ٹیگ کے محفوظات: رسوا

ساقی شراب چھوڑ کے دیکھا کیا مجھے

مخمور چشمِ یار نے ایسا کیا مجھے
ساقی شراب چھوڑ کے دیکھا کیا مجھے
تجھ کو تو اپنی ساکھ ہے اے چارہ گر عزیز
تو نے مرے لیے نہیں اچھا کیا مجھے
کیا کیا دکھائے رنگ مجھے تیرے ہجر نے
دریا بنا دیا کبھی صحرا کیا مجھے
جو شعر میں نے چھوڑ دیا اُن کو یاد تھا
’’شعروں کے انتخاب نے رُسوا کیا مجھے‘‘
باصر کاظمی

فیصلہ دیتے ہوئے عادل بھی رُسوا ہو گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
کیا کہیں ذی مرتبت کتنے تھے اور کیا ہو گئے
فیصلہ دیتے ہوئے عادل بھی رُسوا ہو گئے
کونپلیں کیا کیا نہیں جھلسی ہیں بادِ مکر سے
گلستاں امید کے، کیا کیا نہ صحرا ہو گئے
جن دنوں کی چاہ میں بے تاب تھی خلقت بہت
شو مئی قسمت سے وہ دن اور عنقا ہو گئے
خُبث کیا کیا کھُل گیا اُن کا بھی جو تھے ذی شرف
نیّتوں کے جانے کیا کیا راز افشا ہو گئے
دم بخود ٹھہرے ہیں اُن کی پاک دامانی پہ ہم
قتل کرنے پر بھی جو ماجد مسیحا ہو گئے
ماجد صدیقی

نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا
نفرتوں کی مشق ہی کو کیوں ہمیں پیدا کِیا
روک ڈالے مرغزاروں، پنگھٹوں کے راستے
گرگ نے کیا کیا غزالوں کا نہیں پیچھا کِیا
بچ نکلنے پر بھی اُس کے ظلم سے ہم رو دئیے
عمر بھر جو دھونس اپنی ہی تھا منوایا کِیا
کوڑھ سی مجبوریاں تھیں لے کے ہم نکلے جنہیں
نارسائی نے ہمیں کیا کیا نہیں رسوا کِیا
موسموں کے وار اِس پر بھی گراں جب سے ہوئے
پیڑ بھی ماجد ہمِیں سا جسم سہلایا کِیا
ماجد صدیقی

اُس نے بھی اب کے ہمیں رُسوا کہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 111
جس کو باوصفِ ستم اپنا کہا
اُس نے بھی اب کے ہمیں رُسوا کہا
دَمبدم ہوں ضو فشاں اُس روز سے
جب سے ماں نے مجھ کو چاند ایسا کہا
عاق ہو کر رہ گئے پل میں سبھی
پیڑ نے پتّوں سے جانے کیا کہا
برق خود آ کر اُسے نہلا گئی
جس شجر کو ہم نے تھا میلا کہا
قولِ غالب ہے کہ اُس سے قبل بھی
ایک شاعر نے سخن اچّھا کہا
اک ہماری ہی زباں تھی زشت خُو
اُس نے تو ماجدؔ نہ کچھ بے جا کہا
ماجد صدیقی

فرطِ محرومی سے اپنے آپ کو رسوا کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
کس لئے غیروں کی کشتِ صید میں جھانکا کروں
فرطِ محرومی سے اپنے آپ کو رسوا کروں
ایک ننّھا ہے مرے جی میں بھی شوخ و شنگ سا
پا سکوں فرصت تو اُس کا حال بھی پوچھا کروں
محوِ خوابِ استراحت شہر کا والی رہے
رات بھر اندیشۂ دُزداں سے میں کھانسا کروں
ذوق پابند وسائل ہے جو اتنا ہی تو پھر
کیوں نہ چھلکے بھی پھلوں کے ساتھ اب کھایا کروں
حیف ہے اُس شوخ کی موجودگی میں بھی اگر
خشکئِ آب و ہوائے دہر کا شکوہ کروں
گُل کھلا دیکھوں کوئی ماجد تو جُوں بادِ سحر
کیوں نہ سارے گلستان میں اُس کا میں چرچا کروں
ماجد صدیقی

