ٹیگ کے محفوظات: راہبر

کس اسم کے جمال سے بابِ ہُنر کُھلے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 105
سرگوشی بہار سے خوشبو کے در کھلے
کس اسم کے جمال سے بابِ ہُنر کُھلے
جب رنگ پا بہ گِل ہوں ، ہوائیں بھی قید ہوں
کیا اُس فضا میں پرچمِ زخمِ جگر کُھلے
خیمے سے دُور ، شام ڈھلے ، اجنبی جگہ
نکلی ہوں کس کی کھوج میں ، بے وقت ، سر کُھلے
شاید کہ چاند بُھول پڑے راستہ کبھی
رکھتے ہیں اِس اُمید پہ کچھ لوگ گھر کُھلے
وہ مُجھ سے دُور خوش ہے؟ خفا ہے؟ اُداس ہے؟
کس حال میں ہے؟ کُچھ تو مرا نامہ بر کُھلے
ہر رنگ میں وہ شخص نظر کو بھلا لگے
حد یہ__کہ رُوٹھ جانا بھی اُس شوخ پر کُھلے
کُھل جائے کن ہواؤں سے رسمِ بدن رہی
خلوت میں پُھول سے کبھی تتلی اگر کُھلے
راتیں تو قافلوں کی معیت میں کاٹ لیں
جب روشنی بٹی تو کئی راہبر کُھلے
پروین شاکر

ہے گراں خود پہ اک نظر اپنی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 165
کیا ملے گی ہمیں خبر اپنی
ہے گراں خود پہ اک نظر اپنی
دوسروں کے بھلے میں بھی اے دوست
فکر ہوتی ہے بیشتر اپنی
اک سحر ظلمت جہاں سے دور
کہہ سکیں ہم جسے سحر اپنی
کارواں ہے قریب منزل کے
اب کرے فکر راہبر اپنی
پوچھتے ہیں جہاں کی ہم باقیؔ
اور کہتا ہے چارہ گر اپنی
باقی صدیقی