ٹیگ کے محفوظات: راضی

وہ میرے جھوٹ سے خوش تھا نہ سچ پہ راضی تھا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 21
شعار اپنا ہی جس کا بہانہ سازی تھا
وہ میرے جھوٹ سے خوش تھا نہ سچ پہ راضی تھا
تمام عمر اسی کے رہے یہ کیا کم ہے
بلا سے عشق حقیقی نہ تھا مجازی تھا
یہ دو دلوں کی قرابت بڑی گواہی ہے
سو کیا ہوا کوئی شاہد نہ تھا نہ قاضی تھا
نہ طنز کر کے کئی بار کہہ چکا تجھ سے
وہ میری پہلی محبت تو میرا ماضی تھا
نہ دوست یار، نہ ناصح، نہ نامہ بر، نہ رقیب
بلا کشانِ محبت سے کون راضی تھا
یہ گل شدہ سی جو شمعیں دکھائی دیتی ہیں
ہنر ان آنکھوں کا آگے ستارہ سازی تھا
عدو کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا
کوئی فراز سا کافر نہیں تھا غازی تھا
احمد فراز

ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 74
دہر میں نقشِ وفا وجہِتسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا
سبزۂ خط سے ترا کاکلِ سرکش نہ دبا
یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا
میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں
وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
دل گزر گاہ خیالِ مے و ساغر ہی سہی
گر نفَس جادۂ سرمنزلِ تقوی نہ ہوا
ہوں ترے وعدہ نہ کرنے پر بھی راضی کہ کبھی
گوش منت کشِ گلبانگِ تسلّی نہ ہوا
کس سے محرومئ قسمت کی شکایت کیجیے
ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں، سو وہ بھی نہ ہوا
مر گیا صدمۂ یک جنبشِ لب سے غالب
ناتوانی سے حریف دمِ عیسی نہ ہوا
وسعتِ رحمتِ حق دیکھ کہ بخشا جائے
مجھ سا کافرکہ جو ممنونِ معاصی نہ ہوا
مرزا اسد اللہ خان غالب