مشکل کہ تجھ سے راہِ سخن وا کرے کوئی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 188
جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی
مشکل کہ تجھ سے راہِ سخن وا کرے کوئی
عالم غُبارِ وحشتِ مجنوں ہے سر بسر
کب تک خیالِ طرّۂ لیلیٰ کرے کوئی
افسردگی نہیں طرب انشائے التفات
ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی
رونے سے اے ندیم ملامت نہ کر مجھے
آخر کبھی تو عُقدۂ دل وا کرے کوئی
چاکِ جگر سے جب رہِ پرسش نہ وا ہوئی
کیا فائدہ کہ جَیب کو رسوا کرے کوئی
لختِ جگر سے ہے رگِ ہر خار شاخِ گل
تا چند باغبانئِ صحرا کرے کوئی
ناکامئِ نگاہ ہے برقِ نظارہ سوز
تو وہ نہیں کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
ہر سنگ و خشت ہے صدفِ گوہرِ شکست
نقصاں نہیں جنوں سے جو سودا کرے کوئی
سَر بَر ہوئی نہ وعدۂ صبر آزما سے عُمر
فُرصت کہاں کہ تیری تمنّا کرے کوئی
ہے وحشتِ طبیعتِ ایجاد یاس خیز
یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی@
بیکارئ جنوں کو ہے سر پیٹنے کا شغل
جب ہاتھ ٹوٹ جائیں تو پھر کیا کرے کوئی
حسنِ فروغِ شمعِ سُخن دور ہے اسدؔ
پہلے دلِ گداختہ پیدا کرے کوئی
@ نوٹ: یہ مصرعہ مختلف نسخوں میں مختلف ہے۔ نسخۂ مہر: یہ درد وہ نہیں ہےکہ پیدا کرے کوئی۔ نسخۂ طاہر: یہ درد وہ نہیں ہے جو پیدا کرے کوئی نسخۂ آسی: یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی نسخۂ حمیدیہ: یہ درد وہ نہیں کہ نہ پیدا کرے کوئی
مرزا اسد اللہ خان غالب

ابر آیا زور غیرت تم بھی ٹک پیدا کرو

دیوان پنجم غزل 1712
صوفیاں خم وا ہوئے ہیں ہائے آنکھیں وا کرو
ابر آیا زور غیرت تم بھی ٹک پیدا کرو
مستی و دیوانگی کا عہد ہے بازار میں
پاے کوباں دست افشاں آن کر سودا کرو
ہر جگہ دلکش ہے اس کی برگ گل سے جسم میں
ایک جا تو جی لگائو دل کے تیں بے جا کرو
ہے تکلف ہے تعین اس قصب پوشی کی قید
خرقۂ صد چاک پہنو آپ کو رسوا کرو
گرچہ ہم پر بستہ طائر ہیں پر اے گل ہاے تر
کچھ ہمیں پروا نہیں ہے تم اگر پروا کرو
میر تقی میر

چشم بصیرت وا ہووے تو عجائب دید کی جا ہے دل

دیوان پنجم غزل 1669
دل دل لوگ کہا کرتے ہیں تم نے جانا کیا ہے دل
چشم بصیرت وا ہووے تو عجائب دید کی جا ہے دل
اوج و موج کا آشوب اس کے لے کے زمیں سے فلک تک ہے
صورت میں تو قطرئہ خوں ہے معنی میں دریا ہے دل
جیسے صحرا کو کشادہ دامن ہم تم سنتے آتے ہیں
بند کر آنکھیں ٹک دیکھو تو ویسا ہی صحرا ہے دل
کوہکن و مجنوں وامق تم جس سے پوچھو بتا دیوے
عشق و جنوں کے شہروں میں ہر چار طرف رسوا ہے دل
ہائے غیوری دل کی اپنے داغ کیا ہے خود سر نے
جی ہی جس کے لیے جاتا ہے اس سے بے پروا ہے دل
مت پوچھو کیوں زیست کرو ہو مردے سے افسردہ تم
ہجر میں اس کے ہم لوگوں نے برسوں تک مارا ہے دل
میر پریشاں دل کے غم میں کیا کیا خاطرداری کی
خاک میں ملتے کیوں نہ پھریں اب خون ہو بہ بھی گیا ہے دل
میر تقی میر

