ٹیگ کے محفوظات: رغبت

جس کسی کے ساتھ مل بیٹھے اسی سے تم کو اُلفت ہو گئی

چند لمحوں کا تصرّف کیا ہوا ان سے عقیدت ہو گئی
جس کسی کے ساتھ مل بیٹھے اسی سے تم کو اُلفت ہو گئی
اس طرح اکثر ہوا ہے دشمنوں کی خواہشوں کا احترام
جو بھی شے مرغوب تھی ان کو مجھے بھی اس سے رغبت ہو گئی
کل تلک ہر خواہشِ پُرکار بھی میری گوارا تھی انھیں
آج اک معصوم سی لغزش سزاوارِ شکایت ہو گئی
میں سمجھتا ہوں کہ ان پر اپنی خامی کا ہوا ہے انکشاف
لوگ کہتے ہیں مرے حالِ زُبوں سے ان کو نفرت ہو گئی
شکیب جلالی

کیا یہاں رہتا ہے حق گوئی سے رغبت والا

پُوچھتا پھرتا ہے گھر گھر کوئی طاقت والا
کیا یہاں رہتا ہے حق گوئی سے رغبت والا
قریہِ ذات میں محبوس مکینوں کے لئے
کون سا وقت اب آئے گا قیامت والا
کیسی بستی ہے کہ سب زخم لئے پھِرتے ہیں
کوئی دیکھا ہی نہیں اَشکِ ندامت والا
مصلحت زندہ ہے یا زندہ ہیں اندیشہ و خوف
ڈھونڈتے پھِریے خلوص اَور محبّت والا
دل لگانا بہت آسان ہے لیکن ضامنؔ
سوچ لیجے گا ذرا کام ہے فرصت والا
ضامن جعفری