ٹیگ کے محفوظات: راتیں

خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 78
چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی
خامشی میں بھی وہ باتیں اُس کی
میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں
شعر کہتی ہوئی آنکھیں اُس کی
شوخ لمحوں کا پتہ دینے لگیں
تیز ہوئی ہُوئی سانسیں اُس کی
ایسے موسم بھی گزارے ہم نے
صبحیں جب اپنی تھیں ،شامیں اُس کی
دھیان میں اُس کے یہ عالم تھا کبھی
آنکھ مہتاب کی،یادیں اُس کی
رنگ جوئندہ وہ،آئے تو سہی!
آنکھ مہتاب کی،یادیں اُس کی
فیصلہ موجِ ہَوا نے لکھا!
آندھیاں میری ،بہاریں اُس کی
خُود پہ بھی کُھلتی نہ ہو جس کی نظر
جانتا کون زبانیں اُس کی
نیند اس سوچ سے ٹوٹی اکثر
کس طرح کٹتی ہیں راتیں اُس کی
دُور رہ کر بھی سدا رہتی ہیں
مُجھ کو تھامے ہُوئے باہیں اُس کی
پروین شاکر

بے ملاقات ملاقاتیں ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 36
تجھ سے تنہائیوں میں باتیں ہوں
بے ملاقات ملاقاتیں ہوں
دل میں چاہت ہو بہت جینے کی
لب پہ مرنے کی منا جاتیں ہوں
رُخ تو بدلا ہے، مگر کیا معلوم!
راہِ دیگر میں نئی گھاتیں ہوں
ہے یہ ایسی ہی لڑائی جس میں
کبھی جیتیں ہوں کبھی باتیں ہوں
ہو فقیروں کو تونگر کر دیں
حسن کے نام پہ خیراتیں ہوں
دن کھلیں تازہ گلابوں جیسے
مے سے مہکائی ہوئی راتیں ہوں
جن سے صحرا بھی ہرے ہو جائیں
اس قدر ٹوٹ کے برسائیں ہوں
آفتاب اقبال شمیم

ختم ہونے پہ ہیں ملاقاتیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 22
کہہ رہی ہیں حضور کی باتیں
ختم ہونے پہ ہیں ملاقاتیں
کس کی راتیں، کہاں کی برساتیں
آپ کے ساتھ تھیں وہ سب باتیں
جانے کس ڈھب کی تھیں ملاقاتیں
اور بھی تلخ ہو گئیں راتیں
اور سے اور ہو گئی دنیا
جب ملیں حسن و عشق کی گھاتیں
عم زدوں کا ہے کام کیا باقیؔ
یا شکایات یا مناجاتیں
باقی صدیقی