ٹیگ کے محفوظات: رلانے

ہوا، آنکھیں دِکھانے آ گئی ہے

ہرے پیڑوں کو ڈھانے آ گئی ہے
ہوا، آنکھیں دِکھانے آ گئی ہے
یہ کیسی عارفانہ موت آئی
زمیں چادر چڑھانے آ گئی ہے
پرندے، بن سنور کر جا رہے ہیں
یہ دنیا کس دہانے آ گئی ہے
نمازِ حق ادا کرتے ہیں ، آؤ!
اذاں ہم کو بُلانے آ گئی ہے
محبت اِستخارہ کر چُکی جب
ہمیں کیوں آزمانے آ گئی ہے؟
جنابِ من! اُٹھیں اور اُٹھ کے دیکھیں
شبِ ہجراں رُلانے آ گئی ہے
رِدائے میرؔ اُوڑھے سو گئے کیا؟
غزل تم کو جگانے آ گئی ہے
افتخار فلک

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ

احمد فراز ۔ غزل نمبر 2
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ
کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ
تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
رسم و رہِ دنیا ہی نبھانے کے لئے آ
کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لئے آ
اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم
اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لئے آ
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ
احمد فراز

ہم تو سیدھے لوگ ہیں یارو، وہی پرانے والے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 69
ہمیں نہیں آتے یہ کرتب نئے زمانے والے
ہم تو سیدھے لوگ ہیں یارو، وہی پرانے والے
ان کے ہوتے کوئی کمی ہے راتوں کی رونق میں؟
یادیں خواب دکھانے والی، خواب سہانے والے
کہاں گئیں رنگین پتنگیں، لٹو، کانچ کے بنٹے؟
اب تو کھیل بھی بچوں کے ہیں دل دہلانے والے
وہ آنچل سے خوشبو کی لپٹیں بکھراتے پیکر
وہ چلمن کی اوٹ سے چہرے چھب دکھلانے والے
بام پہ جانے والے جانیں اس محفل کی باتیں
ہم تو ٹھہرے اس کوچے میں خاک اڑانے والے
جب گزرو گے ان رستوں سے تپنی دھوپ میں تنہا
تمہیں بہت یاد آئیں گے ہم سائے بنانے والے
تم تک شاید دیر سے پہنچےمرا مہذب لہجہ
پہلے ذرا خاموش تو ہوں یہ شور مچانے والے
ہم جو کہیں سو کہنے دنیا، سنجیدہ مت ہونا
ہم تو ہیں ہی شاعر بات سے بات بنانے والے
اچھا؟ پہلی بار کسی کو میری فکر ہوئی ہے؟
میں نے بہت دیکھے ہیں تم جیسے سمجھانے والے
ایسے لبالب کب بھرتا ہے ہر امید کا کاسہ؟
مجھ کو حسرت سے تکتے ہیں آنے جانے والے
سفاکی میں ایک سے ہیں سب، جن کے ساتھ بھی جاؤ
کعبے والے اِس جانب ہیں، وہ بت خانے والے
میرے شہر میں مانگ ہے اب تو بس ان لوگوں کی ہے
کفن بنانے والے یا مردے نہلانے والے
گیت سجیلے بول رسیلے کہاں سنو گے اب تم
اب تو کہتا ہے عرفان بھی شعر رلانے والے
عرفان ستار

میں خود ہی فلک کا ستایا ہوا ہوں مجھے تم ستانے کی کوشش نہ کرنا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 11
خدا تم کو توفیقِ رحم و کرم دے، مرا دل دکھانے کی کوشش نہ کرنا
میں خود ہی فلک کا ستایا ہوا ہوں مجھے تم ستانے کی کوشش نہ کرنا
بہاروں کی آخر کوئی انتہا ہے کہ پھولوں سے شاخیں جھکی جا رہی ہیں
یہی وقت ہے بجلیاں ٹوٹنے کا، نشیمن بنانے کی کوشش نہ کرنا
میں حالاتِ شامِ الم کہہ رہا ہوں ذرا غیرتِ عشق ملحوظِ خاطر
تمھیں عمر بھر مجھ کو رونا پڑے گا کہیں مسکرانے کی کوشش نہ کرنا
تجھے باغباں پھر میں سمجھا رہا ہوں ہواؤں کے اور کچھ کہہ رہے ہیں
کہیں آگ پھیلے نہ سارے چمن میں مرا گھر جلانے کی کوشش نہ کرنا
دلِ مضطرب سن کہ افسانۂ غم وہ ناراض ہو کر ابھی سو گئے ہیں
جو چونکے تو اک حشر کر دیں گے برپا انھیں تو جگانے کی کوشش نہ کرنا
یہ محفل ہے بیٹھے ہیں اپنے پرائے بھلے کے لئے دیکھو سمجھا رہا ہوں
کہ حرف آئے گا آپ کی آبرو پر یہاں پر رلانے کی کوشش نہ کرنا
تمنائے دیدار رہنے دو سب کی نہیں ہے کسی میں بھی تابِ نظارہ
ابھی طور کا حادثہ ہو چکا ہے تجلی دکھانے کی کوشش نہ کرنا
عدو شب کو ملتے ہیں ہر راستے میں نتیجہ ہی کیا ان کی رسوائیاں ہوں
قمر چاندنی آج پھیلی ہوئی ہے انھیں تم بلانے کی کوشش نہ کرنا
قمر جلالوی