ٹیگ کے محفوظات: راہگزر

ہُوئے اجنبی وہی بام و در ترے شہر میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
تھے جو آشنائے دل و نظر ترے شہر میں
ہُوئے اجنبی وہی بام و در ترے شہر میں
کبھی سر پہ میرے بھی باز بیٹھا تھا آن کے
کسی روز میں بھی تھا تاجور ترے شہر میں
وہ نظر کہ جس سے تھے دل کو تجھ سے معاملے
ہے اُجاڑ اب وہی راہگزر ترے شہر میں
وہ ستم کبھی سر عام جس کو رواج تھا
وہی اب روا ہے پسِ نظر ترے شہر میں
ہمیں تھے کبھی ترے نیّرِ اُفقِ نگاہ
ہمیں ذرّہ ذرّہ گئے بکھر ترے شہر میں
کیا اختیار سخن تو کب یہ گمان تھا
کہ کرے گا خوار یہی ہنر ترے شہر میں
ماجد صدیقی

جلوہ ترا برنگِ دِگر دیکھتا رہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
گہ تجھ کو، گاہ نورِ سحر دیکھتا رہوں
جلوہ ترا برنگِ دِگر دیکھتا رہوں
دِل کے دئیے سے اُٹھتی رہیں یاد کی لَویں
تیرا جمال شعلہ بہ سر دیکھتا رہوں
پل پل برنگِ برق ترا سامنا رہے
رہ رہ کے اپنی تابِ نظر دیکھتا رہوں
پہروں رہے خیال ترا ہمکنار دل
دن رات تیری راہگزر دیکھتا رہوں
ماجدؔ سناؤں شہر بہ تشریح اب کِسے
اِس سے تو آپ اپنا ہنر دیکھتا رہوں
ماجد صدیقی

پھیلتے جا رہے ہیں کھنڈر سامنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
کوئی بستی نہ دیوار و در سامنے
پھیلتے جا رہے ہیں کھنڈر سامنے
اپنی جانب لپکتے قدم دیکھ کر
مُسکراتے ہیں گل شاخ پر سامنے
یاد میں تھیں صبا کی سی اٹکھیلیاں
جانے کیا کچھ رہا رات بھر سامنے
زندگی ہے کہ آلام کی گرد سے
ہانپتی ہے کوئی راہگزر سامنے
رات تھی جیسے جنگل کا تنہا سفر
چونک اُٹھے جو دیکھی سحر سامنے
آئنے ہیں مقابل جِدھر دیکھیے
اپنی صورت ہے با چشمِ ترا سامنے
ہم ہیں ماجدؔ سُلگتے دئیے رات کے
بُجھ گئے بھی تو ہو گی سحر سامنے
ماجد صدیقی

چاند اُبھرے گا مگر آخرِ شب

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
جگمگائیں گے نگر آخر شب
چاند اُبھرے گا مگر آخرِ شب
سانس کی نَے سے پکارے گا تجھے
غم باندازِ دِگر آخرِ شب
طے کرے گی رُخِ جاناں کی ضیا
دل سے آنکھوں کا سفر آخر شب
خامشی گرد کی صورت پس و پیش
چاندنی خاک بہ سر آخرِ شب
پرتوِ کاہکشاں ٹھہرے گی
پیار کی راہگزر آخرِ شب
دل کو ویراں ہی نہ کر دے ماجدؔ
آرزوؤں کا مفر آخرِ شب
ماجد صدیقی

پھر کیوں نہ ہر قدم پہ نئی رہگزر ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
تو مُدّعا ہو اور ترا غم ہمسفر ملے
پھر کیوں نہ ہر قدم پہ نئی راہگزر ملے
اَب ہم سے مستیاں وہ، طلب کر نہ اے صبا!
مدّت ہوئی کسی کی نظر سے نظر ملے
حُسنِ حبیب اَب لب و رُخسار تک نہیں
اَب تو جنوں بضد ہے کہ حُسنِ نظر ملے
اِک عمر سے گھرے ہیں اِسی بے بسی میں ہم
تجھ تک اُڑان کو نہ مگر بال و پر ملے
مُطرب! بہ رقص گا، مرے ماجدؔ کی یہ غزل
تجھ سے مرا وہ سروِ چراغاں اگر ملے
ماجد صدیقی

