ٹیگ کے محفوظات: ذات

سارے مرے منصوبے تھے اک بات کی حد تک

صد حیف رہے خواب و خیالات کی حد تک
سارے مرے منصوبے تھے اک بات کی حد تک
یہ شہر تمہارا مری بستی کے مقابل
اچھا ہے مگر صِرف عمارات کی حد تک
کر سکتے تماشا تو زمانے کو دکھاتے
لفظوں کے کمالات کرامات کی حد تک
آوارہ خرامی کی بھلا اب کسے فرصت
ہوتی ہے ملاقات ملاقات کی حد تک
خوشیوں میں تو کرتا ہوں شریک اوروں کو لیکن
رہتے ہیں مرے رنج مری ذات کی حد تک
ہوتے ہیں عموماَ یہ مِری دھُوپ کے دشمن
بادل مجھے خوش آتے ہیں برسات کی حد تک
دن دوگنی شب چوگنی کی ہم نے ترقی
کچھ راہنماؤں کے بیانات کی حد تک
افسوس کہ صاحب نے کیا اُن پہ بھروسہ
تھی جن کی وفاداری مراعات کی حد تک
اب حِکمتِ قرآن شب و روز میں اپنے
باقی ہے فقط قرأتِ آیات کی حد تک
ہر گام پہ تھا راہنما دین جو اپنا
محدود ہُوا صِرف عبادات کی حد تک
ڈرتا ہوں میں واعظ سے کہ اقبالؔ نہیں ہوں
شکوہ مرا ہوتا ہے مناجات کی حد تک
ہر چند مہذب کوئی ہم سا نہیں باصرؔ
بہکیں تو چلے جائیں خرافات کی حد تک
باصر کاظمی

تیرا میرا سات

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
پورا چاند اور رات
تیرا میرا سات
خوشبُو تک میں بھی
کیا کچھ ہیں درجات
کون کرے تسلیم
سچے حرف کی ذات
اِک ناد ر تصویر
پیڑ سے جھڑتے پات
کاشانوں کے پاس
سانپ لگائیں گھات
نشتر جیسی تیز
ماجد ؔ تیری بات
ماجد صدیقی

اَب نام ہمارے کوئی سوغات نہ آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
خوشبُو بھی صبا اُس کی لئے سات نہ آئے
اَب نام ہمارے کوئی سوغات نہ آئے
جو لہر بھی اُٹھتی ہو بھلے دل میں اُٹھے وُہ
ہونٹوں پہ مگر تُندیٔ جذبات نہ آئے
اک بار جھنجھوڑا ہو جِسے ابر و ہوا نے
اُس پیڑ پہ پھر لوٹ کے پھل پات نہ آئے
دیکھی تھی نشیمن کے اُجڑنے سے جو پہلے
ایسی بھی گلستاں میں کوئی رات نہ آئے
جو یاد بھی آئے، تو لرزتا ہے بدن تک
آنکھوں میں کہیں پھر وُہی برسات نہ آئے
ہر کوہ یہ کہتا ہے کہ آگے کبھی اُس کے
تیشے میں ہے جو لطفِ کرامات نہ آئے
کرنے کو شفاعت بھی یہ اچّھا ہے کہ ماجدؔ
نیّت ہے بُری جس کی وُہ بد ذات نہ آئے
ماجد صدیقی

بڑا دشوار ہے حق بات کہنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 98
چمن کی تیرگی کو رات کہنا
بڑا دشوار ہے حق بات کہنا
جو دھبے گرد کے اشجار پر ہیں
انہیں دھبے نہ کہنا پات کہنا
جو انساں کل فرشتہ تھا نظر میں
اُسے بھی پڑ گیا بد ذات کہنا
شریکِ راحت یاراں نہ ہونا
بجائے آفریں ہیہات کہنا
زباں پر حرفِ حق آئے اگر تو
اُسے تم تنُدیٔ جذبات کہنا
نہ خفت ماننا کوئی تم اپنی
ہماری جیت ہی کو مات کہنا
یہ دنیا ہے یہاں رہنے کو ماجدؔ
پڑے سچ جھوٹ سب اِک سات کہنا
ماجد صدیقی

