ٹیگ کے محفوظات: رقم

کروں گا داستاں کوئی نئی رقم، برادرم

روا روی میں اٹھ گیا مرا قلم، برادرم
کروں گا داستاں کوئی نئی رقم، برادرم
جلوسِ دلبراں چلا، زمین کانپنے لگی
شعورِ عشق نے کہا، اٹھا علم، برادرم
خدا کرے زمین پر زمین زاد خوش رہیں
خدا کرے خدا کا ہو نیا جنم، برادرم
بے ہیں بےضمیر ہیں۔۔ یہی کہا ناں! آپ نے؟
تو پھر اٹھیں کریں ہمارا سر قلم، برادرم
گلہ ضرور کیجیے، مگر خفا نہ جایئے
ہماری بات تو سنیں، برادرم، برادرم!
افتخار فلک

وُہ ماجرا سرِ دیوار ہے رقم دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
لب و زباں پہ اُترتے جسے ہے کم دیکھا
وُہ ماجرا سرِ دیوار ہے رقم دیکھا
وُہ دل بھی سنگ سے کمتر ہے کب کہ جس نے کبھی
کوئی خُدا، نہ پسِ آرزو، صنم دیکھا
شبِ الم کے تصّور سے یوں لگے جیسے
اِسی حیات میں اِک اور ہو جنم دیکھا
ستم کو نام دیا اَب کے جو ستمگر نے
کسی بھی جھُوٹ کا کھُلتے نہ یوں بھرم دیکھا
ملا فروغ جہاں بھی سکوں کے نغموں کو
وُہ شاخ راکھ ہوئی، آشیاں بھسم دیکھا
کبھی بہ حسنِ سلامت ہمیں نہ یاد آیا
وُہ شخص جس کو بچھڑتے بہ چشمِ نم دیکھا
ہوا کی چھیڑ بھی ماجدؔ تھی شاخِ بالا سے
نہ جھُک سکا جو کہیں سر وُہی قلم دیکھا
ماجد صدیقی

اک تازہ زخم کی خواہش ہے اک صدمہ کم کرنے کے لیے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 101
پھر خون میں وحشت رقصاں ہے تجدیدِ ستم کرنے کے لیے
اک تازہ زخم کی خواہش ہے اک صدمہ کم کرنے کے لیے
ہم دن بھر دنیا داری میں ہنس ہنس کے باتیں کرتے ہیں
پھر ساری رات پگھلتے ہیں اک اشک رقم کرنے کے لیے
وہ وصل کے جس نے ہم دونوں کو ایسے بے بنیاد کیا
اب فرصت ہے آ مل بیٹھیں اُس وصل کا غم کرنے کے لیے
اک کاری زخم کی چاہت نے کیا کیا نہ ہمیں گلزار کیا
ہم کس کس سے منسوب ہوئے اک ہجر بہم کرنے کے لیے
انسان کے جینے مرنے کے مجبوری کے مختاری کے
یہ سارے کھیل ضروری ہیں تعمیرِ عدم کرنے کے لیے
عرفان ستار

پھر سوچ لو باقی تو نہیں کوئی ستم اور

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 42
مجھ پر ہے یہ نزع کا عالم اور
پھر سوچ لو باقی تو نہیں کوئی ستم اور
ہے وعدہ خلافی کے علاوہ بھی ستم اور
گر تم نہ خفا ہو تو بتا دیں تمھیں ہم اور
یہ مئے ہے ذرا سوچ لے اے شیخِ حرم اور
تو پہلے پہل پیتا ہے کم اور ارے کم اور
وہ پوچھتے ہیں دیکھئے یہ طرفہ ستم اور
کس کس نے ستایا ہے تجھے ایک تو ہم اور
وہ دیکھ لو احباب لیے جاتے ہیں میت
لو کھاؤ مریضِ غم فرقت کی قسم اور
اب قبر بھی کیا دور ہے جاتے ہو جو واپس
جب اتنے چلے آئے ہو دو چار قدم اور
قاصد یہ جواب ان کا ہے کس طرح یقین ہو
تو اور بیاں کرتا ہے خط میں ہے رقم اور
موسیٰؑ سے ضرور آج کوئی بات ہوئی ہے
جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اور
تربت میں رکے ہیں کہ کمر سیدھی تو کر لیں
منزل ہے بہت دور کی لے لیں ذرا دم اور
یہ بات ابھی کل کی ہے جو کچھ تھے ہمیں تھے
اللہ تری شان کہ اب ہو گئے ہم اور
بے وقت عیادت کا نتیجہ یہی ہو گا
دوچار گھڑی کے لیے رک جائے گا دم اور
اچھا ہوا میں رک گیا آ کر تہِ تربت
پھر آگے قیامت تھی جو بڑھ جاتے قدم اور
ہوتا قمر کثرت و وحدت میں بڑا فرق
بت خانے بہت سے ہیں نہیں ہے تو حرم اور
قمر جلالوی