وہ میرے سامنے تھے مگر کچھ نہ پوچھیے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 145
ان کی تجلیوں کا اشر کچھ نہ پوچھیے
وہ میرے سامنے تھے مگر کچھ نہ پوچھیے
از شامِ ہجر تا بہ سحر کچھ نہ پوچھیے
کٹتے ہیں کیسے چار پہر کچھ نہ پوچھیے
بجلی جو شاخ، گل پہ گری اس کا غم نہیں
لیکن وہ اک غریب کا گھر کچھ نہ پوچھیے
ہو ایک راستہ تو کوئی ڈھونڈے انھیں
کتنی ہے ان کی راہگزر کچھ نہ پوچھیے
تنکے وہ نرم نرم سے پھولوں کی چھاؤں میں
کیسا بنا تھا باغ میں گھر کچھ نہ پوچھیے
بس آپ دیکھ جایئے صورت مریض کی
نبضوں کا حال دردِ جگر کچھ نہ پوچھیے
جب چاندنی میں آ کے ہوئے تو وہ میہماں
تاروں بھری وہ رات قمر کچھ نہ پوچھیے
قمر جلالوی

سمجھو کہ خواب تھا کہ سحر اس میں گم ہوئی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 143
منظر سا تھا کوئی کہ نظر اس میں گم ہوئی
سمجھو کہ خواب تھا کہ سحر اس میں گم ہوئی
سودائے رنگ وہ تھا کہ اترا خود اپنا رنگ
پھر یہ کہ ساری جنسِ ہنر اس میں گم ہوئی
وہ میرا اک گمان کہ منزل تھا جس کا نام
ساری متاعِ شوقِ سفر اس میں گم ہوئی
دیوار کے سوا نہ رہا کچھ دلوں کے بیچ
ہر صورتِ کشایشِ در اس میں گم ہوئی
لائے تھے رات اس کی خبر قاصدانِ دل
دل میں وہ شور اٹھا کہ خبر اس میں گم ہوئی
اک فیصلے کا سانس تھا اک عمر کا سفر
لیکن تمام راہگزر اس میں گم ہوئی
بس جون کیا کہوں کہ مری ذاتِ نفع جو
جس کام میں یہاں تھا ضرور اس میں گم ہوئی
جون ایلیا

گل کھلے جاتے ہیں وہ سایہء در تو دیکھو

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 23
گرمیء شوقِ نظارہ کا اثر تو دیکھو
گل کھلے جاتے ہیں وہ سایہء در تو دیکھو
ایسے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والے
ناصحو ، پندگرو، راہگزر تو دیکھو
وہ تو وہ ہے، تمہیں ہوجائے گی الفت مجھ سے
اک نظر تم مرا محبوبِ نظر تو دیکھو
وہ جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں
دیکھنے والو کبھی اُن کا جگر تو دیکھو
دامنِ درد کو گلزار بنا رکھا ہے
آؤ اِک دن دلِ پُر خوں کا ہنر تو دیکھو
صبح کی طرح جھمکتا ہے شبِ غم کا افق
فیض، تابندگیء دیدہء تر تو دیکھو
فیض احمد فیض

پھر نور سحر دست و گریباں ہے سحر سے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 36
پھر لوٹا ہے خورشید جہانتاب سفر سے
پھر نور سحر دست و گریباں ہے سحر سے
پھر آگ بھڑکنے لگی ہر ساز طرب میں
پھر شعلے لپکنے لگے ہر دیدہ تر سے
پھر نکلا ہے دیوانہ کوئی پھونک کے گھر کو
کچھ کہتی ہے ہر راہ ہر اک راہگزر سے
وہ رنگ ہے امسال گلستاں کی فضا کا
اوجھل ہوئی دیوار قفس حد نظر سے
ساغر تو کھنکت ہیں شراب آئے نہ آئے
بادل تو گرجتے ہیں گھٹا برسے نہ برسے
پاپوش کی کیا فکر ہے، دستار سنبھالو
پایاب ہے جو موج گزرجائے گی سر سے
فیض احمد فیض

