ٹیگ کے محفوظات: ربا

کیسا ہے دیکھ عکسِ ادا کو ادا سے ربط

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 55
لازم ہے بے وفا تجھے اہلِ وفا سے ربط
کیسا ہے دیکھ عکسِ ادا کو ادا سے ربط
یہ ناخن و خراش میں بگڑی کہ کیا کہوں
اک دم ہوا جو عقدہ بندِ قبا سے ربط
ناصح مری ملامتِ بے جا سے فائدہ
بے اختیار دل کو ہے اس دل ربا سے ربط
اس سرد مہر کو ہو اثر، پر جو ہو سکے
کام و دہاں کو میرے دمِ شعلہ زا سے ربط
کیجے گر ان سے شکوہ انجامِ کارِ عشق
کہتے ہیں مجھ کو تم سے نہ تھا ابتدا سے ربط
دو دن میں تنگ ہو گئے جورِ سپہر سے
اس حوصلے پہ کرتے تھےاس کی جفا سے ربط
کیا کیجے، بد گمانیِ ابرو کا دھیان ہے
کرتے وگرنہ ہجر میں تیغِ قضا سے ربط
تیرے ستم سے ہے یہ دعا لب پہ دم بہ دم
یا رب نہ ہو کسی کو کسی بے وفا سے ربط
صبحِ شبِ فراق کیا لطفِ مرگ نے
کیا دیر میں ہوا ہمیں زود آشنا سے ربط
فریادِ نزع کان تک اس کے نہ جا سکی
تھا شیفتہ ہمیں نفسِ نارسا سے ربط
مصطفٰی خان شیفتہ

نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 109
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
تجاہل پیشگی سے مدعا کیا
کہاں تک اے سراپا ناز کیا کیا؟
نوازش ہائے بے جا دیکھتا ہوں
شکایت ہائے رنگیں کا گلا کیا
نگاہِ بے محابا چاہتا ہوں
تغافل ہائے تمکیں آزما کیا
فروغِ شعلۂ خس یک نفَس ہے
ہوس کو پاسِ ناموسِ وفا کیا
نفس موجِ محیطِ بیخودی ہے
تغافل ہائے ساقی کا گلا کیا
دماغِ عطر پیراہن نہیں ہے
غمِ آوارگی ہائے صبا کیا
دلِ ہر قطرہ ہے سازِ ’انا البحر‘
ہم اس کے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا
محابا کیا ہے، مَیں ضامن، اِدھر دیکھ
شہیدانِ نگہ کا خوں بہا کیا
سن اے غارت گرِ جنسِ وفا، سن
شکستِ قیمتِ دل کی صدا کیا
کیا کس نے جگرداری کا دعویٰ؟
شکیبِ خاطرِ عاشق بھلا کیا
یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں؟
یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا؟
بلائے جاں ہے غالب اس کی ہر بات
عبارت کیا، اشارت کیا، ادا کیا!
مرزا اسد اللہ خان غالب