ٹیگ کے محفوظات: راہ

اُسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
شبِ سیہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے
اُسی سے تابِ سفر عزم کی سپاہ میں ہے
ذرا سا ہے پہ نہ ہونے کا اور ہونے کا
ثبوت ہے تو فقط خواہشِ گناہ میں ہے
جو بے ضرر ہے اُسے جبر سے اماں کیسی
یہاں تو جبر ہی بس جبر کی پناہ میں ہے
زمیں کس آن نجانے تہِ قدم نہ رہے
یہی گماں ہے جو لاحق تمام راہ میں ہے
نجانے نرغۂ گرگاں سے کب نکل پائے
کنارِ دشت جو خیمہ، شبِ سیاہ میں ہے
بڑھائیں مکر سے کیا ربط، جی جلانے کو
یہ ہم کہ جن کا یقیں ہی فقط نباہ میں ہے
نہ اور کچھ بھی سہی نام ہے ہمارے ہی
جلال جتنا بھی ماجدؔ مزاجِ شاہ میں ہے
ماجد صدیقی

شجر کی ژالوں سے جس طرح رسم و راہ ٹھہرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
یونہی کچھ اُس کا بھی ہم سے شاید نباہ ٹھہرے
شجر کی ژالوں سے جس طرح رسم و راہ ٹھہرے
وہ دشمنِ جاں بھی اب نہ اترے مقابلے میں
کہو تو جا کر کہاں یہ دل کی سپاہ ٹھہرے
جدا جدا ہی دکھائی دے بخت ہر شجر کا
چمن میں پل بھر کو جس جگہ بھی نگاہ ٹھہرے
یہ ہم کہ جن کا قیام بیرونِ در بھی مشکل
اور آپ ہیں کہ ازل سے ہیں بارگاہ ٹھہرے
مڑے حدِ تشنگی وہ چھو کر بھی ہم جہاں پر
زباں کا بیرونِ لب لٹکنا گناہ ٹھہرے
یہ کِبر پائے دکھا کے پنجوں کا زور ماجدؔ
فضائے صحرا میں جو کوئی کج کلاہ ٹھہرے
ماجد صدیقی

نظر میں اہلِ ہوس کی گناہ کرتے رہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
نگاہ ہم پہ جو وہ گاہ گاہ کرتے رہے
نظر میں اہلِ ہوس کی گناہ کرتے رہے
تھے اُن کے ناز نظر میں، نیاز تھے اپنے
بیاں حکایتِ محتاج و شاہ کرتے رہے
بھٹکنے دی نہ نگہ تک کسی کی پاس اپنے
یہی وہ جبر تھا جو اہلِ جاہ کرتے رہے
ہر ایک شب نے دئیے زخم جو ہمیں، اُن پر
ستارۂ سحری کو گواہ کرتے رہے
ہمیں سے پوچھئے اِس ربط میں مزے کیا ہیں
کہ رفعتوں سے ہمیں رسم و راہ کرتے رہے
چمن میں برق نے پھر کی ہے کوئی صنّاعی
ہوا کے ہونٹ جبھی واہ واہ کرتے رہے
کرم غیاب میں کچھ اُس سے تھا جُدا ماجدؔ
ہمارے سامنے جو خیر خواہ کرتے رہے
ماجد صدیقی

اک آئینہ تھا، اُسی کو سیاہ میں نے کیا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 18
بزعمِ عقل یہ کیسا گناہ میں نے کیا
اک آئینہ تھا، اُسی کو سیاہ میں نے کیا
یہ شہرِ کم نظراں، یہ دیارِ بے ہنراں
کسے یہ اپنے ہنر کا گواہ میں نے کیا
حریمِ دل کو جلانے لگا تھا ایک خیال
سو گُل اُسے بھی بیک سرد آہ میں نے کیا
وہی یقین رہا ہے جوازِ ہم سفری
جو گاہ اُس نے کیا اور گاہ میں نے کیا
بس ایک دل ہی تو ہے واقفِ رموزِ حیات
سو شہرِ جاں کا اِسے سربراہ میں نے کیا
ہر ایک رنج اُسی باب میں کیا ہے رقم
ذرا سا غم تھا جسے بے پناہ میں نے کیا
یہ راہِ عشق بہت سہل ہو گئ جب سے
حصارِ ذات کو پیوندِ راہ میں نے کیا
یہ عمر کی ہے بسر کچھ عجب توازن سے
ترا ہُوا، نہ ہی خود سے نباہ میں نے کیا
خرد نے دل سے کہا، تُو جنوں صفت ہی سہی
نہ پوچھ اُس کی کہ جس کو تباہ میں نے کیا
عرفان ستار

اچھی ندیا! آج ذرا آہستہ بہہ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 12
ہم سے جو کُچھ کہنا ہے وہ بعد میں کہہ
اچھی ندیا! آج ذرا آہستہ بہہ
ہَوا! مرے جُوڑے میں پُھول سجاتی جا
دیکھ رہی ہوں اپنے من موہن کی راہ
اُس کی خفگی جاڑے کی نرماتی دُھوپ
پاروسکھی! اس حّدت کو ہنس کھیل کے سہہ
آج تو سچ مچ کے شہزادے آئیں گے
نندیا پیاری! آج نہ کُچھ پریوں کی کہہ
دوپہروں میں جب گہرا سناٹا ہو
شاخوں شاخوں موجِ ہَوا کی صُورت بہہ
پروین شاکر

