ٹیگ کے محفوظات: راہوں

اُبھر رہے ہیں شرارے سے کیوں نگاہوں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
کوئی تو آگ ہے اُتری جواب کے آہوں میں
اُبھر رہے ہیں شرارے سے کیوں نگاہوں میں
پہنچ گئے ہیں یہ کس مہرباں کی سازش سے
سکوں کی آس لیے، جبر کی پناہوں میں
اُفق سے دل کی تمناؤں کے جو اُبھرا تھا
پلٹ کے چاند وہ آیا نہ اپنی باہوں میں
بچے گا دام سے کیا اُس کے کوئی زندانی
ستم نے کانچ بچھائے ہوئے راہوں میں
ہمارا جرم ہوئی موسموں سے نم طلبی
شمار بات نہ کیا کیا ہوئی گناہوں میں
وہ مرغ باز ہُوا نام پر قفس جن کے
ہمیں بھی جانیے اُنہی کے خیر خواہوں میں
ہے جب سے جبر کا پہرہ سروں پہ اے ماجدؔ
نہ نفرتوں میں مزہ ہے نہ لطف چاہوں میں
ماجد صدیقی

لگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا

دیوان اول غزل 47
رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کا
لگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا
نہیں ستارے یہ سوراخ پڑ گئے ہیں تمام
فلک حریف ہوا تھا ہماری آہوں کا
گلی میں اس کی پھٹے کپڑوں پر مرے مت جا
لباس فقر ہے واں فخر بادشاہوں کا
تمام زلف کے کوچے ہیں مارپیچ اس کی
تجھی کو آوے دلا چلنا ایسی راہوں کا
اسی جو خوبی سے لائے تجھے قیامت میں
تو حرف کن نے کیا گوش داد خواہوں کا
تمام عمر رہیں خاک زیر پا اس کی
جو زور کچھ چلے ہم عجز دست گاہوں کا
کہاں سے تہ کریں پیدا یہ ناظمان حال
کہ پوچ بافی ہی ہے کام ان جلاہوں کا
حساب کاہے کا روز شمار میں مجھ سے
شمار ہی نہیں ہے کچھ مرے گناہوں کا
تری جو آنکھیں ہیں تلوار کے تلے بھی ادھر
فریب خوردہ ہے تو میر کن نگاہوں کا
میر تقی میر