مجنوں مجنوں لوگ کہے ہیں مجنوں کیا ہم سا ہو گا

دیوان پنجم غزل 1555
دل تڑپے ہے جان کھپے ہے حال جگر کا کیا ہو گا
مجنوں مجنوں لوگ کہے ہیں مجنوں کیا ہم سا ہو گا
دیدئہ تر کو سمجھ کر اپنا ہم نے کیا کیا حفاظت کی
آہ نہ جانا روتے روتے یہ چشمہ دریا ہو گا
کیا جانیں آشفتہ دلاں کچھ ان سے ہم کو بحث نہیں
وہ جانے گا حال ہمارا جس کا دل بیجا ہو گا
پائوں حنائی اس کے لے آنکھوں پر اپنی ہم نے رکھے
یہ دیکھا نہ رنگ کفک پر ہنگامہ کیا برپا ہو گا
جاگہ سے بے تہ جاتے ہیں دعوے وے ہی کرتے ہیں
ان کو غرور و ناز نہ ہو گا جن کو کچھ آتا ہو گا
روبہ بہی اب لاہی چکے ہیں ہم سے قطع امید کرو
روگ لگا ہے عشق کا جس کو وہ اب کیا اچھا ہو گا
دل کی لاگ کہیں جو ہو تو میر چھپائے اس کو رکھ
یعنی عشق ہوا ظاہر تو لوگوں میں رسوا ہو گا
میر تقی میر

دو دن جوں توں جیتے رہے سو مرنے ہی کے مہیا تھے

دیوان چہارم غزل 1526
کیا کیا ہم نے رنج اٹھائے کیا کیا ہم بھی شکیبا تھے
دو دن جوں توں جیتے رہے سو مرنے ہی کے مہیا تھے
عشق کیا سو باتیں بنائیں یعنی شعر شعار ہوا
بیتیں جو وے مشہور ہوئیں تو شہروں شہروں رسوا تھے
کیا پگڑی کو پھیر کے رکھتے کیا سر نیچے نہ ہوتا تھا
لطف نہیں اب کیا کہیے کچھ آگے ہم بھی کیا کیا تھے
اب کے وصال قرار دیا ہے ہجر ہی کی سی حالت ہے
ایک سمیں میں دل بے جا تھا تو بھی ہم وے یک جا تھے
کیا ہوتا جو پاس اپنے اے میر کبھو وے آجاتے
عاشق تھے درویش تھے آخر بیکس بھی تھے تنہا تھے
میر تقی میر

کہو تم سو دل کا مداوا کریں

دیوان چہارم غزل 1458
تھکے چارہ جوئی سے اب کیا کریں
کہو تم سو دل کا مداوا کریں
گلستاں میں ہم غنچہ ہیں دیر سے
کہاں ہم کو پروا کہ پروا کریں
نہیں چاہتا جی کچھ اب سیر ہیں
ہوس دل کو ہو تو تمنا کریں
بخود جستجو میں نہ اس کی رہے
ہم آپھی ہیں گم کس کو پیدا کریں
غضب ہے یہ انداز رفتار عشق
چلے جائیں جی ہم تماشا کریں
بلا شور ہے سر میں ہم کب تلک
قیامت کا ہنگامہ برپا کریں
کہیں دل کی مرغان گلشن سے کیا
یہ بے حوصلہ ہم کو رسوا کریں
کھپا عشق کا جوش دل میں بھلا
کہ بدنام ہوویں جو سودا کریں
برے حال اس کی گلی میں ہیں میر
جو اٹھ جائیں واں سے تو اچھا کریں
میر تقی میر