کچھ تمہارا بھی کرم یاد آیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 30
جب رقیبوں کا ستم یاد آیا
کچھ تمہارا بھی کرم یاد آیا
کب ہمیں حاجتِ پرہیز پڑی
غم نہ کھایا تھا کہ سم یاد آیا
نہ لکھا خط کہ خطِ پیشانی
مجھ کو ہنگامِ رقم یاد آیا
شعلۂ زخم سے اے صید فگن
داغِ آہوئے حرم یاد آیا
ٹھیرے کیا دل کہ تری شوخی سے
اضطرابِ پئے ہم یاد آیا
خوبیِ بخت کہ پیمانِ عدو
اس کو ہنگامِ قسم یاد آیا
کھل گئی غیر سے الفت اس کی
جام مے سے مجھے جم یاد آیا
وہ مرا دل ہے کہ خود بینوں کو
دیکھ کر آئینہ کم یاد آیا
کس لئے لطف کی باتیں ہیں پھر
کیا کوئی اور ستم یاد آیا
ایسے خود رفتہ ہو اے شیفتہ کیوں
کہیں اس شوخ کا رم یاد آیا
مصطفٰی خان شیفتہ

متاعِ جاں ہیں ترے قول اور قسم کی طرح

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 10
یه ترے خط تری خوشبو یہ تیرے خواب خیال
متاعِ جاں ہیں ترے قول اور قسم کی طرح
گذشتہ سال انہیں میں نے گن کے رکھا تھا
کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح
قطعہ
جون ایلیا

دستۂ داغ و فوج غم لے کر

دیوان اول غزل 223
ہم بھی پھرتے ہیں یک حشم لے کر
دستۂ داغ و فوج غم لے کر
دست کش نالہ پیش رو گریہ
آہ چلتی ہے یاں علم لے کر
مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
اس کے اوپر کہ دل سے تھا نزدیک
غم دوری چلے ہیں ہم لے کر
تیری وضع ستم سے اے بے درد
ایک عالم گیا الم لے کر
بارہا صید گہ سے اس کی گئے
داغ یاس آہوے حرم لے کر
ضعف یاں تک کھنچا کہ صورت گر
رہ گئے ہاتھ میں قلم لے کر
دل پہ کب اکتفا کرے ہے عشق
جائے گا جان بھی یہ غم لے کر
شوق اگر ہے یہی تو اے قاصد
ہم بھی آتے ہیں اب رقم لے کر
میر صاحب ہی چوکے اے بد عہد
ورنہ دینا تھا دل قسم لے کر
میر تقی میر

پھر ان دنوں میں دیدئہ خونبار نم ہوا

دیوان اول غزل 62
سمجھے تھے میر ہم کہ یہ ناسور کم ہوا
پھر ان دنوں میں دیدئہ خونبار نم ہوا
آئے برنگ ابر عرق ناک تم ادھر
حیران ہوں کہ آج کدھر کو کرم ہوا
تجھ بن شراب پی کے موئے سب ترے خراب
ساقی بغیر تیرے انھیں جام سم ہوا
کافر ہمارے دل کی نہ پوچھ اپنے عشق میں
بیت الحرام تھا سو وہ بیت الصنم ہوا
خانہ خراب کس کا کیا تیری چشم نے
تھا کون یوں جسے تو نصیب ایک دم ہوا
تلوار کس کے خون میں سر ڈوب ہے تری
یہ کس اجل رسیدہ کے گھر پر ستم ہوا
آئی نظر جو گور سلیماں کی ایک روز
کوچے پر اس مزار کے تھا یہ رقم ہوا
کاے سرکشاں جہان میں کھینچا تھا میں بھی سر
پایان کار مور کی خاک قدم ہوا
افسوس کی بھی چشم تھی ان سے خلاف عقل
بار علاقہ سے تو عبث پشت خم ہوا
اہل جہاں ہیں سارے ترے جیتے جی تلک
پوچھیں گے بھی نہ بات جہاں تو عدم ہوا
کیا کیا عزیز دوست ملے میر خاک میں
نادان یاں کسو کا کسو کو بھی غم ہوا
میر تقی میر