فرد فرد

ہمیں جیب و آستیں پر اگر اختیار ہوتا
یہ شگفتِ گل کا موسم بڑا خوش گوار ہوتا

گونجتے ہیں شکیب آنکھوں میں
آنے والی کسی صدی کے گیت

ثاند کی پر بہار وادی میں
ایک دوشیزہ چن رہی ہے کپاس

بھاگتے سایوں کی چیخیں، ٹوٹے تاروں کا شور
میں ہوں اور اک محشرِ بے خواب آدھی رات کو

بات میری کہاں سمجھتے ہو
آنسوؤں کی زباں سمجھتے ہو

ہاۓ وہ آگ کہ جو دل میں سلگتی ہی رہے
ہاۓ وہ بات کہ جس کا کبھی اظہار نہ ہو

جنگل جلے تو ان کو خبر تک نہ ہو سکی
چھائی گھٹا تو جھوم اٹھے بستیوں کے لوگ

مجھ کو آمادۂِ سفر نہ کرو
راستے پر خطر نہ ہو جائیں

خوشی کی بات نہیں ہے کوئی فسانے میں
وگرنہ عذر نہ تھا آپ کو سنانے میں

پائلیں بجتی رہیں کان میں سودائی کے
کوئی آیا نہ گیا رات کے سنّاٹے میں

خاموشی کے دکھ جھیلو گے ہنستے بولتے شہروں میں
نغموں کی خیرات نہ بانٹو جنم جنم کے بہروں میں

ہر شاخ سے گہنے چھین لیے ، ہر دال سے موتی بین لیے
اب کھیت سنہرے کھیت نہیں، ویرانے ہی ویرانے ہیں

طلسمِ گردشِ ایّام کس طرح ٹوٹے
نظر علیل، جنوں خام، فکر آوارہ

اس گلبدن کی بوۓ قبا یاد آگئی
صندل کے جنگلوں کی ہوا یاد آ گئی

آبلہ پائی کا ہم کو غم نہ تھا
رہنماؤں کی ہنسی تڑپا گئی

جس دم قفس میں موسمِ گل کی خبر گئی
اک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئی
کتنے ہی لوگ صاحبِ احساس ہو گئے
اک بے نوا کی چیخ بڑا کام کر گئی

اب انہیں پرسشِ حالات گراں گزرے گی
بد گمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی

دیکھ زخمی ہوا جاتا ہے دو عالم کا خلوص
ایک انساں کو تری ذات سے دکھ پہنچا ہے

سحر میں حسن ہے کیسا، بہارِ شب کیا ہے
جو دل شگفتہ نہیں ہے تو پھر یہ سب کیا ہے

گمرہی ہمیں شکیبؔ دے رہی ہے یہ فریب
رہنما غلط نہیں، راستہ طویل ہے

اس طرح گوش بر آواز ہیں اربابِ ستم
جیسے خاموشیِٔ مظلوم صدا رکھتی ہے

کسی کا قرب اگر قربِ عارضی ہے شکیبؔ
فراقِ یار کی لذّت ہی پائیدار رہے

ہوا جو صحنِ گلستاں میں راج کانٹوں کا
صبا بھی پوچھنے آئی مزاج کانٹوں کا

ہم نے گھبرا کے موند لیں آنکھیں
جب کوئی تارہ ٹوٹتا دیکھا

تھکن سے چور ہیں پاؤں کہاں کہاں بھٹکیں
ہر ایک گام نیا حسن رہ گزار سہی

کمتر نہ جانیں لوگ اسے مہر و ماہ سے
ہم نے گرا دیا جسے اپنی نگاہ سے

یہ لطف زہر نہ بن جاۓ زندگی کے لیے
چلے تو آۓ ہو تجدیدِ دوستی کے لیے

ہم نے جسے آزاد کیا حلقۂِ شب سے
حاصل نہیں ہم کو اسی سورج کا اجالا

ہم اپنے چاکِ قبا کو رفو تو کر لیتے
مگر وہی ہے ابھی تک مزاج کانٹوں کا

سچ کہو میری یاد بھی آئی؟
جب کبھی تم نے آئینہ دیکھا

سکوں بدوش کنارا بھی اب ابھر آئے
سفینہ ہائے دل و جاں بھنور کے پار سہی

یا میں بھٹک گیا ہوں سرِ رہ گزر شکیب
یا ہٹ گئی ہے منزلِ مقسود راہ سے

نہ جانے ہو گیا کیوں مطمئن تجھے پا کر
بھٹک رہا تھا مرا دل خود آگہی کے لیے
شکیب جلالی

آج وہاں قوالی ہو گی جون چلو درگاہ چلیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 99
شام ہوئی ہے یار آئے ہیں یاروں کے ہمراہ چلیں
آج وہاں قوالی ہو گی جون چلو درگاہ چلیں
اپنی گلیاں اپنے رمنے اپنے جنگل اپنی ہوا
چلتے چلتے وجد میں آئیں راہوں میں بے راہ چلیں
جانے بستی میں جنگل ہو یا جنگل میں بستی ہو
ہے کیسی کچھ نا آگاہی آؤ چلو ناگاہ چلیں
کوچ اپنا اس شہر طرف ہے نامی ہم جس شہر کے ہیں
کپڑے پھاڑیں خاک بہ سر ہوں اور بہ عزّو جاہ چلیں
راہ میں اس کی چلنا ہے تو عیش کرا دیں قدموں کو
چلتے جائیں ، چلتے جائیں یعنی خاطر خواہ چلیں
جون ایلیا

