ٹیگ کے محفوظات: رازدار

اور آسماں غبار سر رہ گذار عشق

دیوان چہارم غزل 1419
نزدیک عاشقوں کے زمیں ہے قرارعشق
اور آسماں غبار سر رہ گذار عشق
مقبول شہر ہی نہیں مجنوں ضعیف و زار
ہے وحشیان دشت میں بھی اعتبارعشق
گھر کیسے کیسے دیں کے بزرگوں کے ہیں خراب
القصہ ہے خرابۂ کہنہ دیارعشق
گو ضبط کرتے ہوویں جراحت جگر کے زخم
روتا نہیں ہے کھول کے دل رازدارعشق
مارا پڑے ہے انس ہی کرنے میں ورنہ میر
ہے دورگرد وادی وحشت شکارعشق
میر تقی میر

شبِ سیہ سے طلب حسنِ یار کرتے رہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 6
رہِ خزاں میں تلاشِ بہار کرتے رہے
شبِ سیہ سے طلب حسنِ یار کرتے رہے
خیالِ یار، کبھی ذکرِ یار کرتے رہے
اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے
نہیں شکایتِ ہجراں کہ اس وسیلے سے
ہم اُن سے رشتہء دل استوار کرتے رہے
وہ دن کہ کوئی بھی جب وجہِ انتظار نہ تھی
ہم اُن میں تیرا سوا انتظار کرتے رہے
ہم اپنے راز پہ نازاں تھے ، شرمسار نہ تھے
ہر ایک سے سخنِ‌ رازدار کرتے رہے
ضیائے بزمِ جہاں بار بار ماند ہوئی
حدیثِ شعلہ رخاں بار بار کرتے رہے
انہیں کے فیض سے بازارِ عقل روشن ہے
جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
جناح ہسپتال، کراچی
فیض احمد فیض