
دیکھا تو ہرتبسمِ لب والہانہ تھا
پرکھا تو ایک حیلۂ صنعت گرانہ تھا
دنیا، امیدِ دید کی دنیا تھی دیدنی
دیوار و در اداس تھے، موسم سہانا تھا
ہائے وہ ایک شام کہ جب مست، نَے بلب
میں جگنوؤں کے دیس میں تنہا روانہ تھا
یہ کون ادھر سے گزرا، میں سمجھا حضور تھے
اِک موڑ اور مڑ کے جو دیکھا، زمانہ تھا
اک چہرہ، اس پہ لاکھ سخن تاب رنگتیں
اے جرأتِ نگہ، تری قسمت میں کیا نہ تھا
ان آنسوؤں کی رو میں نہ تھی موتیوں کی کھیپ
ناداں سمندروں کی تہوں میں خزانہ تھا
اےغم، انیسِ دل، یہ تری دلنوازیاں
ہم کو تری خوشی کے لیے مسکرانا تھا
اک طرفہ کیفیت، نہ توجہ نہ بےرخی
میرے جنونِ دید کو یوں آزمانا تھا
ہائے وہ دھڑکنوں سے بھری ساعتیں مجید
میں ان کو دیکھتا تھا، کوئی دیکھتا نہ تھا
مجید امجد

تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 60
کوئی بھی دَور سرِ محفلِ زمانہ رہا
تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا
مرے نشانِ قدم دشتِ غم پہ ثبت رہے
اَبد کی لوح پہ تقدیر کا لکھا نہ رہا
وہ کوئی کنجِ سمن پوش تھا کہ تودۂ خس
اک آشیانہ بہرحال آشیانہ رہا
تم اک جزیرۂ دل میں سمٹ کے بیٹھ رہے
مری نگاہ میں طوفانِ صد زمانہ رہا
طلوعِ صبح کہاں، ہم طلوع ہوتے گئے
ہمارا قافلۂ بے درا روانہ رہا
یہ پیچ پیچ بھنور، اس کی اک گرہ تو کھلی
کوئی تڑپتا سفینہ رہا رہا نہ رہا
نہ شاخ گل پہ نشیمن نہ رازِ گل کی خبر
وہ کیا رہا جو جہاں میں قلندرانہ رہا
?1952
مجید امجد

اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 325
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے
چمک رہا ہے افق تک غبارِ تیرہ شبی
کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے
ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی
ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے
غرض کہ پوچھتے کیا ہو مآلِ سوختگاں
تمام جلنا جلانا فسانہ ہو گیا ہے
فضائے شوق میں اس کی بساط ہی کیا تھی
پرند اپنے پروں کا نشانہ ہو گیا ہے
کسی نے دیکھے ہیں پت جھڑ میں پھول کھلتے ہوئے
دل اپنی خوش نظری میں دوانہ ہو گیا ہے
عرفان صدیقی

کچھ کم سماعتوں کو سنانا بھی ہوتا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 312
کچھ تو فغاں کا خیر بہانا بھی ہوتا ہے
کچھ کم سماعتوں کو سنانا بھی ہوتا ہے
دیکھو ہمارے چاک گریباں پہ خوش نہ ہو
یہ ہے جنوں اور اس کا نشانا بھی ہوتا ہے
آزادگاں کو خانہ خرابی کا کیا ملال
کیا موج گل کا کوئی ٹھکانا بھی ہوتا ہے
ہم اس جگہ میں خوش ہیں کہ ایسے خرابوں میں
سانپوں کے ساتھ ساتھ خزانا بھی ہوتا ہے
میں کیوں ڈروں کہ جان سے جاتا ہوں ایک بار
دشمن کو میرے لوٹ کے آنا بھی ہوتا ہے
اب آپ لوگ سود و زیاں سوچتے رہیں
بندہ تو چوتھی سمت روانہ بھی ہوتا ہے
عرفان صدیقی

چراغ لمبے سفر پر روانہ ہوتا ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 27
تمام جلنا جلانا فسانہ ہوتا ہوا
چراغ لمبے سفر پر روانہ ہوتا ہوا
عجب گداز پرندے بدن میں اڑتے ہوئے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہوتا ہوا
ہری زمین سلگنے لگی تو راز کھلا
کہ جل گیا وہ شجر شامیانہ ہوتا ہوا
نظر میں ٹھہری ہوئی ایک روشنی کی لکیر
افق پہ سایۂ شب بیکرانہ ہوتا ہوا
رقابتیں مرا عہدہ بحال کرتی ہوئی
میں جان دینے کے فن میں یگانہ ہوتا ہوا
عرفان صدیقی

میں موت کی طرف ہوں روانہ بھی اپنے آپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 248
گزرا ہے مجھ میں ایک زمانہ بھی اپنے آپ
میں موت کی طرف ہوں روانہ بھی اپنے آپ
بے شکل صورتوں کا ٹھکانا بھی اپنے آپ
بننے لگا ہے آئینہ خانہ بھی اپنے آپ
جب دھوپ سے ہنسی ترے آنچل کی شوخ تار
روٹھا بھی اپنے آپ میں ، مانا بھی اپنے آپ
جاری ہے جس کے مرکزی کردار کی تلاش
لوگوں نے لکھ دیا وہ فسانہ بھی اپنے آپ
صرفِ نظر بھی آپ کیا بزم میں مگر
اس دلنواز شخص نے جانا بھی اپنے آپ
کتنا ابھی ابھی تر و تازہ تھا شاخ پر
یہ کیا کہ ہو گیا ہے پرانا بھی اپنے آپ
منصور کائنات کا ہم رقص کون ہے
یہ گھومنا بھی اور گھمانا بھی اپنے آپ
منصور آفاق