ٹیگ کے محفوظات: رسالے

دو برہنہ شیڈ تھے اک لیمپ والے میز پر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 167
کچھ اندھیرے جاگتے تھے کچھ اجالے میز پر
دو برہنہ شیڈ تھے اک لیمپ والے میز پر
آنکھ جھپکی تھی ذرا سی میں نے کرسی پر کہیں
وقت نے پھر بن دیے صدیوں کے جالے میز پر
صلح کی کوشش نہ کر ہابیل اور قابیل میں
کھول دیں گے فائلیں افلاک والے میز پر
آگ جلتے ہی لبوں کی مل گئیں پرچھائیاں
رہ گئے کافی کے دو آدھے پیالے میز پر
جسم استانی کا لتھڑا جا رہا تھا رال سے
چاک لکھتا جا رہا تھا نظم کالے میز پر
میری ہم مکتب نزاکت میں قیامت خیز تھی
چاہتا تھا دل اسے اپنی سجا لے میز پر
کوئی ترچھی آنکھ سے منصور کرتا تھا گناہ
سیکس کے رکھے تھے پاکیزہ رسالے میز پر
منصور آفاق