ٹیگ کے محفوظات: رزاق

زندگانی اب تو کرنا شاق ہے

دیوان سوم غزل 1309
دل کی بیماری سے طاقت طاق ہے
زندگانی اب تو کرنا شاق ہے
دم شماری سی ہے رنج قلب سے
اب حساب زندگی بیباق ہے
اپنی عزلت رکھتی ہے عالم ہی اور
یہ سیہ رو شہرئہ آفاق ہے
فرط خجلت سے گرا جاتا ہے سرو
قد دلکش اس کا بالا چاق ہے
دل زدہ کو اس کے دیکھا نزع میں
تھا نمودار آنکھ سے مشتاق ہے
رنگ میں اس کے جھمک ہے برق کی
سطح کیا رخسار کا براق ہے
گو خط اس کے پشت لب کا زہر ہو
بوسۂ کنج دہن تریاق ہے
خشک کر دیتی ہے گرمی عشق کی
بیدصحرائی سا مجنوں قاق ہے
مت پڑا رہ دیر کے ٹکڑوں پہ میر
اٹھ کے کعبے چل خدا رزاق ہے
میر تقی میر