ٹیگ کے محفوظات: رن

وقت ہی سب کا محرم وقت ہی دشمن بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
جس سے بن بھی آئے، رہے ہے ان بن بھی
وقت ہی سب کا محرم وقت ہی دشمن بھی
ناداری دکھلائے سگی ماؤں میں بھی
اپنائیت بھی اور سوتیلا پن بھی
اپنے عزیز و اقارب راضی رکھنے کو
تن من بھی لگتا ہے، لگتا ہے دھن بھی
جیسے ہو بھونچال کا شور فضاؤں میں
گُونجے ہے یوں گاہے دل کی دھڑکن بھی
سب سے بڑا ہے داعیٔ امن بھی انساں ہی
اور انسانوں میں پڑتے ہیں رَن بھی
ناآگاہ ترے اخلاص سے اہلِ جہاں
کُھلا نہیں ماجِد اِن سب پہ ترا فن بھی
ماجد صدیقی

وہ شوخ میری تمّنا کا پیرہن نہ ہوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
خیال ہی میں رہا، زینتِ بدن نہ ہوا
وہ شوخ میری تمّنا کا پیرہن نہ ہوا
میانِ معرکہ نکلے ہیں مستِ ساز جو ہم
طوائفوں کا ہُوا مشغلہ، یہ رَن نہ ہُوا
نہ تھا قبول جو اُس کی نگاہ سے گرنا
بہم ہمیں کوئی پیرایۂ سخن نہ ہُوا
لُٹے شجر تو دِفینوں پہ کی گزر اِس نے
یہ دل زمینِ چمن تھا اجاڑ بن نہ ہُوا
تھا جیسی شاخ پہ اصرار بیٹھنے کو اُسے
نظر میں اپنی ہی پیدا وہ بانکپن نہ ہُوا
ہمیں وُہ لفظ ہے ماجدؔ مثالِ برگِ علیل
لبوں سے پھُوٹ کے جو زیبِ انجمن نہ ہوا
ماجد صدیقی

بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 107
من تھکنے لگا ہے تن سمیٹے
بارش کی ہَوا میں بن سمیٹے
ایسا نہ ہو ، چاند بھید پا لے
پیراہنِ گُل شِکن سمیٹے
سوتی رہی آنکھ دن چڑھے تک
دُلہن کی طرح تھکن سمیٹے
گُزرا ہے چمن سے کون ایسا
بیٹھی ہے ہوا بدن سمیٹے
شاخوں نے کلی کو بد دُعا دی
بارش ترا بھولپن سمیٹے
آنکھوں کے طویل رتجگوں پر
چاند آیا بھی تو گہن سمیٹے
احوال مرا وہ پوچھتا تھا
لہجے میں بڑی چبھن سمیٹے
اندر سے شکست وہ بھی نکلا
لیکن وہی بانکپن سمیٹے
شام آئے تو ہم بھی گھر کو لوٹیں
چڑیوں کی طرح تھکن سمیٹے
خود جنگ سے دست کش تھے ہم لوگ
جذبات میں ایک رن سمیٹے
آنکھوں کے چراغ ہم بجھا دیں
سُورج بھی مگر کرن سمیٹے
بس پیار سے مِل رہے ہیں کچھ لوگ
چمکیلے بدن میں پھن سمیٹے
پھر ہونے لگی ہوں ریزہ ریزہ
آئے…۔۔مجھے میرا فن سمیٹے
غیروں کے لیے بکھر گئی ہوں
اب مجھ کو مِرا وطن سمیٹے
پروین شاکر