آسماں تک سیاہ کرتے تھے

دیوان ششم غزل 1901
ہم کبھو غم سے آہ کرتے تھے
آسماں تک سیاہ کرتے تھے
اے خوشا حال اس کا جس کا وے
حال عمداً تباہ کرتے تھے
برسوں رہتے تھے راہ میں اس کی
تب کچھ اک اس سے راہ کرتے تھے
نیچی آنکھیں ہم اس کو دیکھا کیے
کبھو اونچی نگاہ کرتے تھے
ہے جوانی کہ موسم گل میں
جاے طاعت گناہ کرتے تھے
کیا زمانہ تھا وہ جو گذرا میر
ہم دگر لوگ چاہ کرتے تھے
میر تقی میر

پہ یہ غم ہے میں بھی سر راہ ہوں

دیوان ششم غزل 1846
تری راہ میں گرچہ اے ماہ ہوں
پہ یہ غم ہے میں بھی سر راہ ہوں
مرے درپئے خون ناحق ہے تو
نہ خوندار ہوں میں نہ خونخواہ ہوں
تری دوستی سے جو دشمن ہیں سب
انھوں کے بھی خوں تک میں ہمراہ ہوں
نہ سمجھو مجھے بے خبر اس قدر
تہ دل سے لوگوں کے آگاہ ہوں
مری کجروی سادگی سے ہے میر
بہت اس رویے پہ گمراہ ہوں
میر تقی میر

صوفی ہوا کو دیکھ کے کاش آوے راہ پر

دیوان ششم غزل 1825
آیا ہے ابر قبلہ چلا خانقاہ پر
صوفی ہوا کو دیکھ کے کاش آوے راہ پر
وہ آنکھ اٹھا کے شرم سے کب دیکھے ہے ولے
ہوتے ہیں خون نیچی بھی اس کی نگاہ پر
بالفرض چاہتا ہے گنہ لیک میری جاں
واجب ہے خون کرنا کہاں اس گناہ پر
کیا بحث میرے وقر سے میں ہوں فقیر محض
ہے اس گلی میں حرف و سخن عزشاہ پر
تہ سے سخن کے لوگ نہ تھے آشنا عبث
جاگہ سے تم گئے انھوں کی واہ واہ پر
ڈر چشم شور چرخ سے گل پھول یک طرف
آنکھ اس دنی کی دوڑے ہے اک برگ کاہ پر
دیکھی ہے جن نے یار کے رخسار کی جھمک
اس کی نظر گئی نہ شب مہ میں ماہ پر
ہم جاں بہ لب پتنگوں کی سدھ لیجیو شتاب
موقوف اپنا جانا ہے اب ایک آہ پر
کہتے تو ہیں کہ ہم بھی تمھیں چاہتے ہیں میر
پر اعتماد کس کو ہے خوباں کی چاہ پر
میر تقی میر

رنج ویسے ہی ہیں نباہ کے بیچ

دیوان ششم غزل 1819
لطف جیسے ہیں اس کی چاہ کے بیچ
رنج ویسے ہی ہیں نباہ کے بیچ
ذوق صید اس کو تھا تو خیل ملک
دھوم رکھتے تھے دام گاہ کے بیچ
کب مزہ ہے نماز صبح میں وہ
جو صبوحی کے ہے گناہ کے بیچ
اس غصیلے کی سرخ آنکھیں دیکھ
اٹھے آشوب خانقاہ کے بیچ
جان و دل دونوں کرگئے تھے غش
دیکھ اس رشک مہ کو راہ کے بیچ
اس کی چشم سیہ ہے وہ جس نے
کتنے جی مارے اک نگاہ کے بیچ
سانجھ ہی رہتی پھر اگر ہوتا
کچھ اثر نالۂ پگاہ کے بیچ
کیا رہیں جور سے بتوں کے ہم
رکھ لے اپنی خدا پناہ کے بیچ
منھ کی دو جھائیوں سے مت شرما
جھائیں ہوتی ہے روے ماہ کے بیچ
میر بیمار ہے کہ فرق نہیں
متصل اس کے آہ آہ کے بیچ
میر تقی میر

ماتم کدے کو دہر کے تو عیش گاہ کر

دیوان پنجم غزل 1619
خندہ بجاے گریہ و اندوہ و آہ کر
ماتم کدے کو دہر کے تو عیش گاہ کر
کیا دیکھتا ہے ہر گھڑی اپنی ہی سج کو شوخ
آنکھوں میں جان آئی ہے ایدھر نگاہ کر
رحمت اگر یقینی ہے تو کیا ہے زہد شیخ
اے بیوقوف جاے عبادت گناہ کر
چھوڑ اب طریق جور کو اے بے وفا سمجھ
نبھتی نہیں یہ چال کسو دل میں راہ کر
چسپیدگی داغ سے مت منھ کو اپنے موڑ
اے زخم کہنہ دل سے ہمارے نباہ کر
جیتے جی میرے لینے نہ پاوے طپش بھی دم
اتنی تو سعی تو بھی جگر خوامخواہ کر
اس وقت ہے دعا و اجابت کا وصل میر
یک نعرہ تو بھی پیش کش صبح گاہ کر
میر تقی میر

