ٹیگ کے محفوظات: ردائیں

رشک میں اُس شوخ کے اب کی ادائیں شوخ ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
منظروں سپنوں ارادوں کی قبائیں شوخ ہیں
رشک میں اُس شوخ کے اب کی ادائیں شوخ ہیں
اُس کے دم سے سخت واماندہ ہیں خدشوں کے عقاب
اور سکون و امن کی سب فاختائیں شوخ ہیں
اُس کے ہونٹوں پر دمکتی مسکراہٹ دیکھ کر
آسماں پر ابر چنچل ہیں، ہوائیں شوخ ہیں
اُس بدن پر دیکھ کر پیہم مہکتا پیرہن
گل بہ گل بے نام خوشبو کی ردائیں شوخ ہیں
ہم سخن ہونے کو اُس ہر دم سراپا ناز سے
باغ میں کلیوں کے کِھلنے کی صدائیں شوخ ہیں
ماجد صدیقی

اِس قدر کب تھیں ملیں ہم کو سزائیں جتنی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
ہم سے منسوب تھیں بے نام خطائیں جتنی
اِس قدر کب تھیں ملیں ہم کو سزائیں جتنی
زخم بن بن کے اُبھرتی ہیں وُہی چہروں پر
زیرِ حلقوم دبکتی ہیں صدائیں جتنی
مرگِ افکار نہ اِس درجہ کہیں بھی ہو گی
ذہن میں روز بھڑکتی ہیں چتائیں جتنی
سر ہوئے تھے کبھی اِتنے تو نہ عریاں پہلے
آندھیاں لے کے اُڑیں اب کے ردائیں جتنی
داغ تھے زیرِ تب و تاب سبھی پر ماجدؔ
ہم نے دیکھیں سرِ ابدان قبائیں جتنی
ماجد صدیقی