ٹیگ کے محفوظات: رتجگے

کھنچے ہوؤں سے مراسم نئے تلاش کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
گئے دنوں کے نئے ولولے تلاش کروں
کھنچے ہوؤں سے مراسم نئے تلاش کروں
جو حرفِ حق ہے اُسے، دلنشیں بنانے کو
کچھ اور سابقے اور لاحقے تلاش کروں
میں ربط دیکھ کے سورج مکھی سے سورج کا
برائے چشم نئے رتجگے تلاش کروں
وہ جن میں جھانک کے سنبھلیں مرے نواح کے لوگ
میں اُس طرح کے کہاں آئنے تلاش کروں
جو آنچ ہی سے مبّدل بہ آب ہوتے ہیں
میں گرم ریت میں وہ آبلے تلاش کروں
بھگو کے گال، سجا کر پلک پلک آنسو
’ اُداس دل کے لئے مشغلے تلاش کروں‘
بیاضِ درد کی تزئین کے لئے ماجدؔ
وہ حرف رہ گئے جو، اَن کہے تلاش کروں
ماجد صدیقی

وہ سب سمے جو ترے دھیان سے نہیں گزرے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 68
کبھی تو سوچ، ترے سامنے نہیں گزرے
وہ سب سمے جو ترے دھیان سے نہیں گزرے
یہ اور بات کہ ہوں ان کے درمیاں میں بھی
یہ واقعے کسی تقریب سے نہیں گزرے
ان آئینوں میں جلے ہیں ہزارعکسِ عدم
دوامِ درد، ترے رتجگے نہیں گزرے
سپردگی میں بھی اک رمزِ خود نگہ داری
وہ میرے دِل سے مرے واسطے نہیں گزرے
بکھرتی لہروں کے ساتھ ان دنوں کے تنکے بھی تھے
جو دل میں بہتے ہوئے رک گئے، نہیں گزرے
انھیں حقیقتِ دریا کی کیا خبر امجد
جو اپنی روح کی منجدھار سے نہیں گزرے
مجید امجد