محزوں ہوویں مفتوں ہوویں مجنوں ہوویں رسوا ہوں

دیوان چہارم غزل 1446
دل کے گئے بے دل کہلائے آگے دیکھیے کیا کیا ہوں
محزوں ہوویں مفتوں ہوویں مجنوں ہوویں رسوا ہوں
عشق کی رہ میں پائوں رکھا سو رہنے لگے کچھ رفتہ سے
آگے چل کر دیکھیں ہم اب گم ہوویں یا پیدا ہوں
خار و خس الجھے ہیں آپھی بحث انھوں سے کیا رکھیں
موج زن اپنی طبع رواں سے جب ہم جیسے دریا ہوں
ہم بھی گئے جاگہ سے اپنی شوق میں اس ہرجائی کے
عشق کا جذبہ کام کرے تو پھر ہم دونوں یک جا ہوں
کوئی طرف یاں ایسی نہیں جو خالی ہووے اس سے میر
یہ طرفہ ہے شورجرس سے چار طرف ہم تنہا ہوں
میر تقی میر

سو بھی رہتا ہوں یہ کہتا ہائے دل نے کیا کیا

دیوان سوم غزل 1075
ضبط کرتے کرتے اب جو لب کو میں نے وا کیا
سو بھی رہتا ہوں یہ کہتا ہائے دل نے کیا کیا
آنکھ پڑتی تھی تمھارے منھ پہ جب تک چین تھا
کیا کیا تم نے کہ مجھ بیتاب سے پردہ کیا
گور ہی اس کو جھنکائی عشق جس کے ہاں گیا
اس طبیب بدشگوں نے کس کے تیں اچھا کیا
دیکھ خبطی مجھ کو رستے بند ہوجاتے ہیں اب
عشق نے کیا کوچہ و بازار میں رسوا کیا
لوگ دل دیتے سنے تھے میر دے گذرا ہے جی
لیک اپنے طور پر ان نے بھی اک سودا کیا
میر تقی میر

کھو گئے دنیا سے تم ہو اور اب دنیا ہو میاں

دیوان دوم غزل 907
کیا کہیں پایا نہیں جاتا ہے کچھ تم کیا ہو میاں
کھو گئے دنیا سے تم ہو اور اب دنیا ہو میاں
مت حنائی پائوں سے چل کر کہیں جایا کرو
دلی ہے آخر نہ ہنگامہ کہیں برپا ہو میاں
دل جہاں کھویا گیا کھویا گیا پھر دیکھیے
کون مرتا ہے جیے ہے کون ناپیدا ہو میاں
دل کو لے کر صاف یوں آنکھیں ملاتا ہے کوئی
تب تلک ہی لطف ہے جب تک کہ کچھ پردہ ہو میاں
ایک جنبش میں ترے ابرو کی ٹل جاتی ہے بھیڑ
درمیاں آوے اگر تلوار تو پرچھا ہو میاں
برسوں تک چھایا رہا ہے چشم تر پر ابر سا
پاٹ دامن کا نچوڑوں کوئی تو دریا ہو میاں
شہر میں تو موسم گل میں نہیں لگتا ہے جی
یا گریباں کوہ کا یا دامن صحرا ہو میاں
مدعی عشق تو ہیں عزلتی شہر لیک
جب گلی کوچوں میں کوئی اس طرح رسوا ہو میاں
گفتگو اتنی پریشاں حال کی یہ درہمی
میر کچھ دل تنگ ہے ایسا نہ ہو سودا ہو میاں
میر تقی میر

دل تو کچھ دھنسکا ہی جاتا ہے کروں سو کیا کروں

دیوان دوم غزل 877
کس کنے جائوں الٰہی کیا دوا پیدا کروں
دل تو کچھ دھنسکا ہی جاتا ہے کروں سو کیا کروں
لوہو روتا ہوں میں ہر اک حرف خط پر ہمدماں
اور اب رنگین جیسا تم کہو انشا کروں
چال اپنی چھوڑتا ہرگز نہیں وہ خوش خرام
شور سے کب تک قیامت ایک میں برپا کروں
مصلحت ہے میری خاموشی ہی میں اے ہم نفس
لوہو ٹپکے بات سے جو ہونٹ اپنے وا کروں
دل پریشانی مجھے دے ہے بکھیرے گل کے رنگ
آپ کو جوں غنچہ کیونکر آہ میں یکجا کروں
ایک چشمک ہی چلی جاتی ہے گل کی میری اور
یعنی بازار جنوں میں جائوں کچھ سودا کروں
خوار تو آخر کیا ہے گلیوں میں تونے مجھے
تو سہی اے عشق جو تجھ کو بھی میں رسوا کروں
خاک اڑاتا اشک افشاں آن نکلوں میں تو پھر
دشت کو دریا کروں بستی کے تیں صحرا کروں
کعبے جانے سے نہیں کچھ شیخ مجھ کو اتنا شوق
چال وہ بتلا کہ میں دل میں کسو کے جا کروں
اب کے ہمت صرف کر جو اس سے جی اچٹے مرا
پھر دعا اے میر مت کریو اگر ایسا کروں
میر تقی میر