رند کو تاجِ عرب، تختِ عجم مل جائے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 26
نشۂ مے ہے اگر نشۂ غم مل جائے
رند کو تاجِ عرب، تختِ عجم مل جائے
وقت کے چارہ گرو کوئی کرامات کرو
ارضِ بیمار کو ٹوٹا ہوا دم مل جائے
ہم کہ بگڑی ہوئی تقدیر کے پیارے ٹھہرے
ڈھونڈنے جائیں خوشی اور الم مل جائے
مصلحت نامۂ ہر روز پڑھا کر، اس میں
کیا خبر تجھ کو ترا نام رقم مل جائے
اک سرایت سی ترے لمس کی محسوس کروں
جیسے پتے کو دمِ باد کا نم مل جائے
میں کہ ذرّہ ہوں مرا ظرفِ تمنا دیکھو
چاہتا ہوں کہ مجھے لوح و قلم مل جائے
آفتاب اقبال شمیم

متاعِ درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 23
بہت مِلا نہ مِلا، زندگی سے غم کیا ہے
متاعِ درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے
ہم ایک عمر سے واقف ہیں، اب نہ سمجھاؤ
کہ لطف کیا ہے مرے مہرباں، ستم کیا ہے
کرے نہ جگ میں الاؤ تو شعر کس مصرف
کرے نہ شہر میں جل تھل تو چشمِ نم کیا ہے
لحاظ میں کوئی کچھ دور ساتھ چلتا ہے
وگرنہ دہر میں اب خضر کا بھرم کیا ہے
اجل کے ہاتھ کوئی آ رہا ہے پروانہ
نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے
سجاؤ بزم، غزل گاؤ، جام تازہ کرو
’’بہت سہی غمِ گیتی، شراب کم کیا ہے‘‘
فیض احمد فیض

غزال شہر اِدھر آ کہ رم کریں دونوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 137
ہوائے دشت کو زیر قدم کریں دونوں
غزال شہر اِدھر آ کہ رم کریں دونوں
ذرا سا رقص شرر کر کے خاک ہو جائیں
جو رفتگاں نے کیا ہے وہ ہم کریں دونوں
یہ شام عمر، یہ خواہش کی تیز روشنیاں
لویں اب اپنے چراغوں کی کم کریں دونوں
اکیلا شخص کسے حال دل سنانے جائے
کبھی ملیں تو بچھڑنے کا غم کریں دونوں
خطوں میں کچھ تو قرینہ ہو دل نوازی کا
کوئی تو حرف شکایت رقم کریں دونوں
عرفان صدیقی

کون کرتا ہے کرم دیوانے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 220
کس توقع جئیں ہم دیوانے
کون کرتا ہے کرم دیوانے
پاسِ حالات بجا ہے لیکن
ہو نہ جائیں کہیں ہم دیوانے
اس زمانے میں وفا کا دعویٰ
خود پہ کرتے ہیں ستم دیوانے
زندگی تلخ ہوئی جاتی ہے
کھو نہ دیں اپنا بھرم دیوانے
چونک چونک اٹھے خرد کے بندے
جب بھی مل بیٹھے بہم دیوانے
ڈھونڈتے پھرتے ہیں عنواں کوئی
کر کے افسانہ رقم دیوانے
کھا گئے قحط جنوں میں باقیؔ
بیچ کر لوح و قلم دیوانے
باقی صدیقی

حادثات جہاں ہی کم نہ ہوئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 190
آپ کب مائلِ کرم نہ ہوئے
حادثات جہاں ہی کم نہ ہوئے
خیر ہو تیری کم نگاہی کی
ہم کبھی بے نیاز غم نہ ہوئے
آج ہی آئے سینکڑوں الزام
آج ہی انجمن میں ہم نہ ہوئے
لوح آزاد ہے قلم آزاد
پھر بھی کچھ حادثے رقم نہ ہوئے
شمع کی طرح ہم جلے باقیؔ
پھر بھی آگاہ راز غم نہ ہوئے
باقی صدیقی

آگے کرے اک بندہ ناچیز رقم کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 68
تو قادر مطلق ہے یہی وصف ہے کم کیا
آگے کرے اک بندہ ناچیز رقم کیا
تو خالق کونین ہے اور حاصل کونین
ہے جس پہ نظر تیری اسے کوئی ہو غم کیا
تو اپنے گنہ گار کو توفیق عمل دے
ہوتا ہے زباں سے سرتسلیم بھی خم کیا
یہ رنگ غم زیست، یہ انداز غم جاں
دنیا کی تمنا میں نکل جائے گا دم کیا
اک سجدہ کیا میں نے فقط شعر کی صورت
ورنہ ہے تخیل مرا کیا؟ میرا قلم کیا
باقی صدیقی