کوئی صورت ہو کہ برسات کٹے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 106
دن ٹھہر جائے ، مگر رات کٹے
کوئی صورت ہو کہ برسات کٹے
خوشبوئیں مجھ کو قلم کرتی گئیں
شاخ در شاخ مرے ہات کٹے
موجہ ءِ گُل ہے کہ تلوار کوئی
درمیاں سے ہی مناجات کٹے
حرف کیوں اپنے گنوائیں جا کر
بات سے پہلے جہاں بات کٹے
چاند! آ مِل کے منائیں یہ شب
آج کی رات ترے سات کٹے
پُورے انسانوں میں گُھس آئے ہیں
سر کٹے ، جسم کٹے ، ذات کٹے
پروین شاکر

کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 68
نم ہیں پلکیں تری اے موجِ ہَوا، رات کے ساتھ
کیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھ
روٹھنے اور منانے کی حدیں ملنے لگیں
چشم پوشی کے سلیقے تھے، شکایات کے ساتھ
تجھ کو کھو کر بھی رہوں ،خلوتِ جاں میں تیری
جیت پائی ہے محبت نے عجب،مات کے ساتھ
نیند لاتا ہُوا،پھر آنکھ کو دُکھ دیتا ہُوا
تجربے دونوں ہیں وابستہ ہات کے ساتھ
کبھی تنہائی سے محروم نہ رکھّا مُجھ کو
دوست ہمدرد ہے،کتنے ،مری ذات کے ساتھ
پروین شاکر

کچھ اور رنگ ڈھنگ ہوا کائنات کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 16
جب سے عطا ہوا ہمیں خلعت حیات کا
کچھ اور رنگ ڈھنگ ہوا کائنات کا
شیشہ اتار، شکوے کو بالائے طاق رکھ
کیا اعتبار زندگیِ بے ثبات کا
لڑتے ہو جب رقیب سے کرتے ہو مجھ سے صلح
مشتاق یاں نہیں کوئی اس التفات کا
گر تیرے تشنہ کام کو دے خضر مرتے دم
پانی ہو خشک چشمۂ آبِ حیات کا
یاں خار و خس کو بے ادبی سے نہ دیکھنا
ہاں عالمِ شہود ہے آئینہ ذات کا
کہتے ہیں جان، جانتے ہیں بے وفا مجھے
کیا اعتبار ہے انہیں دشمن کی بات کا
واعظ جنوں زدوں سے نہیں باز پرسِ حشر
بس آپ فکر کیجئے اپنی نجات کا
جوشِ سرشکِ خوں کے سبب سے دمِ رقم
نامہ نہیں رہا یہ ورق ہے برات کا
اے مرگ آ ، کہ میری بھی رہ جائے آبرو
رکھا ہے اس نے سوگ عدو کی وفات کا
ایسے کے آگے شیفتہ کیا چل سکے جہاں
احسان ایک عمر رہے، ایک رات کا
مصطفٰی خان شیفتہ

بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 291
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی@
ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری
تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی
رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
نشو و نما ہے اصل سے غالب فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
@ نسخۂ مہر میں "کو”
مرزا اسد اللہ خان غالب