چشم سیاہ ملاکر یوں ہی مجھ کو خانہ سیاہ نہ کر

دیوان چہارم غزل 1388
تجھ کو ہے سوگند خدا کی میری اور نگاہ نہ کر
چشم سیاہ ملاکر یوں ہی مجھ کو خانہ سیاہ نہ کر
عشق و محبت یاری میں اک لطف رکھے ہے کرنا ضبط
چھاتی پہ جو ہو کوہ الم کا تو بھی نالہ وآہ نہ کر
مانگ پناہ خدا سے بندے دل لگنا اک آفت ہے
عشق نہ کر زنہار نہ کر واللہ نہ کر باللہ نہ کر
گھاس ہے میخانے کی بہتر ان شیخوں کے مصلے سے
پائوں نہ رکھ سجادے پہ ان کے اس جادے سے راہ نہ کر
میر نہ ہم کہتے تھے تجھ سے حال نہیں کچھ رہنے کا
چاہ بلاے جان و دل ہے آ جانے دے چاہ نہ کر
میر تقی میر

یہ چوٹ ہی رہی ہے اس روسیاہ کو بھی

دیوان سوم غزل 1291
ٹھوکر لگاکے چلنا اس رشک ماہ کو بھی
یہ چوٹ ہی رہی ہے اس روسیاہ کو بھی
اس شاہ حسن کی کچھ مژگاں پھری ہوئی ہیں
غمزے نے ورغلایا شاید سپاہ کو بھی
کی عمر صرف ساری پر گم ہے مطلب اپنا
منزل نہ پہنچے ہم تو طے کرکے راہ کو بھی
سر پھوڑنا ہمارا اس لڑکے پر نہ دیکھو
ٹک دیکھو اس شکست طرف کلاہ کو بھی
کرتی نہیں خلش ہی مژگان یار دل میں
کاوش رہی ہے جی سے اس کی نگاہ کو بھی
خوں ریزی کے تو لاگو ہوتے نہیں یکایک
پہلے تو پوچھتے ہیں ظالم گناہ کو بھی
جوں خاک سے ہے یکساں میرا نہال قامت
پامال یوں نہ ہوتے دیکھا گیاہ کو بھی
ہر لحظہ پھیر لینا آنکھوں کا ہم سے کیا ہے
منظور رکھیے کچھ تو بارے نباہ کو بھی
خواہش بہت جو ہو تو کاہش ہے جان و دل کی
کچھ کم کر ان دنوں میں اے میر چاہ کو بھی
میر تقی میر

فقیروں کی اللہ اللہ ہے

دیوان سوم غزل 1289
چلے ہم اگر تم کو اکراہ ہے
فقیروں کی اللہ اللہ ہے
نہ افسر ہے نے درد سر نے کلہ
کہ یاں جیسا سر ویسا سرواہ ہے
جہاں لگ چلے گل سے ہم داغ ہیں
اگرچہ صبا بھی ہواخواہ ہے
غم عشق ہے ناگہانی بلا
جہاں دل لگا کڑھنا جانکاہ ہے
چراغان گل سے ہے کیا روشنی
گلستاں کسو کی قدم گاہ ہے
محبت ہے دریا میں جا ڈوبنا
کنوئیں میں بھی گرنا یہی چاہ ہے
کلی سا ہے کہتے ہیں منھ یار کا
نہیں معتبر کچھ یہ افواہ ہے
نہ کی کوتہی بت پرستی میں کچھ
خدا اس عقیدے سے آگاہ ہے
گیا میر کے جی کی سن کر وہ شوخ
لگا کہنے سب کو یہی راہ ہے
میر تقی میر

یار تک پھر تو کس قدر ہے راہ

دیوان سوم غزل 1243
رستے سے چاک دل کے ہو آگاہ
یار تک پھر تو کس قدر ہے راہ
رہتی ہے خلق آہ شب سے تنگ
وے نہیں سنتے میری بات اللہ
آنکھ اس منھ پہ کس طرح کھولوں
جوں پلک جل رہی ہے میری نگاہ
خط مرا دیکھ دیکھ کہنے لگا
ہائے کیا کیا لکھے ہے نامہ سیاہ
ہیں مسلمان ان بتوں سے ہمیں
عشق ہے لا الٰہ الا اللہ
پلکیں اس طور روتے روتے گئیں
سبزہ ہوتا ہے جس طرح لب چاہ
میر کعبے سے قصد دیر کیا
جائو پیارے بھلا خدا ہمراہ
میر تقی میر

ہو تخت کچھ دماغ تو ہم پادشاہ ہیں

دیوان سوم غزل 1212
افیوں ہی کے تو دل شدہ ہم رو سیاہ ہیں
ہو تخت کچھ دماغ تو ہم پادشاہ ہیں
یاں جیسے شمع بزم اقامت نہ کر خیال
ہم دل کباب پردے میں سرگرم راہ ہیں
کہنا نہ کچھ کبھو کھڑے حسرت سے دیکھنا
ہم کشتنی ہیں واقعی گر بے گناہ ہیں
گہ مہرباں ہوں دور سے گہ آنکھیں پھیر لیں
معشوق آفتاب ہیں عشاق ماہ ہیں
آنکھیں ہماری پائوں تلے کیوں نہ وہ ملے
ہم بھی تو میر کشتۂ طرز نگاہ ہیں
میر تقی میر

