ٹیگ کے محفوظات: رعنائیاں

اس شہرِ تابناک کی پرچھائیاں بھی دیکھ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 47
ان رونقوں کے وسط میں تنہائیاں بھی دیکھ
اس شہرِ تابناک کی پرچھائیاں بھی دیکھ
انکار ناتمام ہے اقرار کے بغیر
وہ جو برا ہے اُس کی تو اچھائیاں بھی دیکھ
تحریرِ دستِ گُل ہے بہت خوشنما مگر
اس میں نظر کی حاشیہ آرائیاں بھی دیکھ
انبوہ میں بھی ہے مگر انبوہ میں نہیں
ان جلوتوں میں فرد کی تنہائیاں بھی دیکھ
تکرارِ جاں سپردگی بے وجہ تو نہیں
اپنی نظر میں شوق کی رسوائیاں بھی دیکھ
ہرچند چشم شور ہے منظر غروب کا
اس میں طلوع دور کی رعنائیاں بھی دیکھ
آفتاب اقبال شمیم

سن رہا ہوں شب کی تیرہ ساعتوں کی سسکیاں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 13
ہیں کسی تکلیف کی کیا خوبرو تبدیلیاں
سن رہا ہوں شب کی تیرہ ساعتوں کی سسکیاں
چھڑ گئے ہیں پھر مسائل ایک کالی رات کے
آرہی ہیں یاد پھر سے زندگی کی تلخیاں
میں نے مصرع کی کلائی کو نئے کنگن دئیے
شانِ دوشیزہ سخن میں ہو گئیں گستاخیاں
آخری تاریکیاں ہیں قریہء امکان میں
گن رہا ہوں ہچکیاں پچھلے پہر کی ہچکیاں
اک اشارہ چاہئے حرفِ کرم کا صبح کو
دیدۂ تقویم میں ہیں وقت کی بے تابیاں
امتِ مرحومہ کو پھر بخش دے روحِ حیات
سربکف تیرے لئے ہے ظالموں کے درمیاں
میں نے جو منصور لکھا اُس پہ شرمندہ نہیں
مجھ سے پائندہ ہوئی ہیں حرف کی رعنائیاں
منصور آفاق