خاموش ان لبوں سے کوئی بات ہو تو ہو

دیوان پنجم غزل 1716
راہیں رکے پر اس سے ملاقات ہو تو ہو
خاموش ان لبوں سے کوئی بات ہو تو ہو
رنج و عنا کہ دشمن جان عزیز ہیں
ان سے بچائو اس کی عنایات ہو تو ہو
نومید وصل دل نہیں شب ہاے ہجر میں
ان راتوں ہی میں ملنے کی بھی بات ہو تو ہو
امید ہے کہ اس سے قیامت کو پھر ملوں
حسن عمل کی واں بھی مکافات ہو تو ہو
تخفیفے شملے پیرہن و کنگھی اور کلاہ
شیخوں کی گاہ ان میں کرامات ہو تو ہو
ساقی کو چشم مست سے اودھر ہی دیکھنا
مسجد ہو یا کہ کعبہ خرابات ہو تو ہو
منکر نہیں ہے کوئی سیادت کا میر کی
ذات مقدس ان کی یہی ذات ہو تو ہو
میر تقی میر

کبھو کے دن ہیں بڑے یاں کبھو کی رات بڑی

دیوان سوم غزل 1287
حدیث زلف دراز اس کے منھ کی بات بڑی
کبھو کے دن ہیں بڑے یاں کبھو کی رات بڑی
کبھو جو گالی ہمیں دیتے ہو کرو موقوف
تمھاری بس ہیں یہی ہم پر التفات بڑی
دخیل ذات نہیں عشق میں کہ میر کو دیکھ
ذلیل کیسے ہیں ان کی ہے گوکہ ذات بڑی
میر تقی میر

ملنا اپنا جو ہوا اس سے سو وہ بات کی بات

دیوان دوم غزل 778
دیر کچھ کھنچتی تو کہتے بھی ملاقات کی بات
ملنا اپنا جو ہوا اس سے سو وہ بات کی بات
گفتگو شاہد و مے سے ہے نہ غیبت نہ گلہ
خانقہ کی سی نہیں بات خرابات کی بات
سن کے آواز سگ یار ہوئے ہم خاموش
بولتے واں ہیں جہاں ہووے مساوات کی بات
منھ ادھر اور سخن زیرلبی غیر کے ساتھ
اس فریبندہ کی ناگفتنی ہے گھات کی بات
اس لیے شیخ ہے چپکا کہ پڑے شہر میں شور
ہم سمجھتے ہیں یہ شیادی و طامات کی بات
یہ کس آشفتہ کی جمعیت دل تھی منظور
بال بکھرے ترے منھ پر کہیں ہیں رات کی بات
گفتگو وصفوں سے اس ماہ کے کریے اے میر
کاہش افزا ہے کروں اس کی اگر ذات کی بات
میر تقی میر

نکلے ہے جی ہی اس کے لیے کائنات کا

دیوان دوم غزل 664
ہر ذی حیات کا ہے سبب جو حیات کا
نکلے ہے جی ہی اس کے لیے کائنات کا
بکھری ہے زلف اس رخ عالم فروز پر
ورنہ بنائو ہووے نہ دن اور رات کا
در پردہ وہ ہی معنی مقوم نہ ہوں اگر
صورت نہ پکڑے کام فلک کے ثبات کا
ہیں مستحیل خاک سے اجزاے نوخطاں
کیا سہل ہے زمیں سے نکلنا نبات کا
مستہلک اس کے عشق کے جانیں ہیں قدر مرگ
عیسیٰ و خضر کو ہے مزہ کب وفات کا
اشجار ہوویں خامہ و آب سیہ بحار
لکھنا نہ تو بھی ہوسکے اس کی صفات کا
اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور
شمع حرم ہو یا کہ دیا سومنات کا
بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ
ہے دید چشم دل کے کھلے عین ذات کا
ہر صفحے میں ہے محو کلام اپنا دس جگہ
مصحف کو کھول دیکھ ٹک انداز بات کا
ہم مذنبوں میں صرف کرم سے ہے گفتگو
مذکور ذکر یاں نہیں صوم و صلوٰت کا
کیا میر تجھ کو نامہ سیاہی کا فکر ہے
ختم رسل سا شخص ہے ضامن نجات کا
میر تقی میر