مارا ہے بے گناہ و گناہ اس طرف ہنوز

دیوان سوم غزل 1140
ہے تند و تیز اس کی نگاہ اس طرف ہنوز
مارا ہے بے گناہ و گناہ اس طرف ہنوز
سر کاٹ کر ہم اس کے قدم کے تلے رکھا
ٹیڑھی ہے اس کی طرف کلاہ اس طرف ہنوز
مدت سے مثل شب ہے مرا تیرہ روزگار
آتا نہیں وہ غیرت ماہ اس طرف ہنوز
پتھرا گئیں ہیں آنکھیں مری نقش پا کے طور
پڑتی نہیں ہے یار کی راہ اس طرف ہنوز
جس کی جہت سے مرنے کے نزدیک پہنچے ہم
پھرتا نہیں وہ آن کے واہ اس طرف ہنوز
آنکھیں ہماری مند چلیں ہیں جس بغیر یاں
وہ دیکھتا بھی ٹک نہیں آہ اس طرف ہنوز
برسوں سے میر ماتم مجنوں ہے دشت میں
روتا ہے آ کے ابر سیاہ اس طرف ہنوز
میر تقی میر

یا اب کی وے ادائیں جو دل سے آہ نکلے

دیوان دوم غزل 994
یا پہلے وے نگاہیں جن سے کہ چاہ نکلے
یا اب کی وے ادائیں جو دل سے آہ نکلے
کیونکر نہ چپکے چپکے یوں جان سے گذریے
کہیے بتھا جو اس سے باتوں کی راہ نکلے
زردی رنگ و رونا دونوں دلیل کشتن
خوش طالعی سے میری کیا کیا گواہ نکلے
اے کام جاں ہے تو بھی کیا ریجھ کا پچائو
مر جایئے تو منھ سے تیرے نہ واہ نکلے
خوبی و دلکشی میں صدچند ہے تو اس سے
تیرے مقابلے کو کس منھ سے ماہ نکلے
یاں مہر تھی وفا تھی واں جور تھے ستم تھے
پھر نکلے بھی تو میرے یہ ہی گناہ نکلے
غیروں سے تو کہے ہے اچھی بری سب اپنی
اے یار کب کے تیرے یہ خیر خواہ نکلے
رکھتے تو ہو مکدر پر اس گھڑی سے ڈریو
جب خاک منھ پہ مل کر یہ روسیاہ نکلے
اک خلق میر کے اب ہوتی ہے آستاں پر
درویش نکلے ہے یوں جوں بادشاہ نکلے
میر تقی میر

چاہ وہ ہے جو ہو نباہ کے ساتھ

دیوان دوم غزل 941
لطف کیا ہر کسو کی چاہ کے ساتھ
چاہ وہ ہے جو ہو نباہ کے ساتھ
وقت کڑھنے کے ہاتھ دل پر رکھ
جان جاتی رہے نہ آہ کے ساتھ
عشق میں ترک سر کیے ہی بنے
مشورت تو بھی کر کلاہ کے ساتھ
ہو اگرچند آسماں پہ ولے
نسبت اس مہ کو کیا ہے ماہ کے ساتھ
سفری وہ جو مہ ہوا تا دیر
چشم اپنی تھی گرد راہ کے ساتھ
جاذبہ تو ان آنکھوں کا دیکھا
جی کھنچے جاتے ہیں نگاہ کے ساتھ
میر سے تم برے ہی رہتے ہو
کیا شرارت ہے خیرخواہ کے ساتھ
میر تقی میر

سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ

دیوان دوم غزل 936
یاد جب آتی ہے وہ زلف سیاہ
سانپ سا چھاتی پہ پھر جاتا ہے آہ
کھل گیا منھ اب تو اس محجوب کا
کچھ سخن کی بھی نکل آوے گی راہ
شرم کرنی تھی مرا سر کاٹ کر
سو تو ان نے اور ٹیڑھی کی کلاہ
یار کا وہ ناز اپنا یہ نیاز
دیکھیے ہوتا ہے کیونکر یوں نباہ
دین میں اس کافر بے رحم کے
اجر اک رکھتا ہے خون بے گناہ
پتھروں سے سینہ کوبی میں نے کی
دل کے ماتم میں مری چھاتی سراہ
مول لے چک مجھ کو آنکھیں موند کر
دیکھ تو قیمت ہے میری اک نگاہ
لذت دنیا سے کیا بہرہ ہمیں
پاس ہے رنڈی ولے ہے ضعف باہ
روٹھ کر کیا آپ سے ملنے میں لطف
ہووے وہ بھی تو کبھو ٹک عذر خواہ
ضبط بہتیرا ہی کرتے ہیں ولے
آہ اک منھ سے نکل جاتی ہے گاہ
اس کے رو کے رفتہ ہی آئے ہیں یاں
آج سے تو کچھ نہیں یہ جی کی چاہ
دیکھ رہتے دھوکے اس رخسار کے
دایہ منھ دھوتے جو کہتی ماہ ماہ
شیخ تونے خوب سمجھا میر کو
واہ وا اے بے حقیقت واہ واہ
میر تقی میر

کس قدر مغرور ہے اللہ تو

دیوان دوم غزل 912
ملتفت ہوتا نہیں ہے گاہ تو
کس قدر مغرور ہے اللہ تو
مجھ سے کتنے جان سے جاتے رہے
کس کی میت کے گیا ہمراہ تو
بے خودی رہتی ہے اب اکثر مجھے
حال سے میرے نہیں آگاہ تو
اس کے دل میں کام کرنا کام ہے
یوں فلک پر کیوں نہ جا اے آہ تو
فرش ہیں آنکھیں ہی تیری راہ میں
آہ ٹک تو دیکھ کر چل راہ تو
جی تلک تو منھ نہ موڑیں تجھ سے ہم
کر جفا و جور خاطر خواہ تو
کاہش دل بھی دو چنداں کیوں نہ ہو
آنکھ میں آوے نہ دو دو ماہ تو
دل دہی کیا کی ہے یوں ہی چاہیے
اے زہے تو آفریں تو واہ تو
میر تو تو عاشقی میں کھپ گیا
مت کسی کو چند روز اب چاہ تو
میر تقی میر

