ٹیگ کے محفوظات: رس

مزہ رس میں ہے لوگے کیا تم کرس میں

دیوان پنجم غزل 1686
رساتے ہو آتے ہو اہل ہوس میں
مزہ رس میں ہے لوگے کیا تم کرس میں
درا میں کہاں شور ایسا دھرا تھا
کسو کا مگر دل رکھا تھا جرس میں
ہمیں عشق میں بیکسی بے بسی ہے
نہ دشمن بھی ہو دوستی کے تو بس میں
نہ رہ مطمئن تسمہ باز فلک سے
دغا سے یہ بہتوں کے کھینچے ہے تسمیں
بہت روئے پردے میں جب دیدئہ تر
ہوئی اچھی برسات تب اس برس میں
تن زرد و لاغر میں ظاہر رگیں ہیں
بھرا ہے مگر عشق اک ایک نس میں
محبت وفا مہر کرتے تھے باہم
اٹھا دی ہیں وے تم نے اب ساری رسمیں
تمھیں ربط لوگوں سے ہر قسم کے ہے
نہ کھایا کرو جھوٹی جھوٹی تو قسمیں
ہوا ہی کو دیکھیں ہیں اے میر اسیراں
لگادیں مگر آنکھیں چاک قفس میں
میر تقی میر

کہ فرق حاصلِ عشق و ہوس میں کچھ بھی نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 200
سوائے خاک مری دسترس میں کچھ بھی نہیں
کہ فرق حاصلِ عشق و ہوس میں کچھ بھی نہیں
یہ کون مجھ کو پسِ جشنِ شب پکارتا ہے
وہ ہوک ہے کہ صدائے جرس میں کچھ بھی نہیں
میں کارِ عشق سے ترکِ وفا سے باز آیا
سب اس کے ہاتھ میں ہے میرے بس میں کچھ بھی نہیں
ذرا سے لمسِ شرر سے عجب کمال کیا
میں سوچتا تھا مرے خار و خس میں کچھ بھی نہیں
نوائے درد پہ آتا ہے رنگ صدیوں میں
ابھی مرے سخن نیم رس میں کچھ بھی نہیں
عرفان صدیقی

مری ذات کب ہے مری دسترس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 303
مقید ہوں میں کن فکاں کے قفس میں
مری ذات کب ہے مری دسترس میں
خبر ہے مگر ڈالتا ہوں کمندیں
اڑانیں تمہاری نہیں میرے بس میں
مری لوحِ تقدیر پر تُو نے لکھا
مسرت کا لمحہ ہزاروں برس میں
تری سرد راتوں کو آغوش دوں گا
بڑی شعلہ افشانیاں ہیں نفس میں
نمل جھیل کے ایک پتھر نے پوچھا
کہاں تیرے وعدے کہاں تیری قسمیں
خزاں خیز موسم میں منصور تجھ سے
ہوئیں پُر نمو قتل گاہوں کی رسمیں
منصور آفاق