ٹیگ کے محفوظات: راستا

رہ رہ کے خیال آ رہا ہے

کیا کیا وہ ہمیں سُنا گیا ہے
رہ رہ کے خیال آ رہا ہے
اک بات نہ کہہ کے آج کوئی
باتوں میں ہمیں ہرا گیا ہے
تم خوش نہیں ہو گے ہم سے مِل کے
آ جائیں گے ہم ہمارا کیا ہے
ہم لاکھ جواز ڈھونڈتے ہوں
جو کام بُرا ہے وہ بُرا ہے
کیا فائدہ فائدے کا یارو
نقصان میں کیا مضائقہ ہے
تم ٹھیک ہی کہہ رہے تھے اُس دن
کچھ ہم نے بھی اِن دنوں سُنا ہے
جتنی ہے تری نگاہ قاتل
اُتنی ترے ہاتھ میں شِفا ہے
دوشاخہ ہے میرے ذہن میں کیوں
جب سامنے ایک راستا ہے
کہنے کو ہَرا بھرا ہے لیکن
اندر سے درخت کھوکھلا ہے
خوش کرنے کو جو کہی تھی تُو نے
باصرِؔ اُسی بات پر خفا ہے
باصر کاظمی

سلجھا نہیں جو بخت کا دھاگا ملا مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
ماتھے کی سلوٹوں سے ہے اتنا گلا مجھے
سلجھا نہیں جو بخت کا دھاگا ملا مجھے
چھابہ بغل میں اور ہے خوانچہ، کنارِ دوش
عمرِ اخیر! اور یہ کیا دے دیا مجھے
اے خاک! آرزو میں نگلنے کی تن مرا
کیسا یہ بارِ خارکشی دے دیا مجھے
ایسا ہی تیرا سبزۂ نورس پہ ہے کرم
کیا بوجھ پتھروں سا دیا اے خدا ! مجھے
کج ہو چلی زبان بھی مجھ کُوز پشت کی
کیا کیا ابھی نہیں ہے لگانی صدا مجھے
اک اک مکاں اٹھا ہے مرے سر کے راستے
کیسا یہ کارِ سخت دیا مزد کا، مجھے
بچپن میں تھا جو ہمدمِ خلوت، ملا کِیا
مکڑا قدم قدم پہ وُہی گھورتا مجھے
میں تھک گیا ہوں شامِ مسافت ہوا سے پوچھ
منزل کا آ کے دے گی بھلا کب پتا مجھے
محتاج ابر و باد ہوں پودا ہوں دشت کا
لگتی نہیں کسی بھی رہٹ کی دعا مجھے
لاتی ہے فکرِ روزیِ یک روز، ہر سحر
آہن یہ کس طرح کا پڑا کوٹنا مجھے
بارِ گراں حیات کا قسطوں میں بٹ کے بھی
ہر روز ہر قدم پہ جھُکاتا رہا مجھے
اتنا سا تھا قصور کہ بے خانماں تھا میں
کسبِ معاش میں بھی ملی ہے خلا مجھے
حکمِ شکم ہے شہر میں پھیری لگے ضرور
سُوجھے نہ چاہے آنکھ سے کچھ راستا مجھے
میں بار کش ہوں مجھ پہ عیاں ہے مرا مقام
اِحساسِ افتخار دلاتا ہے کیا مجھے
میری بھی ایک فصل ہے اُٹھ کر جو شب بہ شب
دیتی ہے صبح گاہ نیا حوصلہ مجھے
کہتا ہے ہجرتوں پہ گئے شخص کو مکاں
آ اے حریصِ رزق ! کبھی مل ذرا مجھے
ماجد صدیقی