آنکھوں میں یوں ہماری عالم سیاہ تا چند

دیوان دوم غزل 796
رہیے بغیر تیرے اے رشک ماہ تا چند
آنکھوں میں یوں ہماری عالم سیاہ تا چند
اب دیکھنے میں پیارے ٹک تو بڑھا عنایت
کوتاہ تر پلک سے ایدھر نگاہ تا چند
خط سے جو ہے گرفتہ وہ مہ نہیں نکلتا
مانند چشم اختر ہم دیکھیں راہ تا چند
عمر عزیز ساری منت ہی کرتے گذری
بے جرم آہ رہیے یوں عذر خواہ تا چند
یاں ناز و سرکشی سے کیا دیکھتا نہیں ہے
کج اس چمن میں ٹھہری گل کی کلاہ تا چند
جب مہ ادھر سے نکلا جانا وہ گھر سے نکلا
رکھتا ہے داغ دیکھیں یہ اشتباہ تا چند
ایذا بھی کھنچ چکے گر جو ہفتے عشرے کی ہو
اس طرح مرتے رہیے اے میر آہ تا چند
میر تقی میر

شمع مزار میر بجز آہ کون ہے

دیوان اول غزل 576
مجھ سوز بعد مرگ سے آگاہ کون ہے
شمع مزار میر بجز آہ کون ہے
بیکس ہوں مضطرب ہوں مسافر ہوں بے وطن
دوری راہ بن مرے ہمراہ کون ہے
لبریز جس کے حسن سے مسجد ہے اور دیر
ایسا بتوں کے بیچ وہ اللہ کون ہے
رکھیو قدم سنبھل کے کہ تو جانتا نہیں
مانند نقش پا یہ سر راہ کون ہے
ایسا اسیر خستہ جگر میں سنا نہیں
ہر آہ میر جس کی ہے جانکاہ کون ہے
میر تقی میر

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

دیوان اول غزل 528
شش جہت سے اس میں ظالم بوے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب
کاروان لخت دل ہر اشک کے ہمراہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے
یہ دوسالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
پابرہنہ خاک سر میں موپریشاں سینہ چاک
حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دلخواہ ہے
اس جنوں پر میر کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادئہ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے
میر تقی میر

گل اک دل ہے جس میں تری چاہ ہے

دیوان اول غزل 482
چمن یار تیرا ہواخواہ ہے
گل اک دل ہے جس میں تری چاہ ہے
سراپا میں اس کے نظر کرکے تم
جہاں دیکھو اللہ اللہ ہے
تری آہ کس سے خبر پایئے
وہی بے خبر ہے جو آگاہ ہے
مرے لب پہ رکھ کان آواز سن
کہ اب تک بھی یک ناتواں آہ ہے
گذر سر سے تب عشق کی راہ چل
کہ ہر گام یاں اک خطر گاہ ہے
کبھو وادی عشق دکھلایئے
بہت خضر بھی دل میں گمراہ ہے
جہاں سے تو رخت اقامت کو باندھ
یہ منزل نہیں بے خبر راہ ہے
نہ شرمندہ کر اپنے منھ سے مجھے
کہا میں نے کب یہ کہ تو ماہ ہے
یہ وہ کارواں گاہ دلکش ہے میر
کہ پھر یاں سے حسرت ہی ہمراہ ہے
میر تقی میر

بلکہ دی جان اور آہ نہ کی

دیوان اول غزل 437
بات شکوے کی ہم نے گاہ نہ کی
بلکہ دی جان اور آہ نہ کی
گل و آئینہ ماہ و خور کن نے
چشم اس چہرے پر سیاہ نہ کی
کعبے سو بار وہ گیا تو کیا
جس نے یاں ایک دل میں راہ نہ کی
واہ اے عشق اس ستمگر نے
جاں فشانی پہ میری واہ نہ کی
جس سے تھی چشم ہم کو کیا کیا میر
اس طرف ان نے اک نگاہ نہ کی
میر تقی میر

ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ

دیوان اول غزل 426
جز جرم عشق کوئی بھی ثابت کیا گناہ
ناحق ہماری جان لی اچھے ہو واہ واہ
اب کیسا چاک چاک ہو دل اس کے ہجر میں
گتھواں تو لخت دل سے نکلتی ہے میری آہ
شام شب وصال ہوئی یاں کہ اس طرف
ہونے لگا طلوع ہی خورشید رو سیاہ
گذرا میں اس سلوک سے دیکھا نہ کر مجھے
برچھی سی لاگ جا ہے جگر میں تری نگاہ
دامان و جیب چاک خرابی و خستگی
ان سے ترے فراق میں ہم نے کیا نباہ
بیتابیوں کو سونپ نہ دینا کہیں مجھے
اے صبر میں نے آن کے لی ہے تری پناہ
خوں بستہ بارے رہنے لگی اب تو یہ مژہ
آنسو کی بوند جس سے ٹپکتی تھی گاہ گاہ
گل سے شگفتہ داغ دکھاتا ہوں تیرے تیں
گر موافقت کرے ہے تنک مجھ سے سال و ماہ
گر منع مجھ کو کرتے ہیں تیری گلی سے لوگ
کیونکر نہ جائوں مجھ کو تو مرنا ہے خوامخواہ
ناحق الجھ پڑا ہے یہ مجھ سے طریق عشق
جاتا تھا میر میں تو چلا اپنی راہ راہ
میر تقی میر

