ٹیگ کے محفوظات: رقص

جو شخص ساتھ نہیں اسکا عکس باقی ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 151
نئے سفر میں ابھی ایک نقص باقی ہے
جو شخص ساتھ نہیں اسکا عکس باقی ہے
اٹھا کے لے گئے دزدان شب چراغ تلک
سو، کور چشم پتنگوں کا رقص باقی ہے
گھٹا اٹھی ہے مگر ٹوٹ کر نہیں برسی
ہوا چلی ہے مگر پھر بھی حبس باقی ہے
الٹ پلٹ گئی دنیا وہ زلزلے آئے
مگر خرابۂ دل میں وہ شخص باقی ہے
فراز آئے ہو تم اب رفیق شب کے لئے
کہ دور جام نا ہنگام رقص باقی ہے
احمد فراز

رقص

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

زندگی سے بھاگ کر آیا ہوں میں

ڈر سے لرزاں ہوں کہیں ایسا نہ ہو

رقص گہ کے چور دروازے سے آ کر زندگی

ڈھونڈ لے مجھ کو، نشاں پا لے مرا

اور جرم عیش کرتے دیکھ لے!

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

رقص کی یہ گردشیں

ایک مبہم آسیا کے دور ہیں

کیسی سرگرمی سے غم کو روندتا ہوں میں!

جی میں کہتا ھوں کہ ہاں،

رقص گہ میں زندگی کے جھانکنے سے پیشتر

کلفتوں کا سنگریزہ ایک بھی رہنے نا پائے!

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

زندگی میرے لیے

ایک خونیں بھیڑ یے سے کم نہیں

اے حسین و اجنبی عورت اسی کے ڈر سے میں

ہو رہا ہوں لمحہ لمحہ اور بھی تیرے قریب

جانتا ھوں تو مری جاں بھی نہیں

تجھ سے ملنے کا پھر امکاں بھی نہیں

تو مری ان آرزوؤں کی مگر تمثیل ھے

جو رھیں مجھ سے گریزاں آج تک!

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

عہد پارینہ کا میں انساں نہیں

بندگی سے اس در و دیوار کی

ہو چکی ہیں خواہشیں بے سوز و رنگ و ناتواں

جسم سے تیرے لپٹ سکتا تو ہوں

زندگی پر میں جھپٹ سکتا نہیں!

اس لیے اب تھام لے

اے حسین و اجنبی عورت مجھے اب تھام لے!

ن م راشد

رقص

آئینہ سے فرش پر

ٹوٹے بدن کا عکس،

آدھے چاند کی صورت لرزتا ہے

ہوا کے وائلن کی نرم موسیقی

خنک تاریکیوں میں

چاہنے والوں کی سرگوشی کی صورت بہہ رہی ہے

اور ہجومِ ناشناساں سے پرے

نسبتاً کم بولتی تنہائی میں

اجنبی ساتھی نے ، میرے دل کی ویرانی کا ماتھا چُوم کر

مجھ کو یوں تھاما ہُوا ہے

جیسے میرے سارے دُکھ اب اُس کے شانوں کے لیے ہیں !

دونوں آنکھیں بند کر کے

میں نے بھی اِن بازؤوں پر تھک کے سریوں رکھ دیا ہے

جیسے غربت میں اچانک چھاؤں پاکر راہ گم گشتہ مسافر پیڑ سے سر ٹیک دے!

خواب صورت روشنی

اور ساز کی دلدار لے

اُس کی سانسوں سے گُزر کر

میرے خوں کی گردشوں میں سبز تارے بو رہی ہے

رات کی آنکھوں کے ڈورے بھی گُلابی ہو رہے ہیں

اُس کے سینے سے لگی

میں کنول کے پُھول کی وارفتگی سے

سر خوشی کی جھیل پر آہستہ آہستہ قدم یوں رکھ رہی ہوں

جیسے میرے پاؤں کچّی نیندوں میں ہوں اور ذرا بھاری قدم رکھے تو پانی ٹوٹ جائے گا

شکستہ روح پر سے غم کے سارے پیرہن

ایک ایک کر کے اُترتے جا رہے ہیں

لمحہ لمحہ

میں زمیں سے دُور ہوتی جا رہی ہوں

اب ہَوا میں پاؤں ہیں

اب بادلوں پر

اب ستاروں کے قریب

اب ستاروں سے بھی اُوپر،…۔۔

اور اُوپر…۔۔اور اُوپر…۔۔اور۔۔۔۔۔۔

پروین شاکر