حسن قبول کیا ہو مناجات کے تئیں

دیوان اول غزل 330
تا پھونکیے نہ خرقۂ طامات کے تئیں
حسن قبول کیا ہو مناجات کے تئیں
کیفیتیں اٹھے ہیں یہ کب خانقاہ میں
بدنام کر رکھا ہے خرابات کے تئیں
ڈریے خرام ناز سے خوباں کے ہمنشیں
ٹھوکر سے یہ اٹھاتے ہیں آفات کے تئیں
ہم جانتے ہیں یا کہ دل آشنا زدہ
کہیے سو کس سے عشق کے حالات کے تئیں
خوبی کو اس کے ساعد سیمیں کی دیکھ کر
صورت گروں نے کھینچ رکھا ہات کے تئیں
اتنی بھی حرف ناشنوی غیر کے لیے
رکھ کان ٹک سنا بھی کرو بات کے تئیں
سید ہو یا چمار ہو اس جا وفا ہے شرط
کب عاشقی میں پوچھتے ہیں ذات کے تئیں
آخر کے یہ سلوک ہم اب تیرے دیکھ کر
کرتے ہیں یاد پہلی ملاقات کے تئیں
آنکھوں نے میر صاحب و قبلہ ورم کیا
حضرت بکا کیا نہ کرو رات کے تئیں
میر تقی میر

صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 12
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہات میں تیرا ہات نہیں
صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں
مشکل ہے اگر حالات وہاں، دل بیچ آئیں جاں دے آئیں
دل والو کوچہء جاناں میں‌کیا ایسے بھی حالات نہیں
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان توآنی جانی ہے ، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
میدانِ وفا دربار نہیں یاں‌ نام و نسب کی پوچھ کہاں
عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گرجیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں
فیض احمد فیض

مجذوب ذرا سیر مقامات میں گم ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 328
ناچیز بھی خوباں سے ملاقات میں گم ہے
مجذوب ذرا سیر مقامات میں گم ہے
کیا شمع جلاتا ہے کہ اے دولتِ شب تاب
کل صبح کا سورج تو تری گات میں گم ہے
کھلتے ہی نہیں لمس پہ اس جسم کے اسرار
سیاح عجب شہرِ طلسمات میں گم ہے
میں ڈوب گیا جب ترے پیکر میں تو ٹوٹا
یہ وہم کو تو خود ہی مری ذات میں گم ہے
یا حسن ہی اس شہر میں کافر نہیں ہوتا
یا عشق یہاں عزتِ سادات میں گم ہے
عرفان صدیقی

ستم گروں کی مدارات کرتا رہتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 145
انہیں کی شہ سے انہیں مات کرتا رہتا ہوں
ستم گروں کی مدارات کرتا رہتا ہوں
یہاں کوئی نہیں سنتا حدیثِ دل زدگاں
مگر میں اور طرح بات کرتا رہتا ہوں
بھلا یہ عمر کوئی کاروبارِ شوق کی ہے
بس اک تلافیِ مافات کرتا رہتا ہوں
یہ کائنات مرے بال و پر کے بس کی نہیں
تو کیا کروں سفرِ ذات کرتا رہتا ہوں
یہیں پہ وارِ حریفاں اٹھانا پڑتا ہے
یہیں حسابِ مساوات کرتا رہتا ہوں
عجب نہیں کسی کوشش میں کامراں ہوجائیں
محبتوں کی شروعات کرتا رہتا ہوں
ہمیشہ کاسۂ خالی چھلکتا رہتا ہے
فقیر ہوں سو کرامات کرتا رہتا ہوں
عرفان صدیقی