کیا پوچھتے ہو الحمدللہ

دیوان اول غزل 424
اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ
کیا پوچھتے ہو الحمدللہ
مر جائو کوئی پروا نہیں ہے
کتنا ہے مغرور اللہ اللہ
پیر مغاں سے بے اعتقادی
استغفر اللہ استغفر اللہ
کہتے ہیں اس کے تو منھ لگے گا
ہو یوں ہی یارب جوں ہے یہ افواہ
حضرت سے اس کی جانا کہاں ہے
اب مر رہے گا یاں بندہ درگاہ
سب عقل کھوئے ہے راہ محبت
ہو خضر دل میں کیسا ہی گمراہ
مجرم ہوئے ہم دل دے کے ورنہ
کس کو کسو سے ہوتی نہیں چاہ
کیا کیا نہ ریجھیں تم نے پچائیں
اچھا رجھایا اے مہرباں آہ
گذرے ہے دیکھیں کیونکر ہماری
اس بے وفا سے نے رسم نے راہ
تھی خواہش دل رکھنا حمائل
گردن میں اس کی ہر گاہ و بیگاہ
اس پر کہ تھا وہ شہ رگ سے اقرب
ہرگز نہ پہنچا یہ دست کوتاہ
ہے ماسوا کیا جو میر کہیے
آگاہ سارے اس سے ہیں آگاہ
جلوے ہیں اس کے شانیں ہیں اس کی
کیا روز کیا خور کیا رات کیا ماہ
ظاہر کہ باطن اول کہ آخر
اللہ اللہ اللہ اللہ
میر تقی میر

جی ہی جانے ہے آہ مت پوچھو

دیوان اول غزل 405
اس کی طرز نگاہ مت پوچھو
جی ہی جانے ہے آہ مت پوچھو
کہیں پہنچوگے بے رہی میں بھی
گمرہاں یوں یہ راہ مت پوچھو
نوگرفتار دام زلف اس کا
ہے یہی رو سیاہ مت پوچھو
ہیں گی برگشتہ وے صف مژگاں
پھر گئی ہے سپاہ مت پوچھو
تھا کرم پر اسی کے شرب مدام
میرے اعمال آہ مت پوچھو
تم بھی اے مالکان روز جزا
بخش دو اب گناہ مت پوچھو
میر عاشق کو کچھ کہے ہی بنے
خواہ وہ پوچھو خواہ مت پوچھو
میر تقی میر

پر ایک حیلہ سازی ہے اس دست گاہ میں

دیوان اول غزل 312
سب خوبیاں ہیں شیخ مشیخت پناہ میں
پر ایک حیلہ سازی ہے اس دست گاہ میں
مانند شمع ہم نے حضور اپنے یار کے
کار وفا تمام کیا ایک آہ میں
میں صید جو ہوا تو ندامت اسے ہوئی
یک قطرہ خون بھی نہ گرا صیدگاہ میں
پہنچے نہیں کہیں کہ نہیں واں سے اٹھ چلے
القصہ ایک عمر سے ہم ہیں گے راہ میں
نکلا تھا آستین سے کل مغبچے کا ہاتھ
بہتوں کے خرقے چاک ہوئے خانقاہ میں
بخت سیہ تو دیکھ کہ ہم خاک میں ملے
سرمے کی جاے ہو تری چشم سیاہ میں
بیٹھے تھے میر یار کے دیدار کو سو ہم
اپنا یہ حال کرکے اٹھے یک نگاہ میں
میر تقی میر

اکثر نہیں تو تجھ کو میں گاہ گاہ دیکھوں

دیوان اول غزل 296
راضی ہوں گوکہ بعد از صد سال و ماہ دیکھوں
اکثر نہیں تو تجھ کو میں گاہ گاہ دیکھوں
جی انتظار کش ہے آنکھوں میں رہگذر پر
آجا نظر کہ کب تک میں تیری راہ دیکھوں
آنکھیں جو کھل رہی ہیں مرنے کے بعد میری
حسرت یہ تھی کہ اس کو میں اک نگاہ دیکھوں
یہ دل وہ جا ہے جس میں دیکھا تھا تجھ کو بستے
کن آنکھوں سے اب اجڑا اس گھر کو آہ دیکھوں
دیکھوں تو چاند اب کا گذرے ہے مجھ کو کیسا
دل ہے کہ تیرے منھ پر بے مہر ماہ دیکھوں
بخت سیہ تو اپنے رہتے ہیں خواب ہی میں
اے رشک یوسف مصر پھر کس کو چاہ دیکھوں
چشم و دل و جگر یہ سارے ہوئے پریشاں
کس کس کی تیرے غم میں حالت تباہ دیکھوں
آنکھیں تو تونے دی ہیں اے جرم بخش عالم
کیا تیری رحمت آگے اپنے گناہ دیکھوں
تاریک ہوچلا ہے آنکھوں میں میری عالم
ہوتا ہے کیونکے دل بن میرا تباہ دیکھوں
مرنا ہے یا تماشا ہر اک کی ہے زباں پر
اس مجہلے کو چل کر میں خوانخواہ دیکھوں
دیکھوں ہوں آنکھ اٹھاکر جس کو تو یہ کہے ہے
ہوتا ہے قتل کیونکر یہ بے گناہ دیکھوں
ہوں میں نگاہ بسمل گو اک مژہ تھی فرصت
تا میر روے قاتل تا قتل گاہ دیکھوں
میر تقی میر

خانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کا

دیوان اول غزل 42
گذرا بناے چرخ سے نالہ پگاہ کا
خانہ خراب ہو جیو اس دل کی چاہ کا
آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر دیکھتا نہیں
مرتا ہوں میں تو ہائے رے صرفہ نگاہ کا
صد خانماں خراب ہیں ہر ہر قدم پہ دفن
کشتہ ہوں یار میں تو ترے گھر کی راہ کا
یک قطرہ خون ہوکے پلک سے ٹپک پڑا
قصہ یہ کچھ ہوا دل غفراں پناہ کا
تلوار مارنا تو تمھیں کھیل ہے ولے
جاتا رہے نہ جان کسو بے گناہ کا
بدنام و خوار و زار و نزار و شکستہ حال
احوال کچھ نہ پوچھیے اس رو سیاہ کا
ظالم زمیں سے لوٹتا دامن اٹھا کے چل
ہو گا کمیں میں ہاتھ کسو داد خواہ کا
اے تاج شہ نہ سر کو فرو لائوں تیرے پاس
ہے معتقد فقیر نمد کی کلاہ کا
ہر لخت دل میں صید کے پیکان بھی گئے
دیکھا میں شوخ ٹھاٹھ تری صید گاہ کا
بیمار تو نہ ہووے جیے جب تلک کہ میر
سونے نہ دے گا شور تری آہ آہ کا
میر تقی میر

لو، ایک نیا سنگِ گراں راہ میں آیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 62
پھر وہم دلِ یار کم آگاہ میں آیا
لو، ایک نیا سنگِ گراں راہ میں آیا
دُنیا نے تو آغوشِ ہوس کی تھی کشادہ
کچھ میں ہی نہ اس حلقۂ کوتاہ میں آیا
دل سکۂ زر تھا کہیں مقتل میں ہوا گم
اک کاسۂ سر نذرِ شہنشاہ میں آیا
اک درد نیا سینۂ پُرشور میں جاگا
ایک اور رجز خواں صفِ جنگاہ میں آیا
عرفان صدیقی

مگر دماغ کسی جہل کی سپاہ میں ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 622
کتاب ہاتھ میں ہے اور کج، کلاہ میں ہے
مگر دماغ کسی جہل کی سپاہ میں ہے
بلند بام عمارت کی آخرش منزل
مقامِ صفر کی بے رحم بارگاہ میں ہے
پڑی ہے ایش ٹرے میں سلگتے لمس کی راکھ
ملن کی رات ابھی عرصہء گناہ میں ہے
بھٹکتا پھرتا ہوں ظلمات کے جزیرے میں
بڑا اندھیرا کسی دیدئہ سیاہ میں ہے
پسِ فراق ہے موجود وصل کا چہرہ
چراغ صبحِ ازل سے مزارِ آہ میں ہے
ترے وصال کی راتوں کی خیر ہو لیکن
وہ بات تجھ میں نہیں ہے جو تیری چاہ میں ہے
کبھی تو ہو گا تمنا کی منزلوں سے پرے
ابھی تو تیرا مسافر طلب کی راہ میں ہے
رکا نہیں ہوں کسی ڈاٹ کام پر منصور
گلوب پاؤں تلے تو خلا نگاہ میں ہے
منصور آفاق

صحنِ سفید پوش میں کالی سیاہ دھوپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 246
غم کی طویل رات کا اک انتباہ دھوپ
صحنِ سفید پوش میں کالی سیاہ دھوپ
احمق ہے جانتی ہی نہیں میری برف کو
جم جائے آپ ہی نہ کہیں بادشاہ دھوپ
میں چل رہا ہوں تیری تمنا کے دشت میں
میرے رفیق آبلے، میری گواہ دھوپ
پردے ابھی نہ کھینچ مری کھڑکیوں کے دوست
مجھ سے بڑھا رہی ہے ذرا رسم و راہ دھوپ
برطانیہ کی برف میں کتنی یتیم ہے
صحرائے تھل میں جو تھی بڑی کج کلاہ دھوپ
جھلسا دیا دماغ بھی چہروں کے ساتھ ساتھ
مشرق کے المیے میں نہیں بے گناہ دھوپ
منصور اپنی چھت سے رہو ہمکلام بس
تنہائیوں کی شہر میں ہے بے پناہ دھوپ
منصور آفاق

لبھ لئے چانن نھیریو، چمکن چارے راہ

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 7
اکھ جے ہووے ویکھدی، سُکھ دے لکھ وِساہ
لبھ لئے چانن نھیریو، چمکن چارے راہ
مینوں جیئون نہ دینوندا، کِھچدا اک اک ساہ
تیرے ملن نہ ملن دا، پہل سمے دا تراہ
اندر دی اِک زہر سی، دھا گئی وچ وجود
اکھیں پھرن رتینجناں، جگرا ہویا سواہ
پئی سی کنڈھے آپنے، پیر کسے دی دَب
کھُریا جیوندا جیوڑا، شوہ نوں لگ گئی ڈھاہ
جُرمیاں نوں تے فیر وی، جُرمی لیندے کج
میں بے دوش فقیر دا، دینا کس وِساہ
سجری آس امید دی، دھرت نہ ایویں بِیج
ہو سکی تے ماجداُ، پچھلے لاہنے لاہ
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)