ٹیگ کے محفوظات: رجائی

بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی

رہِ عِشق میں کب دیا کچھ سنائی دکھائی
بہت دوستوں نے بھلائی برائی دکھائی
سمجھتے ہیں اہلِ نظر حسن کی یہ ادائیں
گھڑی دیکھنے کے بہانے کلائی دکھائی
ہماری توجہ بھی اُس دم ذرا منقسم تھی
مداری نے کچھ ہاتھ کی بھی صفائی دکھائی
دوبارہ بھروسہ کیا آزمائے ہوئے پر
بہت آپ نے بھی طبیعت رجائی دکھائی
عجب کیا جو عاشق نے سر پھوڑ کر جان دے دی
عجب کیا جو محبوب نے بے وفائی دکھائی
باصر کاظمی

وُہ مانے گا نہ اَب کوئی صفائی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
ترازُو ہاتھ جس منصف کے آئی
وُہ مانے گا نہ اَب کوئی صفائی
کھلائے گی کلی کو اور ہوا پھر
اُڑا لے جائے گی اُس کی کمائی
لگے، جیسے اندھیرے ہی میں بانٹے
وُہ جس کو بھی عطا کر دے خُدائی
بنے گا چھتر وُہ بیوہ کے سر کا
بڑوں نے جس کو اَب تختی تھمائی
ٹپکتی ہوں چھتیں جن کے سروں پر
لبوں پر کیوں نہ ہو اُن کے دُہائی
ہوئے بے اختیار ایسے کہ ہم سے
وُہ اِک اِک بات کی مانگے صفائی
نظر میں ٹُوٹتے تارے بسا کر
تِرا لہجہ ہوماجدؔ کیا رجائی
ماجد صدیقی