دھند تھی دنیا شعورِ ذات سے پہلے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 560
ساتھ نہ تھا کوئی اپنے ساتھ سے پہلے
دھند تھی دنیا شعورِ ذات سے پہلے
بزمِ سخن یعنی چہرہ بول پڑا تھا
غم کی تلاوت تھی، حمد و نعت سے پہلے
نیند بھری رات ! انتظار کسی کا
ہوتا تھا ترکِ تعلقات سے پہلے
کہتے ہیں خالی نگر میں رہتی ہیں روحیں
لوٹ چلیں گھر کو آؤ رات سے پہلے
کیسا تھا سناٹا تیرے عہدِ عدم میں
کیسی خموشی تھی پہلی بات سے پہلے
خواب تھے پنہاں شکستِ زعم میں شاید
فتح کی باتیں کہاں تھیں مات سے پہلے
منصور آفاق

رہ رہے ہیں رات میں ہم رات کے مارے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 511
جا نہیں سکتے کہیں ظلمات کے مارے ہوئے
رہ رہے ہیں رات میں ہم رات کے مارے ہوئے
رات کے پچھلی گلی میں ایک میں اور ایک چاند
جاگتے پھرے ہیں دو حالات کے مارے ہوئے
دیدۂ شب میں پہن کر بارشوں کے پیرہن
پھر رہے ہیں موسمِ برسات کے مارے ہوئے
لوگ تھے اور فیض جاری تھی کسی درگاہ پر
لوٹ آئے ہم شعورِ ذات کے مارے ہوئے
ہم بھارت اور پاکستان کے منصور لوگ
دونوں کشمیری علاقہ جات کے مارے ہوئے
منصور آفاق

پھر ایک پوری دیانت سے رات پوری کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 465
اک ایک سایہ ء ہجراں کے ساتھ پوری کی
پھر ایک پوری دیانت سے رات پوری کی
میں ایک کُن کی صدا تھا سو عمر بھر میں نے
ادھوری جو تھی پڑی کائنات پوری کی
عجیب عالمِ وحشت، عجیب دانائی
کبھی بکھیرا، کبھی اپنی ذات پوری کی
تھلوں کی ریت میں بو بو کے پیاس کے کربل
پھر آبِ سندھ نے رسمِ فرات پوری کی
پلک پلک پہ ستارے رکھے سہاگ کی رات
نہ پوچھ چاند کی کیسے برات پوری کی
کئی برس سے ادھوری پڑی تھی، سو میں نے
یہ مانگ تانگ کے سانسیں ، حیات پوری کی
یہ اور بات کہ دل میں اتر گیا پھر بھی
کسی سے ملتے ہوئے احتیاط پوری کی
یہ اور بات کہ آنسو ورق ورق پہ رکھے
کتابِ فلسفہء انبساط پوری کی
یہ اور بات کہ کام آ گئی کوئی نیکی
اُس اجنبی نے مگر واردات پوری کی
ہزار کہہ کے بھی میں کچھ نہ کہہ سکا منصور
کہا نہ کچھ بھی مگر اس نے بات پوری کی
منصور آفاق

چلتی ہے کتنے پہر کسی ذات کی گھڑی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 460
کچھ کہہ رہی ہے مجھ سے ترے ہاتھ کی گھڑی
چلتی ہے کتنے پہر کسی ذات کی گھڑی
لیکن میں روک سکتانہیں رات کی گھڑی
دیوار پر لگادی ہے اوقات کی گھڑی
باہر سے لوٹ جائے وہ مہتاب کی کرن
اب ختم ہوچکی ہے ملاقات کی گھڑی
اچھی ہیں یار کی متلون مزاجیاں
ممکن ہے پھر وہ آئے مدارات کی گھڑی
بہتا ہے میرے سینے میں اک چشمۂ دعا
ٹھہری ہوئی ہے مجھ میں مناجات کی گھڑی
یہ اور بات دیکھ کے پہچانتے نہیں
آتی ہے روز، روزِ مکافات کی گھڑی
دیکھو ازل نژاد ہے چلتی ہوئی ہوا
سمجھو ابد خرام ہے آیات کی گھڑی
اب ختم ہورہی ہے مشقت نصیب کی
چلنے پہ آگئی ہے حوالات کی گھڑی
گھڑیال مسجدوں کے بتاتے ہیں اور وقت
کچھ اور کہہ رہی ہے سماوات کی گھڑی
اعمال دیکھ کر مرے آقائے لوح نے
امت سے چھین لی ہے فتوحات کی گھڑی
منصور بہہ رہا ہے مرے وقت سے لہو
چلتی سدا ہے زخم میں حالات کی گھڑی
منصور آفاق