یہ راہگزر بھی دیکھ لیں گے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 230
خورشید و قمر بھی دیکھ لیں گے
یہ راہگزر بھی دیکھ لیں گے
تاروں کا طلسم ٹوٹنے دو
انوار سحر بھی دیکھ لیں گے
جلتا ہوا آشیاں تو دیکھیں
ٹوٹے ہوئے پر بھی دیکھ لیں گے
یہ نیت ناخدا رہی تو
اک روز بھنور بھی دیکھ لیں گے
قانون خدا بھی ہم نے دیکھا
ترمیم بشر بھی دیکھ لیں گے
آغوش صدف کھلی تو باقیؔ
ہم آب گہر بھی دیکھ لیں گے
باقی صدیقی

رہگزر ہی میں رہے راہگزر کے ساتھی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 180
چل سکے دل کے نہ ہمراہ نظر کے ساتھی
رہگزر ہی میں رہے راہگزر کے ساتھی
ہر کنارے کی طرف صورت دریا دیکھو
راستہ روک بھی لیتے ہیں سفر کے ساتھی
قافلے شور مچاتے ہوئے گزرے لیکن
اپنی دیوار سے آئے نہ اتر کے ساتھی
خشک شاخوں پہ سر شام جو آ بیٹھتے ہیں
وہی دو چار پرندے ہیں شجر کے ساتھی
چاک دامن کا گلہ کرتے رہے ہم باقیؔ
اور محفل سے اٹھے جھولیاں بھر کے ساتھی
باقی صدیقی

تاروں کو روند کر بھی سحر مطمئن نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 141
چھا کر دلوں پہ ان کی نظر مطمئن نہیں
تاروں کو روند کر بھی سحر مطمئن نہیں
ہونٹوں سے آہیں چھیننے والے ادھر تو دیکھ
ہم چپ تو ہو گئے ہیں مگر مطمئن نہیں
روداد غم ہے اب نئے عنواں کی فکر میں
آنسو بہا کے دیدہ تر مطمئن نہیں
غم رفتہ رفتہ بڑھتے گئے زندگی کے ساتھ
دل مطمئن ہوا تو نظر مطمئن نہیں
روز ایک تازہ حادثہ لائے کہاں سے زیست
مانا کہ دور شام و سحر مطمئن نہیں
کس کاروان شوق کا باقیؔ ہے انتظار
کیوں زندگی کی راہگزر مطمئن نہیں
باقیؔ عجیب روگ ہے یہ رنگ و بو کی پیاس
دل مطمئن ہوا تو نظر مطمئن نہیں
باقی صدیقی

کوئی کرتا ہوا فر یاد آیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 62
دشت یاد آیا کہ گھر یاد آیا
کوئی کرتا ہوا فر یاد آیا
پھر بجھی شمع جلا دی ہم نے
جانے کیا وقت سحر یاد آیا
ربط باہم کی تمنا معلوم
حادثہ ایک مگر یاد آیا
در و دیوار سے مل کر روئے
کیا ہمیں وقت سفر یاد آیا
قدم اٹھتے نہیں منزل کی طرف
کیا سر راہگزر یاد آیا
ہنس کے پھر راہنما نے دیکھا
پھر ہمیں رخت سفر یاد آیا
کسی پتھر کی حقیقت ہی کیا
دل کا آئنہ مگر یاد آیا
آنچ دامان صبا سے آئی
اعتبار گل تر یاد آیا
دل جلا دھوپ میں ایسا اب کے
پاؤں یاد آے نہ سر یاد آیا
گر پڑے ہاتھ سے کاغذ باقیؔ
اپنی محنت کا ثمر یاد آیا
زندگی گزرے گی کیونکر باقیؔ
عمر بھر کوئی اگر یاد آیا
باقی صدیقی