ٹیگ کے محفوظات: رلایا

اب تو اپنے در و بام بھی جانتے ہیں پرایا مجھے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 69
تو نے کیا کیا نہ اے زندگی، دشت و در میں پھِرایا مجھے
اب تو اپنے در و بام بھی جانتے ہیں پرایا مجھے
اور بھی کچھ بھڑکنے لگا میرے سینے کا آتش کدہ
راس تجھ بن نہ آیا کبھی سبز پیڑوں کا سایا مجھے
ان نئی کونپلوں سے مرا کیا کوئی بھی تعلّق نہ تھا؟
شاخ سے توڑ کر، اے صبا!، خاک میں کیوں ملایا مجھے
درد کا دیپ جلتا رہا، دل کا سونا پگھلتا رہا
ایک ڈوبے ہوئے چاند نے رات بھر خوں رلایا مجھے
اب مرے راستے میں کہیں خوفِ صحرا بھی حائل نہیں
خشک پتّے نے آوارگی کا سلیقہ سکھایا مجھے
مدّتوں روئے گل کی جھلک کو ترستا رہا میں شکیبؔ
ان جو آئی بہار اس نے صحنِ چمن میں نہ پایا مجھے
شکیب جلالی

مرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت

دیوان سوم غزل 1111
شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت
مرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت
بے سبب آتا نہیں اب دم بہ دم عاشق کو غش
درد کھینچا ہے نہایت رنج اٹھایا ہے بہت
وادی و کہسار میں روتا ہوں ڈاڑھیں مار مار
دلبران شہر نے مجھ کو ستایا ہے بہت
وا نہیں ہوتا کسو سے دل گرفتہ عشق کا
ظاہراً غمگیں اسے رہنا خوش آیا ہے بہت
میر گم گشتہ کا ملنا اتفاقی امر ہے
جب کبھو پایا ہے خواہش مند پایا ہے بہت
میر تقی میر

بہت ان نے ڈھونڈا نہ پایا ہمیں

دیوان دوم غزل 902
محبت نے کھویا کھپایا ہمیں
بہت ان نے ڈھونڈا نہ پایا ہمیں
پھرا کرتے ہیں دھوپ میں جلتے ہم
ہوا ہے کہے تو کہ سایہ ہمیں
گہے تر رہیں گاہ خوں بستہ تھیں
ان آنکھوں نے کیا کیا دکھایا ہمیں
بٹھا اس کی خاطر میں نقش وفا
نہیں تو اٹھالے خدایا ہمیں
ملے ڈالے ہے دل کوئی عشق میں
یہ کیا روگ یارب لگایا ہمیں
ہوئی اس گلی میں تو مٹی عزیز
ولے خواریوں سے اٹھایا ہمیں
جوانی دوانی سنا کیا نہیں
حسینوں کا ملنا ہی بھایا ہمیں
نہ سمجھی گئی دشمنی عشق کی
بہت دوستوں نے جتایا ہمیں
کوئی دم کل آئے تھے مجلس میں میر
بہت اس غزل پر رلایا ہمیں
میر تقی میر