پھر بھی میں ہوں جلتی بجھتی روشنی کے ساتھ ساتھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 405
چل رہی ہے زندگی کی اک بھیانک رات ساتھ
پھر بھی میں ہوں جلتی بجھتی روشنی کے ساتھ ساتھ
میں نے سوچا کیا کہیں گے میرے بچپن کے رفیق
اور پھر رختِ سفر میں رکھ لیے حالات ساتھ
میں اکیلا رونے والا تو نہیں ہوں دھوپ میں
دے رہی ہے کتنے برسوں سے مرا برسات ساتھ
چاہیے تھا صرف تعویذِ فروغِ کُن مجھے
دے دیا درویش نے اذنِ شعورِ ذات ساتھ
یہ خزاں زادے کہیں کیا گل رتوں کے مرثیے
یونہی بے مقصد ہواؤں کے ہیں سوکھے پات ساتھ
ایک بچھڑے یار کی پرسوز یادوں میں مگن
کوئی بگلا چل رہا تھا پانیوں کے ساتھ ساتھ
منصور آفاق

میں خدا اور کائنات

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 3
چل رہے ہیں ایک ساتھ
میں خدا اور کائنات
عرش پر بس بیٹھ کر
کن فکاں کا چرخہ کات
مرد و زن کا اجتماع
بیچ صدیوں کی قنات
دو وجودوں میں جلی
سردیوں کی ایک رات
بند ذرے میں کوئی
کائناتی واردات
آسیا میں قطب کی
سو گئیں سولہ جہات
پانیوں پر قرض ہے
فدیۂ نہر فرات
تُو پگھلتی تارکول
میں سڑک کا خشک پات
تیرا چہرہ جاوداں
تیری زلفوں کو ثبات
رحمتِ کن کا فروغ
جشن ہائے شب برات
شب تھی خالی چاند سے
دل رہا اندیشوں وات
نت نئے مفہوم دے
تیری آنکھوں کی لغات
آنکھ سے لکھا گیا
قصۂ نا ممکنات
گر پڑی ہے آنکھ سے
اک قیامت خیز بات
تیرے میرے درد کا
ایک شجرہ، ایک ذات
کٹ گئے ہیں روڈ پر
دو ہوا بازوں کے ہاتھ
لکھ دی اک دیوار پر
دل کی تاریخِ وفات
موت تک محدود ہیں
ڈائری کے واقعات
منصور آفاق

جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 42
اب وہ اگلا سا التفات نہیں
جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں
رنج كيا كيا ہیں ایك جان کے ساتھ
زندگی موت ہے حیات نہیں
کوئی دلسوز ہو تو کیجے بیاں
سرسری دل کی واردات نہیں
ذرہ ذرہ ہے مظہر خورشید
جاگ اے آنکھ دن ہے رات نہیں
قیس ہو، كوہكن ہو، يا حالی
عاشقی کچھ كسي کی ذات نہیں
الطاف حسین حالی

انگڑائی لے کے موج خرابات رہ گئی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 158
ان کے لبوں پر آ کے مری بات رہ گئی
انگڑائی لے کے موج خرابات رہ گئی
پھر رخ بدل دیا غم ہستی نے دہر کا
پھر زیر بحث آ کے تری ذات رہ گئی
ہونے کو ان سے سینکڑوں باتیں ہوئیں مگر
جس بات کا گلہ تھا وہی بات رہ گئی
باقیؔ کسی سے ان کی شکایت نہ کر سکے
کچھ یوں بدل کے صورت حالات رہ گئی
باقی صدیقی