تجھ پر کوئی اے کام جاں دیکھا نہ یوں مرتا ہوا

دیوان دوم غزل 714
عاشق ترے لاکھوں ہوئے مجھ سا نہ پھر پیدا ہوا
تجھ پر کوئی اے کام جاں دیکھا نہ یوں مرتا ہوا
مدت ہوئی الفت گئی برسوں ہوئے طاقت گئی
دل مضطرب ایسا نہ تھا کیا جانیے اب کیا ہوا
کل صبح سیر باغ میں دل اور میرا رک گیا
بلبل نہ بولا منھ سے کچھ گل ٹک نہ مجھ سے وا ہوا
وے دن گئے جو یاں کبھو اٹھتا تھا دل سے جوش سا
اب لگ گئے رونے جہاں پل مارتے دریا ہوا
کتنوں کے دل بے جاں ہوئے کتنے نہ جانا کیا ہوئے
چلنے میں اس کے دو قدم ہنگامہ اک برپا ہوا
مستی میں لغزش ہو گئی معذور رکھا چاہیے
اے اہل مسجد اس طرف آیا ہوں میں بہکا ہوا
جوں حسن ہے اک فتنہ گر توں عشق بھی ہے پردہ در
وہ شہرئہ عالم ہوا میں خلق میں رسوا ہوا
فرہاد و مجنوں ووں گئے ہم اور وامق یوں چلے
اس عارضے سے چاہ کے وہ کون سا اچھا ہوا
یا حرف خط ہے درمیاں یا گیسوئوں کا ہے بیاں
کیا میر صاحب کے تئیں پھر ان دنوں سودا ہوا
میر تقی میر

پر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا

دیوان اول غزل 137
ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھا
پر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا
خزاں التفات اس پہ کرتی بجا تھی
یہ غنچہ چمن میں ابھی وا ہوا تھا
کہاں تھا تو اس طور آنے سے میرے
گلی میں تری کل تماشا ہوا تھا
گئی ہوتی سر آبلوں کے پہ ہوئی خیر
بڑا قضیہ خاروں سے برپا ہوا تھا
گریباں سے تب ہاتھ اٹھایا تھا میں نے
مری اور دامان صحرا ہوا تھا
زہے طالع اے میر ان نے یہ پوچھا
کہاں تھا تو اب تک تجھے کیا ہوا تھا
میر تقی میر

اُس س کہہ دو کہ مرے ہجر کو رسوا نہ کرے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 532
دشت کو ابر نہ دے ، دھوپ پہ سایہ نہ کرے
اُس س کہہ دو کہ مرے ہجر کو رسوا نہ کرے
ایک امید کی کھڑکی سی کھلی رہتی ہے
اپنے کمرے کا کوئی، بلب بجھایا نہ کرے
میں مسافر ہوں کسی روز تو جانا ہے مجھے
کوئی سمجھائے اسے میری تمنا نہ کرے
روز ای میل کرے سرخ اِمج ہونٹوں کے
میں کسی اور ستارے پہ ہوں ، سوچا نہ کرے
حافظہ ایک امانت ہی سہی اس کی مگر
وہ شب و روز خیالوں میں تماشا نہ کرے
شب کبھی وصل کی دے وہ تو گھڑی بھر کی ہو
رات ہجراں کی جو آئے تو سویرا نہ کرے
بال بکھرائے ہوئے درد کے خالی گھر میں
یاد کی سرد ہوا شام کو رویا نہ کرے
چھو کے بھی دیکھنا چاہتی ہیں یہ پوریں اس کو
آ نہیں سکتا تو پھر یاد بھی آیا نہ کرے
چاند کے حسن پہ ہر شخص کا حق ہے منصور
میں اسے کیسے کہوں رات کو نکلا نہ کرے
منصور آفاق