ٹیگ کے محفوظات: رباب

پہلو کا عذاب پی رہا ہوں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 92
میں دل کی شراب پی رہا ہوں
پہلو کا عذاب پی رہا ہوں
میں اپنے خرابہء عبث میں
بے طرح خراب پی رہا ہوں
ہے میرا حساب بے حسابی
دریا میں سراب پی رہا ہوں
ہیں سوختہ میرے چشم و مژگاں
میں شعلہء خواب پی رہا ہوں
دانتوں میں ہے میرے شہہ رگ جاں
میں خونِ شباب پی رہا ہوں
میں اپنے جگر کا خون کر کے
اے یار شتاب پی رہا ہوں
میں شعلہء لب سے کر کے سیّال
طاؤس و رباب پی رہا ہوں
وہ لب ہیں بَلا کے زہر آگئیں
میں جن کا لعاب پی رہا ہوں
جون ایلیا

یہ سُوء ظن ہے ساقئ کوثر کے باب میں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 169
کل کے لئے کر آج نہ خسّت شراب میں
یہ سُوء ظن ہے ساقئ کوثر کے باب میں
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخئ فرشتہ ہماری جناب میں
جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماع
گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں
رَو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بُعد ہے
جتنا کہ وہمِ غیر سے ہُوں پیچ و تاب میں
اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہے
حیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں
ہے مشتمل نمُودِ صُوَر پر وجودِ بحر
یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی
ہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یُوں حجاب میں
آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں
ہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میں
غالب ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوست
مشغولِ حق ہوں، بندگئ بُو تراب میں
مرزا اسد اللہ خان غالب