ٹیگ کے محفوظات: رات خیالوں میں گُم

رات خیالوں میں گُم

پھول کی پتّی ٹھہر، رات کے دل پر ہے بار

رات خیالوں میں گُم

طائرِ جاں پر نہ مار،

رات خیالوں میں گُم

کونسی یادوں میں گُم ہے شبِ تاریدہ مُو؟

رنجِ مسافت کا طُول

(جس کی ہے تُو خود رسول!)

وقت کے چہرے کا رنگ؟

جو کبھی قرمز، کبھی زرد، کبھی لاجورد

(تو کہ سیاہی میں فرد

کوریِ میداں کی مرد!)

راہ کی مہماں سرا؟ (سانس سے پستاں ترے کیسے ہمکتے رہے!)

تاجروں کا قافلہ ، ایک نظر باز تھے

حیلوں سے تکتے رہے!

راہ کی مہماں سرا، خوف سے بستر بھی سنگ

وہم سے رویا بھی دنگ

نالہ ءِ درویش سے صبح کے پیکر پہ ضرب

(ختمِ تمنّا کا کرب!)

عشق کا افسانہ گو ہرزہ گری سے نڈھال

ظلم کی شاخوں سے ژولیدہ زمانوں کی فال

حاشیہ ءِ مرگ پر رہروؤں کے نشاں

ریت کے جالوں میں گم

ریت سوالوں میں گُم

رات خیالوں میں گُم!

(سر جو اٹھائے ذرا ہم تری دعوت منائیں

جشنِ ارادت رچائیں!)

کونسی یادوں میں گُم ہے شبِ تاریدہ مُو؟

ایک جزیرہ کہیں عیش وفا کا عدن!

سحر زدہ مر د و زن رقص کناں کُو بکُو

ننگے بدن، تشنہ جاں!

کہنے لگے: دہ خدا کا ہمیں فرماں یہی،

سرد رگوں میں ہو خوں، رقص کریں پھر بھی ہم

جشن ہے کیوں۔۔۔؟

بجھتے گئے سب چراغ، زندہ رہا اِک الاؤ

جس کی دہک سے زمیں اور ہوئی آتشیں

اور ہوئی عنبریں!

اور وہ تنہا دیار چاند سے بھی دُور دست

جس میں اذاں زیرِ لب جس میں فغاں غم سے پست

ایک ہی ہُو کا کھنڈر، جبرِ ریا راد بست

فکر کے مجذوب چُب، حرف کے دیوانے مست

(تجھ کو رہی نور بھر سطحِ خدا کی تلاش

جس کو کوئی چھو سکے: اب تو ہٹا آنکھ سے

بارِ جہاں کی سلیں!)

سطحِ خدا آئنہ اور رخ نیستی

محض ہیولائے ہست!

رات ذرا سر اٹھا، فرش سے چسپیدہ تو

جیسے کنویں سے نبات!

رات ذرا سر اٹھا، ہم کہ نہیں دشتِ صفر

ہم کہ عدم بھی نہیں!

سیر تری بے بہا اور ترا ہفت خواں

تاب میں کم بھی نہیں!

ہاتھ مگر شل ترے، تیرے قدم بھی نہیں!

اور اگر ہوں تو کیا؟

صبح کے بلّور پر کس کو میّسر ثبات؟

رات ذرا سر اٹھا

اور نہ کوتاہ کر اپنی مسافت کی راہ

کیوں ہے خیالوں میں گُم؟

کیسے خیالوں میں گُم؟

ن م راشد